عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس اقلیتی سیل صوبہ کشمیر کا ایک غیر معمولی اجلاس کل پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں منعقد ہوا، جس کی صدارت پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کا قیام ہی مساوات، انصاف، سیکولر اقدار اور عوامی بھائی چارے کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کیلئے عمل میں آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے آئین اور تاریخی ’’نیا کشمیر‘‘ پروگرام میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے، ہر شعبۂ زندگی میں مناسب نمائندگی دینے اور ان کے مذہبی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی تشخص کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اس نظریے کو عملی جامہ پہنایا اور کبھی بھی مذہب، ذات یا برادری کی بنیاد پر تفریق کی سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کا تاریخی نعرہ ’’ہندو، مسلم، سکھ اتحاد‘‘ آج بھی نیشنل کانفرنس کی سیاست اور نظریے کی بنیاد ہے اور یہی اتحاد جموں و کشمیر کی اصل طاقت اور شناخت ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنی حکومتوں کے دوران ایسے تاریخی اور انقلابی اقدامات کئے جن سے تمام طبقوں بالخصوص اقلیتوں کو عزت، تحفظ اور مساوی حقوق حاصل ہوئے۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور بالخصوص کشمیری مسلمانوں نے ہر مشکل اور پُرآشوب دور میں اقلیتی برادری کے جان و مال کے تحفظ کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور بھائی چارے، رواداری اور انسانیت کی اعلیٰ روایات کو ہمیشہ زندہ رکھا ہے۔ اقلیتی سیل کی طرف سے 11جولائی کے پروگرام میں شمولیت کے حوالے سے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی۔