پرویز احمد
سرینگر //جموںو کشمیر میں انتہائی نایاب جنگلی جانوار’’ہانگل‘‘ کی تعدادپچھلے 16سال میں دوگنی ہوگئی ہے۔ جموںو کشمیر میں سال 2009میں جموںو کشمیر میں ہانگل کی مجموعی تعداد 150تھی جو سال 2025تک بڑھ کر 323ہوگئی ہے اور اس طرح ہانگل کے بچائو کیلئے چلائے گئے پروگراموں کی نتائج مثبت آنے لگے ہیں۔ پچھلے 2سال میں جموں و کشمیر میں ہانگل کی تعداد میں 24کا اضافہ ہوا ہے۔ہانگل کی تعداد جموںو کشمیر میں پچھلی کئی دہائیوں سے کم ہورہی تھی لیکن پچھلے 6سال سے ہاگل کی تعداد میں متواتر طور پر اضافہ ہورہا ہے جس سے ہانگل کے بچائو کیلئے چلائے گئے مختلف پروگراموں کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سال2009میں جہاں ہانگل کی تعداد جموں و کشمیر میں 150تھی اور ان کی تعدادمتواتر طور پر کم ہورہی تھی جس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے نایاب کشمیر ہانگل کو بچانے کیلئے خصوصی پروگرام چلائے اور ہر 2سال بعد پروگرام کی کامیابی کو جانچے اور ہانگل کی تعداد کا پتا لگانے کیلئے سروے کرانے کا عمل شروع کیا گیا۔ سال 2021میں ہانگل کی صحیح تعداد جاننے کیلئے کی گئی سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں ہانگل کی مجموعی تعداد 261تھی جو 2سال بعد یعنی سال 2023میں بڑھ کر 289ہوگئی تھی۔ سال 2025کے آخر میں کی گئی سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں ہانگل کی تعداد بڑھ کر 323ہوگئی ہے اوراس کی حتمی رپورٹ گزشتہ روز یعنی پیر کو وائلڈ لائف محکمہ کی بورڈ میٹنگ کے دوران پیش کی جائے گی۔ محکمہ والڈ لائف کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ تعداد بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہم بچائو کے پروگراموں کو کامیاب بنا پا رہے ہیں۔وائلڈ لائف وارڈن سینٹرکشمیر پرویز احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال 2025میں کئے گئے سروے رپورٹ تیار ہے اور پیر کو ہونے والی میٹنگ میں پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہانگل کی تعداد 323تک ہوگئی ہے اور اس طرح پچھلے 2سال میں ہانگل کی تعداد میں21کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے قبل سال سال 2019سے لیکر سال 2021تک ہانگل کی تعداد24کا اضافہ ہوا تھا اور تعداد 237سے بڑھ کر 261پہنچ گئی تھی۔ سال 2021سے 2023تک28کا اضافہ ہوتا تھا جبکہ سال2023سے2025 تک 34جانوروں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سینٹر فار سلیولر اینڈ مالیکیولر بائیولوجی(Centre for cellular and Molecular Biology)جموں و کشمیر میں پچھلے کئی سال سے ہانگل، اس کو درپیش مشکلات، شکار اور دیگر مسائل پر تحقیق کررہا ہے اور ہانگل کو بچانے کیلئے کام کررہا ہے۔ ہانگل پر داچھی گام کی میں کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانوں کی سرگرمیوں، موسم اور دیگر ماحولیاتی وجوہات کی وجہ سے ان کی تعداد میں کمی آرہی تھی۔