سرینگر// جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ لکڑی پہ نقش و نگاری ، قالین اور دیگر چیزوں جیسی متعدد ہاتھ سے تیار شدہ مصنوعات کی’’ جی آئی‘‘ ٹیگنگ کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ سرینگر کے’ ایس کے آئی سی سی‘ میں نیشنل فیشن انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کنونشن سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا’’ مرکزی زیر انتظام خطے کی حکومت لکڑی پر نقش و نگاری ، قالین اور متعدد دیگر دستکاری کی’’ جی آئی‘‘ ٹیگنگ کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی آئی ٹیگنگ کے نتیجے میں اس شعبے سے وابستہ افراد کو بین الاقوامی منڈیوں میں اچھی رقم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ منوج سنہانے مزید کہا کہ کشمیر میں ہنر کی کمی نہیں ہے ، اور یہاں کے لوگوں کو مختلف صلاحتیں تحفہ میں ملی ہوئی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر کا کہنا تھا’’میں دیکھ رہا ہوں کہ نیشنل فیشن انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر بہت بڑا کردار ادا کررہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جلد ہی نئے کورس کا آغاز کیا جائے گا اور یہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارے گا‘‘۔ سنہا نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر ٹیکسٹائل اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں اور ٹیکسٹائل کو نئی بلندیوں پر لے گئی ہیں‘‘۔انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی سرینگر ( رنگریٹ) نے 2020 کے اپنے پہلے کنووکیشن کلاس کا اہتمام ایس کے آئی سی سی سرینگر میں کیا تھا جہاں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی مہمان خصوصی تھیں اور کرن رجیجووزیر مملکت برائے امور اور کھیل کود و اقلیتی امور مہمان خصوصی تھے۔