نئی دہلی//فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ ہندستان کو فلسطین کو کے مسئلے پر بین الاقوامی مذاکرات میں شامل ہونا چاہئے تا کہ دو ریاستی فارمولہ کو عملی جا مہ پہنا یا جا سکے۔ فلسطین اور اسرائیل کی ریاستیں تب ہی قائم ہوسکے گے جب وہ تمام بین الاقوامی برادری اس کی حمایت میں آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کا دورہ اس لئے بھی اہم ہے وہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے ہندستان کی حمایت حاصل کریں گے۔ ہندستان فلسطینیوں کا ہمیشہ ہمدرد رہا ہے۔ صدر پرنب مکھرجی اور وزیراعظم نریندرمودی فلسطینیوں کو اقتصادی مددبھی کررہے ہیں۔ راشٹر پتی بھون پہنچے تو صدر پرنب مکھرجی کے علاوہ وزیراعظم نے وہاں ان کا استقبال کیا ۔ بعد میں انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا ۔ یہ محمود عباس کا ہندستان کا تیسرا دورہ ہے۔ اور اس لئے بھی اہم کیونکہ وزیراعظم جولائی میں اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندستان نے ہمیشہ فلسطینی موقف کی حمایت کی ہے اور وہ فلسطین کے لوگوںکو مالی اور تکنیکی مددبرار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ محمود عباس ہمارے اہم مہمان ہیں۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے دروان کئی اہم سمجھوتوں پر تبادلہ خیال ہوا ۔ صدر پرنب مکھرجی ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے وہ مختلف سیاسی رہنمائوں کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔ راشٹرپتی بھون کی تقریب کے فوراً بعد محمود عباس راج گھاٹ گئے جہاں انہو ںنے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ انہوں کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کی پوری حمایت کریں گے۔ بعد میں فلسطینی رہنما اور وزیر اعظم نریندرمودی نے حیدرآباد ہائوس میںمشرقی وسطیٰ کے حالات اور دوسرے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندستان ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ رہا ہے۔