سید امجد شاہ
جموں//ہند۔پاک سرحد پر امن بین الاقوامی سرحد پر دہائیوں سے رہنے والے دیہاتیوں کے ذہنوں میں خوف کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مالی طور پر مضبوط خاندانوں کو قصبوں اور جموں شہر جیسے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔192 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد کٹھوعہ سے شروع ہوتی ہے اورسانبہ جموں سے ہوتی ہوئی اکھنور بیلٹ پر ختم ہوتی ہے۔سرحدی دیہات کے پیچھے رہنے والے ہمیشہ پوری چوکسی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کے باوجود وہ مشکل سے ہی پرسکون ذہن کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ دیہاتی ڈرون سرگرمیوں، زیر زمین سرنگوں اور سرحدی منشیات کی سمگلنگ پر ہمیشہ نظر رکھتے تھے جس سے سیکورٹی فورسز کو ملک دشمن عناصر پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔سرحدی کسان یونین (BKU) صدر سانبہ موہن سنگھ بھٹی نے کہاکہ زرعی کھیت سب سے زیادہ زرخیز ہیں لیکن کسانوں کو شکایت ہے کہ وہ زیادہ تر وقت باڑ سے آگے کی زمین پر کاشت کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ پاک رینجرز کی فائرنگ کے خوف سے باڑ کے داخلی دروازے ایک جگہ سے دوسری جگہ بہت دور ہوتے ہیں۔ بھٹی رام گڑھ تحصیل میں بین الاقوامی سرحد کے قریب جیردا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کٹھوعہ، سانبہ اور جموں کے سرحدی دیہاتوں میں زندگی ان لوگوں کے لیے آسان کام نہیں ہے جو خاندانوں اور مویشیوں کے ساتھ مسلسل خطرے میں رہتے ہیں۔بھٹی نے سرحد پر ڈرون پروازوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اور منشیات کی سمگلنگ کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’بین الاقوامی سرحد عام طور پر پرامن رہتی ہے لیکن صورتحال غیر متوقع طور پر خوفناک ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں پاکستانی رینجرز نے ارنیا میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ خوف اور امن دونوں ہماری زندگی کے اہم پہلو بن چکے ہیں”۔انہوں نے کہا کہ سرحدی باشندوں کی حیثیت سے یہ ہماری عادت بن گئی ہے کہ ہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں اور کھیتوں اور اپنے دیہات میں مشکوک سرگرمیوں کو نوٹ کریں۔ اگر ہم سرحدی گاؤں میں کوئی باہر کا (دیہاتی نہیں) بے مقصد گھومتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم فوری طور پر سیکورٹی ایجنسیوں کو اطلاع دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ امن کے وقت میں بھی چوکسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا لیکن جب بھی ہم کھیتوں میں جاتے ہیں تو یہ ہمیشہ تمام لوگوں کے لیے برقرار رہتا ہے۔انکاکہناتھا”ہم کھیتوں میں کام کرتے ہوئے زیر زمین سرنگوں اور دیگر مشکوک چیزوں کی تلاش کرتے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں اور مقامی پولیس تعاون کرتے ہیں اور جب بھی ہم انہیں کسی بھی چیز کے بارے میں مطلع کرتے ہیں تو وہ فوراً جواب دیتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ “اگرچہ زیادہ تر وقت آئی بی پرامن رہتا ہے، ہمیں رات کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس سے ہمارے معمول کے کام متاثر ہوتے ہیں اور کام میں تاخیر ہوتی ہے یہاں تک کہ یہ ایک دن میں مکمل ہو سکتا ہے۔صورتحال نے لوگوں کی معمول کی زندگی کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہوئی۔ تعلیم کی سطح بہت خراب ہے۔ گاؤں والوں کو ان کے کھیتوں میں نہری پانی نہیں مل رہا ہے اور ہمارے کھیتوں کو پانی دینے کے لیے موٹریں چلانے کے لیے بجلی بھی چوبیس گھنٹے دستیاب نہیں ہے‘‘ ۔اپنی جان کو لاحق خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح مالی طور پر خوشحال خاندان سرحدی دیہاتوں سے نکل کر وجے پور قصبہ اور جموں شہر میں آباد ہوئے جب کہ وہ پاکستان کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔انہوںنے مزید کہا”بہت سے سرحدی دیہاتوں کے پاس چھپنے کے لیے کوئی بنکر نہیں ہیں‘‘۔اسی دوران بی کے یو کے جنرل سکریٹری اور سابق سرپنچ پریم پال، جو بین الاقوامی سرحد پر زیرو لائن پر بروٹہ کیمپ میں رہتے ہیں، نے فون پر بات کی اور کہا کہ خوف ہماری زندگی کا حصہ ہے اور یہ 12 ماہ تک ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ انکاکہناتھا”ایک بار ہمارے گاؤں میں ایک تقریب تھی اور نوجوان ایک گھر کی چھت پر موسیقی کی دھن پر رقص کر رہے تھے جب ان کی نظر ایک ڈرون پر پڑی۔ ہم سب نے سیکورٹی فورسز کو الرٹ کیا اور اس کے مطابق ان کی طرف سے اقدامات اٹھائے گئے”۔ انہوں نے کہاکہ کس طرح وہ غیر دانستہ طور پر ملک کے تحفظ کے لیے سول کپڑوں میں سپاہی بن گئے۔انہوں نے کہاکہ بنکروں کی فوری طور پر سرحدی دیہاتوں یعنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ فرد کے لیے بھی ضرورت ہے۔انہوںنے دعویٰ کیا”میرے گاؤں میں کوئی انفرادی بنکر نہیں ہے لیکن ایک کمیونٹی بنکر ابھی تک زیر تعمیر ہے، باوجود اس کے کہ صورت حال غیر متوقع ہے۔ اسی طرح کمور کیمپ، کیسو، پکھڑی، خان پور، کجیال، بجوتی اور دیگر دیہاتوں میں بھی بنکر نہیں ہیں حالانکہ وہ بھی سرحد کے قریب ہیں‘‘۔انہوں نے یاد دلایا کہ سیاستدانوں نے انہیں محفوظ مقامات پر 5 مرلہ زمین دینے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے دوران ہنگامی طور پر باہر نکلنے کی صورت میں اہل خانہ حکام پر انحصار کرتے رہے۔ڈی ڈی سی سچیت گڑھ ترنجیت سنگھ ٹونی نے کہا کہ “سچیت گڑھ اور دیگر سرحدی دیہاتوں کے سرحدی دیہاتیوں کے لیے خوف کی نفسیات زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔ وہ ایک قسم کی دفاع کی پہلی لائن بن گئے ہیں کیونکہ وہ سرحد کے قریب رہتے ہیں لیکن فوج سے آگے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کو مستقل طور پر یقینی نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ پاکستان بلا اشتعال امن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ٹونی نے کہا”کاشتکار، اپنے کھیتوں/زرعی زمین کے بارے میں بھی فکر مند ہیں، اس باڑ کے آگے آتے ہیں جہاں جنگلی گھاس اگ گئی ہے اور یہ جنگلی جانوروں کا گھر بن گیا ہے۔ چونکہ وہ اس زمین کو استعمال نہیں کر سکتے، حکومت کو انہیں معاوضہ دینا چاہیے کیونکہ ان میں سے بہت سے بے زمین ہو چکے ہیں‘‘۔انہوں نے اپنے حلقے یعنی سچیت گڑھ میں بنائے گئے بنکروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنکر گندے پانی سے بھرے ہوئے ہیں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی بھی پناہ نہیں لے سکتا۔
ہندپاک سرحد پر امن سرحدی آبادی میں خوف کا ماحول ختم کرنے میں ناکام