عاصف بٹ
کشتواڑ//کشتواڑ ضلع کے سرتھل علاقے میں گھان۔چنڈالی سڑک کی مسلسل نظر اندازی نے ایک بار پھر دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے تئی انتظامی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 24جنوری کو ریکارڈ کی جانے والی پہلی برف باری کے باوجود سڑک ہفتوں بعد بھی برف کے نیچے دبی ہوئی ہے جس نے اس علاقے کی عوام کو ضلع کے باقی حصوں سے مکمل طور پر منقطع کر دیا ہے۔ گھان۔چنڈالی سڑک علاقے کے لیے واحد اہم لنک کے طور پر کام کرتی ہے اور اس کی طویل بندش نے تقریباً 2,000سے 3,000گاؤں والوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ آج تک کوئی بھی برف صاف کرنے والی مشینری تعینات نہیں کی گئی نہ ہی کوئی افرادی قوت مقرر کی گئی اور نہ ہی کوئی سرکاری معائنہ کیا گیا جو کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے بے حسی اور لاتعلق رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ مکینوں نے ضلع انتظامیہ محکمہ پی ایم جی ایس وائی اور متعلقہ ٹھیکیدار پرالزام لگایا کہ وہ گہری نیند میں ہیں جبکہ گاؤں والے بنیادی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔علاقے کے لوگوںکیلئے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال اگست۔ستمبر میں بادل پھٹنے اور شدید بارش کے دوران یہی سڑک بحالی سے پہلے تقریباً ایک ماہ تک بند رہی تھی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سڑک کی عدم دستیابی کے سبب صورتحال اب تشویشناک ہو گئی ہے کیونکہ علاقے میں راشن و دیگر اشیا کی شدید قلت ہے ۔ مقامی لوگوں نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر انتظامیہ ان کی حالت زار کو نظر انداز کرتی رہی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ضلع انتظامیہ اور محکمہ پی ایم جی ایس وائی پر عائد ہوگی،اس لئےانتظامیہ کو چاہئے کہ سڑک پر سے فوری طور بر ف ہٹانے کا عمل شروع کرے۔