زاہد بشیر
گول//گول میں دوشیزہ کے بہیمانہ قتل میں پولیس کی اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے جس میںملزم کو گرفتارکرلیاگیا ۔ایس ایس پی رام بن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3مارچ کو تقریباً شام 6:15بجے شاہ نواز (متوفیہ کے بھائی) نے پولیس سٹیشن گول میں اپنی بہن زاہدہ بانو دختر محمد یعقوب خان ساکنہ پرتمولہ گول کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ رپورٹ موصول ہوتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پی ایس آئی سنیل رسکوٹرا کی قیادت میں ایک سرچ ٹیم تشکیل دی تاکہ لاپتہ لڑکی کو تلاش کیا جا سکے۔اسی دوران تقریباً 7:00بجے شام پی ایس آئی سنیل رسگوتراکو اطلاع ملی کہ منزم کنڈہ کے جنگلاتی علاقے میں، جو گول قصبے سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے، ایک نامعلوم لڑکی کی لاش پڑی ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور ایک جھونپڑی نما ڈھوک میں لڑکی کی لاش برآمد کی، جس کا گلا کاٹا گیا تھا اور نچلے کپڑے موجود نہیں تھے۔پولیس نے فوری طور پر لاپتہ لڑکی کے اہل خانہ (شاہ نواز اور محمد شفیع) کو اطلاع دی۔ وہ موقع پر پہنچے اور لاش کی شناخت زاہدہ بانو کے طور پر کی۔اس کے بعد پی ایس آئی سنیل رسگوتراکی تحریری رپورٹ کی بنیاد پر ایف آئی آر نمبر 11/2026 درج کی گئی، جس میں بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعات 64اور 103(1) کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کی گئیں۔ ڈسٹرکٹ فارنزک موبائل یونٹ بھی رام بن سے موقع واردات پر پہنچی، جہاں کرائم فوٹوگرافر اور ڈاکٹروں کی ٹیم نے شواہد جمع کیے۔
جائے وقوعہ کو روشن کر کے تمام ثبوتوں کو تصویروں میں محفوظ، نشان زد، جمع، پیک اور محفوظ کیا گیا۔بعد ازاں لاش کو ضلع اسپتال رامبن میں ڈاکٹروں کے بورڈ کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ کو مزید تفتیش کے لیے سکیورٹی کے تحت محفوظ کر دیا گیا۔اس سنگین اور دل دہلا دینے والے قتل کے باعث عوام میں شدید تشویش پیدا ہوئی، جس کے پیش نظر ایس ڈی پی او گول کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ایس ایس پی کے مطابق4مارچ کو ضلع ہسپتال رام بن میں پوسٹ مارٹم کیا گیا اور جائے وقوعہ اور اطراف کی مزید تلاشی کے دوران ایک خون آلود چاقو برآمد ہوا جو ملزم نے پتھروں کے نیچے چھپا رکھا تھا۔ اس آلہ قتل کو فارنزک ٹیم نے احتیاط سے پیک کر کے ضبط کر لیا۔ تمام شواہد کو سیل کر کے ایف ایس ایل جموں اور سری نگر کو فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا۔تحقیقات کے دوران کال ڈیٹیل ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ متوفیہ کا رابطہ محمد اشرف ولد عبدالغنی ساکنہ ساڑ، تحصیل مہور ضلع ریاسی سے تھا، جو اس وقت فرار تھا۔ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ ملا جس سے پتہ چلا کہ وہ جائے واردات سے جموں اور پھر یونین ٹیریٹری سے باہر فرار ہو گیا ہے۔ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے کئی احتیاطی تدابیر اختیار کیں، لیکن سائنسی تحقیقات اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کے ذریعے اس کا سراغ تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی میں لگایا گیا۔اس کے بعد ایس آئی ٹی کی ٹیم تلنگانہ روانہ کی گئی۔ وہاں اے سی پی رام چندرپورم تلنگانہ پولیس کی مدد سے منصوبہ بندی کے بعد 7مارچ کی رات ملزم محمد اشرف کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں ڈیوٹی مجسٹریٹ سے ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کر کے اسے 8مارچ کو گول واپس لایا گیا۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے جرم کا اعتراف کیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے ہیں، تاہم اس کا متوفیہ کے ساتھ کئی برسوں سے تعلق تھا اور وہ اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ملزم کو متوفیہ کے رویے پر شک ہونے لگا اور اس نے اسے بے وفا سمجھنا شروع کر دیا، جس کے باعث دونوں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہوئی اور ملزم نے اسے سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ملزم نے منصوبہ بندی کے تحت جموں سے چاقو خریدا اور یکم مارچ کو شام کے وقت گول پہنچا۔ اگلے دن 2مارچ کو اس نے علاقے کا جائزہ لیا اور پھر متوفیہ کو منزم کنڈہ میں بلایا۔ وہاں اس نے دوبارہ اس پر بے وفائی کے الزامات لگائے جس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس دوران ملزم نے متوفیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اسے قابو میں کر کے چاقو سے گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔قتل کے بعد ملزم اسی رات جموں بس سٹینڈ پہنچا اور نئی دہلی کے لیے بس پکڑی۔ وہ 3مارچ کی صبح دہلی پہنچا اور بعد ازاں سفر کرتے ہوئے 5مارچ کو تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع پہنچ گیا جہاں سے 7مارچ کو گرفتار کیا گیا۔ملزم کے انکشاف پر متوفیہ کا موبائل فون بھی برآمد کیا گیا جسے قانونی کارروائی کے بعد ضبط کر کے ایف ایس ایل بھیج دیا گیا ہے۔ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور ایس آئی ٹی تیزی سے تحقیقات مکمل کر کے جلد از جلد چارج شیٹ عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔