شفیع نقیب
صحت کسی بھی مہذب اور فلاحی ریاست کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کی جان، صحت اور علاج معالجے کی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لے، وہی حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کی دعوے دار ہو سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے میں بظاہر قابل ذکر ترقی ہوئی ہے۔ نئے ہسپتال قائم ہوئے، جدید عمارتیں تعمیر کی گئیں، سپر اسپیشلٹی مراکز وجود میں آئے اور مختلف طبی بیمہ اسکیمیں متعارف کرائی گئیں۔ لیکن اگر زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، خصوصاً غریب، نادار اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریضوں کے لئے۔
سرینگر کے شیرین باغ میں قائم سپر اسپیشلٹی ہسپتال سے عوام نے بڑی اُمیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ توقع تھی کہ جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور لوگوں کو معمولی یا پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے دہلی، چندی گڑھ یا ملک کے دوسرے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ گیسٹروانٹرولوجی اور آنکولوجی سمیت بعض اہم شعبوں میں کئی قیمتی مشینیں یا تو خراب پڑی ہیں، یا ان کے اہم پرزے ناکارہ ہو چکے ہیں، یا پھر وہ مطلوبہ استعداد کے ساتھ کام نہیں کر رہیں۔نتیجتاً مریضوں کو طویل انتظار، ذہنی اذیت اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے کئی مریض ہیں جو اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے بعد بھی مناسب علاج حاصل نہیں کر پاتے۔ بہت سارے گھرانوں کو چندہ جمع کرنا پڑتا ہے، رشتہ داروں اور خیراتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں اور بعض اوقات علاج کی خاطر ریاست سے باہر جانا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے جب اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ طبی مراکز موجود ہوں لیکن ان کے اندر موجود مشینری عوام کے کام نہ آ رہی ہو۔انتظامیہ کو فوری طور پر ایسے تمام ہسپتالوں کا تکنیکی آڈٹ کرانا چاہئے جہاں مشینری خراب یا غیر فعال ہے۔ اگر کسی مشین کی مرمت درکار ہے تو اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اگر نئے آلات درکار ہیں تو ان کی بروقت خریداری کو یقینی بنایا جائے۔ ہسپتال کی شاندار عمارت اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کے اندر موجود سہولیات پوری طرح فعال نہ ہوں۔
صحت کے شعبے میں بھارت آیشمان جیسی اسکیم یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایک خاندان کو پانچ لاکھ روپے تک طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ لاکھوں افراد اس سے مستفید بھی ہوئے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس اسکیم کی حدود بھی واضح ہو رہی ہیں۔ موجودہ مہنگائی اور علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر پانچ لاکھ روپے کی رقم اکثر سنگین بیماریوں کے لئے ناکافی ثابت ہوتی ہے۔خاص طور پر کینسر جیسی موذی بیماری کے علاج کی بات کریں تو ظاہرہے کہ اس مرض کی تشخیص، سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور بعد از علاج نگہداشت پر لاکھوں بلکہ بعض صورتوں میں کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ایک عام یا متوسط طبقے کے خاندان کے لئے یہ اخراجات برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مریض علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا مالی وسائل نہ ہونے کے باعث زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت آیشمان اسکیم کے تحت دستیاب مالی امداد میں خاطر خواہ اضافہ کرے۔ کم از کم مہلک بیماریوں، خصوصاً کینسر، گردوں کے امراض، جگر کی پیوندکاری اور دیگر پیچیدہ علاج کے لئے خصوصی فنڈ قائم کیا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ ایک جامع میڈیکل انشورنس پروگرام متعارف کرایا جا سکتا ہے جس میں حکومت پریمیم کا تقریباً پچھتر فیصد حصہ ادا کرے اور شہری صرف پچیس فیصد حصہ جمع کریں۔ اس وقت ملک میں مردم شماری اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کے وسیع عمل جاری ہیں تو اسی موقع پر ہر شہری کو صحت بیمہ کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔اس قسم کی پالیسی نہ صرف عوامی فلاح کا بہترین نمونہ ثابت ہوگی بلکہ لوگوں کے اندر یہ احساس بھی پیدا کرے گی کہ حکومت ان کی صحت، زندگی اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ ریاست اپنے شہریوں سے مختلف شکلوں میں ٹیکس وصول کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کو محصولات جمع کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اسی کے ساتھ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صحت، تعلیم اور غذائی تحفظ کسی احسان کا نام نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق ہیں۔
دوسری جانب جموں و کشمیر کے دیہی اور پہاڑی علاقوں کی صورتحال مزید توجہ طلب ہے۔ گوجر، بکروال،پہاڑوں اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے لوگ آج بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ کئی مقامات پر مریضوں کو ہسپتال تک پہنچانے کے لئے سڑکیں موجود نہیں، ایمبولنس بروقت دستیاب نہیں ہوتی اور ایمرجنسی کی صورت میں مریض گھنٹوں بلکہ بعض اوقات پورا دن سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حاملہ خواتین، دل کے مریضوں اور حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو بروقت طبی مداد نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ہر بلاک سطح پر ایسے طبی مراکز قائم کرے جو بنیادی طور پر ایک ضلعی یا مرکزی ہسپتال جیسی ضروری سہولیات سے آراستہ ہوں۔ جدید لیبارٹریاں، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، ایمرجنسی وارڈ، ایمبولنس خدمات اور تربیت یافتہ عملہ ہر بلاک میں دستیاب ہونا چاہئے۔
دیہی صحت کے نظام میں آشا ورکرز کا کردار بھی اہم ہے۔ یہ خواتین گاؤں گاؤں جا کر عوام کو صحت کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہیں اور متعدد قومی پروگراموں کے نفاذ میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انہیں اکثر انتہائی معمولی اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ جب کسی فرد کو مناسب معاوضہ نہیں ملے گا تو اس سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آشا ورکرز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ مزید جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
صحت کے شعبے میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ سماجی، مذہبی اور فلاحی اداروں کی بھی اہم ذمہ داری بنتی ہے۔ جموں و کشمیر میں متعدد فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں مسلم اوقاف ٹرسٹ ایک نمایاں ادارہ ہے جس کی سالانہ آمدنی کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنے وسائل دستیاب ہیں تو کیا کم از کم چند جدید تشخیصی مراکز، لیبارٹریاں یا ڈائیلاسز یونٹس قائم نہیں کئے جا سکتے؟سکھ برادری کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مختلف مقامات پر ان کے فلاحی ادارے اور گردوارے نہ صرف لنگر بلکہ طبی خدمات کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر دیگر کمیونٹیز اپنے وسائل کو منظم کرکے عوامی خدمت انجام دے سکتی ہیں تو مسلم فلاحی اداروں کو بھی اس سمت میں عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔اسی طرح مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کو بھی اپنی روایتی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر سماجی خدمت کے منصوبوں پر غور کرنا چاہئے۔ اگر ہر بلاک یا بڑے قصبے میں مقامی تعاون سے ایک بنیادی لیبارٹری، ایک ایمبولنس یا ایک چھوٹا طبی امدادی مرکز قائم کر دیا جائے تو ہزاروں غریب خاندانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے فنڈز کو منظم انداز میں استعمال کرکے صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
آج ضرورت محض تنقید کی نہیں بلکہ اجتماعی سوچ اور مشترکہ کوششوں کی ہے۔ حکومت، طبی ادارے، فلاحی تنظیمیں، مذہبی ادارے اور عام شہری اگر اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو جموں و کشمیر کے صحت کے نظام کو بہتر بنانا کوئی ناممکن کام نہیں۔ عوام جدید عمارتوں کے بجائے فعال ہسپتال چاہتے ہیں، افتتاحی تقریبات کے بجائے دستیاب علاج چاہتے ہیں اور وعدوں کے بجائے عملی سہولتوں کے خواہاں ہیں۔ایک حقیقی فلاحی معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ کوئی مریض صرف غربت کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے، کوئی خاندان بیماری کے باعث مقروض نہ ہو اور کسی کو اپنی جان بچانے کے لئے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ اگر ہم واقعی ترقی یافتہ اور انسان دوست معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں تو صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ یہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور یہی عوام کی سب سے بڑی امید بھی۔
(رابطہ ۔9622555263)
[email protected]
�������������������