بلا شبہ آج جب ہم اللہ کی کائنات کے سربستہ رازوں پرغور وفکرکرتے ہیںتواس بات کا علم ہوجاتا ہےکہ اس کائنات کی کوئی بھی چیز بے کار نہیں ہے بلکہ اس کی ہر چیزپر جہاں ہماری زندگی کا دارومدار ہے،وہیں حیوان ،بناتات اور جمادات کا بھی انحصار ہے۔مگر جب انسان نے ہی اس کائنات پر موجود قدرت کی عطا کردہ چیزوںکا،جو سب قدرتی نظام کے مطابق اپنا کام کررہے تھے،کے ساتھ چھیڑ چھاڑاور خود غرضانہ طرز ِ عمل سے بگاڑ وفساد پیدا کردیا،تو اس کا عذاب بھی انسان کو ہی جھیلنا پڑا ہے۔آج ہم دیکھ رہے ہیںکہ انسان کے اعمال اور کرتوت سے ہی ماحولیات میں اتنا بگاڑ پیدا ہوچکا ہے کہ نہ صرف موسم میں تبدیلی آگئی ہے بلکہ انسان کے لئے صحت مند اور محفوظ زندگی گذارنا دشوار ترین ہوتا جارہا ہے۔ زمین پر موجود سارے قدرتی وسائل پانی، ہوا، جنگل، پہاڑ سب کا نظام غیر متوازن ہوکر رہ گیا ہے۔جس کے نتیجے میں ہمار ےجموں و کشمیر کا خطہ بھی بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔پچھلے دو تین برسوں سے وقفہ وقفہ کے بعد اس خطہ کے مختلف پہاڑی اضلاع میںبادل پھٹنے ،شدیدبارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سے دل دہلانے والےسانحات وقوع پزیر ہوئے ہیں،جنہوں نے نہ صرف انسانی بستیوں کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا بلکہ وہاں پر موجود زندگی کے نشانات تک اانکھوں سے اوجھل کرکے رکھ دیئے ہیں،سال ِ گذشتہ کے دوران جہاںضلع کشتواڑ کے چسوتی علاقےمیں لینڈ سلائیڈنگ اور تباہ کُن سیلاب نے ہر چیز کو مٹی میں دفن کرکے رکھ دیا وہیںکھٹوعہ اور اودھم پورکے بعض علاقوں کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کردیا۔اس سال بھی جموں و کشمیرمیں زمین کھسکنے کی وجہ سے متعدد علاقوںمیں رہنے والے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی اور اب حالیہ چند دنوں کے دوران جموں خطہ میں مسلسل موسلا دھار بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جو صورت حال پیدا ہوچکی ہے،نیز راجوری، پونچھ، ڈوڈہ، ریاسی اور دیگر پہاڑی اضلاع سے جو خبریں آرہی ہیں،وہ ہر درد مند انسان کو غمزدہ کر رہی ہیں۔کئی انسانی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، بے شمار افراد زخمی ہوئے ہیں، رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز تباہ ہو چکے ہیں، مویشی بہہ گئے ہیں، سڑکیں منقطع ہو گئی ہیں اور درجنوں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ظاہر کہ روایات کے تحت جہاں حکومت نے فوری طور پر راحت رسانی کے اقدامات شروع کئے ہیں اور سرکاری مشینری کے متعلقہ محکمہ جات متحرک ہوگئے ہیں،وہیں دشوار گزار علاقوں میں امدادی کارکن بھی انسانی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ تاہم یہاںیہ بات پھر اُبھر آتی ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ شائد اس لئے کہ جب انسان قدرت کے حدود سے باہر نکلتا ہے تو گویا وہ خو اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔یہ کہنا بھی اب بے جا نہیں لگتا کہ یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک اجتماعی غفلت کا بھی نتیجہ ہے، جو برسوں سے پہاڑی علاقوں میں جاری غلط منصوبہ بندی اور بے لگام ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔جہاں پہلے ندی کنارے پرانے بستیوں کا سکون تھا، وہاں اب سڑکوں کے ساتھ جنکشن بن گئے ،اکثر علاقے تجارتی مراکز میں بدل گئے ہیں۔ حکومتوں نے ان مقامات پر اسکول، اسپتال، دفاتر اور پنچایت گھر قائم کر دئیے اور یوں ندیوں کے تلچھٹ پر انسانی آبادیاں بسانا ایک معمول بن گیا۔جس سے عیاں ہوجاتا ہے کہ فطرت کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ چھیڑ چھاڑ کس قدر بھیانک انجام کا سبب بن سکتی ہے۔ہم سب اس زمین کے نگہبان ہیں، خواہ پالیسی ساز ہوں ، عام شہری یا مقامی باشندے ہوں۔ لازم ہے کہ ہم فطرت سے مصالحت کریں اور ترقی کے نام پر بربادی کے راستے بند کریںاور ہماری ترقی، فطرت کی تباہی کا دوسرا نام نہ بنے۔یاد رہے کہ ماہرین موسمیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبی ذخائر پر تجاوزات، غیر سائنسی تعمیرات اور ماحول دشمن ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ مگرافسوس! ہم اکثر قدرت کے انتباہ کو حادثہ سمجھ کر بھلا دیتے ہیں، حالانکہ ہر آفت ہمیں اپنی اصلاح کا ایک موقع بھی دیتی ہے۔