سرینگر // بھارت اور پاکستان کے درمیان2003میں فائر بندی کے معاہدے کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانے پر اتفاق کرنے کے 6ماہ مکمل ہو چکے ہیں ۔24-25 فروری کی درمیانی شب دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ بند پر عملدر آمد کرنے پر اتفاق کیا تھا اور جنگ بندی سے متعلق معاہدوں پر عمل کرنے کا ایک دوسرے کو یقین دلایا تھا ۔اس جنگ بندی معاہدہ کے بعد نئے سرے سے ہند وپاک کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور کسی بھی سرحدی علاقے میں نہ کہیں کوئی گولہ باری ہوئی اور نہ کہیں فائرنگ کا کوئی واقع پیش آیا ہے۔ جنگ بند ی معاہدہ میں دونوں ممالک نے ہاٹ لائن کے قیام اور فلیگ میٹنگز کے ذریعے اعتماد سازی کے اقدامات یا اعتماد بڑھانے کے اقدامات کی بھی بات کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں غلطی سے سرحد عبور کر کے آنے جانے والے لوگوں کو واپس اپنے اپنے وطن بھیجا گیا ہے اور پاکستان اور ہندستان کی افواج نے 14اور15اگست کے موقعہ پر ایک دوسرے کو مٹھائیاں تقسیم کیں۔کم سے کم گذشتہ ایک دہائی سے اس طرح کی صورتحال نہیں دیکھی جارہی تھی۔اگر چہ بین الاقوامی سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج جذبہ خیر سگالی کے تحت یوم آزادی کے موقعہ پر مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے ہیں لیکن لائن آف کنٹرول پر صرف گولہ باری ، شلنگ اور فائرنگ کے واقعات ہی دیکھے جاسکتے تھے۔لیکن فائر بندی کے بعد ایک بار پھر ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ ہو، یا اوڑی ،پونچھ ہو یا چکاداں باغ کراسنگ پوائنٹ دونوں ملکوں کی افواج نے ایک دوسرے کیلئے نیک خواہشات کا اظہا کیا۔ اب سرحدوں پر ماحول مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ سرحدی بستیوں میں ہر سو خوشی و شادمانی کا سماں بندھا ہوا دکھائی دیتاہے۔جموں و کشمیر کے سرحدوں پر تعینات دونوں ممالک کے فوجی جوان اگرچہ جدید اسلحہ سے لیس ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر گولیوں کی بجائے اب پھول برسا رہے ہیں اور آپس میں محبت بانٹ رہے ہیں۔جموں کا سوچت گڑھ ہو یا پھر کرناہ کا ٹیٹوال اور سیماری علاقہ ہو، وہاں پر بھی اب فوج دونوں اطرف لوگوں کو تصویریں کھینچتے کی کھلی چھوٹ دے رہی ہے ،بنا کسی ڈر کے لوگ کھیتی باڑی کررہے ہیں ۔معلوم رہے کہ سرحدی علاقوں میں گولہ باری سے لوگوں کی
زندگیاں اجیرن بن چکی تھی اور لوگ ہجرت کر کے دوسرے محفوظ مقامات کا رخ کرتے تھے ۔لیکن اب لوگ واپس اپنے اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں ،جہاں وہ بنجر زمینوں کو پھر سے لہلہانے لگے ہیں ۔امن معاہدہ کے ساتھ ہی سرحدی علاقوں میں مقیم لوگوں کی یہ مانگ بھی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ کیرن اور ٹیٹوال کو باڈر ٹورازم کے دائرے میں لایا جائے ۔کیونکہ ان سرحدی علاقے میں سیز فائدمعاہدہ کی کوئی بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے ۔ ٹیٹوال دیکھنے کیلئے ان دنوں بڑی تعداد میں لوگ جانا چاہتے ہیں لیکن انتظامیہ کی طر سے انہیں اجازت دینا مسئلہ بن رہا ہے۔ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ کے نزدیک ایک کیفٹیریا کی عمارت بھی تعمیر کی جا چکی ہے تاکہ وہاں سیاحوں کو سہولیات میسر ہو سکے لیکن یہ کیفٹیریا بھی پچھلے تین برسوں سے تالا بند ہے ۔