کسی بھی گھر، ادارے، دفتر یا ملک کا مستقبل اُس کی سربراہی کے معیار پر منحصر ہوتا ہے۔ جہاں ایماندارانہ، رحم دِلانہ اوردِلدارانہ سربراہی ہو، وہاں امن و امان، ترقی اور خوشحالی کا بول بالاہوتا ہےاور جہاں خودغرضانہ ،تغافلانہ،من پسندانہ اور غیرذمہ دارانہ سربراہی ہوتی ہے، وہاں کی صورت حال آہستہ آہستہ زوال پذیرانہ ہوجاتی ہے۔بے شک سربراہی کی ابتداء گھر سے ہی ہوتی ہے۔ والدین بچوں کے پہلے سربراہ ہوتے ہیں۔ اگر والدین محبت، نظم و ضبط، ایمانداری اور صبر کے ساتھ گھر چلاتے ہیں تو بچے ذمہ دار بنتے ہیں۔ لیکن اگر گھر کے سربراہ خوف، غصے، امتیاز یا لاپرواہی پر قائم ہوں تو بچوں کی شخصیت متاثر ہوتی ہے اور وہی اثر آگے معاشرے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔تعلیمی اداروں میں سربراہ ہی طلاب کا مستقبل بناتا ہے۔
پرنسپل، ڈین، وائس چانسلر یا اُستاد کا کام صرف فائلیں، ٹائم ٹیبل اور امتحانات دیکھنا نہیں ہوتا بلکہ اُن کا اصل کام طلاب میں کردار، جستجو، نظم و ضبط اور خود اعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر تعلیمی ادارے کے سربراہ مخلص اور قابل ہوں تو طلاب کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیںاور اگرسربراہ، لاپرواہ یا سمجھوتہ کرنے والے ہوں تو ادارہ صرف ایک عمارت بن کر رہ جاتا ہے۔اسی طرح دفتر وںمیں سربراہ ہی کام کاج کے ماحول کو سنوارتے یا بگاڑتے ہیں۔ ایک اچھا مینیجر ٹیم ورک کو فروغ دیتا ہے، محنت کی قدر کرتا ہے، واضح ہدایات دیتا ہے اور ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،جبکہ ایک کمزور مینیجر دفتر میں خوف، سیاست، الجھن اور مایوسی پیدا کرتا ہے۔ کئی قابل لوگ اس لئے ناکام نہیں ہوتے کہ اُن میں صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ اس لئے ناکام ہوتے ہیں کہ وہ کمزور رسربراہ کے تحت کام کرتے ہیں۔اسی طرح ملک کی سطح پر سربراہی سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ قومی سربراہ صرف ایک گھر یا دفتر نہیں چلاتا، بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگی، اُمیدوں اور مستقبل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ایک ملک میں مختلف زبانیں، مذاہب، علاقے، طبقات اور خیالات کے لوگ رہتے ہیں۔ ایسے میں قومی سربراہ کے لئے بہت زیادہ دانش مندی، برداشت، آئین کا احترام اور وسیع سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک قومی سربراہ کو کسی ایک گروہ کا نمائندہ نہیں بلکہ پورے ملک کا محافظ ہونا چاہیے۔ظاہر ہے کہ سربراہی صرف مقبولیت، دولت، خاندانی پس منظر، ذات، برادری یا جذباتی نعروں کی بنیاد پر نہیں دی جاتی،بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ عہدہ جتنا بڑا ہو، سربراہ کی سمجھ، تجربہ، اخلاقی معیار اور ذمہ داری بھی اُتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔گویااسکول کا سربراہ تعلیم کو اصل مفہوم کو سمجھتا ہو، اسپتال کا سربراہ صحت کے نظام سے واقف ہو، کاروباری ادارے کا سربراہ انتظام اور مالیات کو سمجھنے کا اہل ہو اور سیاسی سربراہ آئین، قانون، معیشت، سماجی ہم آہنگی، خارجہ تعلقات اور انسانی حقوق سے پوری طرح بہرہ ور ہو۔
یاد رکھیں کہ سربراہ کی کم از کم قابلیت میں صرف تعلیمی سند نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، انتظامی صلاحیت، گفتگو کی مہارت، بحران سے نمٹنے کی صلاحیت اور عوامی خدمت کا تجربہ بھی شامل ہوناضروری ہے۔ سربراہ کو صرف تقریروں سے نہیں بلکہ اس کے عمل سے پرکھا جانا چاہیے۔اگررہنما نااہل، کمزور، بدعنوان یا سمجھوتہ کرنے والا ہو تو نقصان تیزی سے پھیلتا ہے۔ گھر میں خراب سربراہ بد نظمی پیدا کرتی ہے، ادارے میں ناقص سربراہی معیار گرا دیتی ہے۔ دفتر میں کمزور رسربراہی سے کام کاج کی رفتار کم کرہوجاتی ہے۔ ملک میں خراب سربراہی جمہوریت، معیشت، امن اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچا تی ہے اورنااہل سربراہ کسی بھی فیصلے میں دور اندیشی کے بجائےکوتاہ اندیشی کامظاہرہ کرتا ہے۔
بدعنوان سربراہ عوامی مفاد کو ذاتی فائدے کے لئے قربان کر دیتا ہے ، متعصب رہنما لوگوں کو تقسیم کرتا ہے، مغرور رہنما کسی کا مشورہ نہیں سنتاہے اور کمزور رہنما دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں نقصان عوام کو ہی اُٹھانا پڑتا ہے۔المختصراچھی سربراہی کم وسائل کے باوجود قوم کو آگے لے جا سکتی ہے، جبکہ خراب سربراہی بڑے وسائل کے باوجود قوم وملک کو پیچھے دھکیل سکتی ہے۔بغور جائزہ لیا جائے تو موجودہ دور میںدنیا بھر میں زندگی کےجس شعبے پر نظر ڈالی جائے تو ہر جگہ ،ہر سطح پر ہر معاملے میں اچھی قیادت کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔
����������������