ماحولیاتی سائنس اور اَرضیات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس کرّۂ اَرض کو درپیش سنگین مسائل سے بخوبی آگہی رکھتے ہیں کہ فی زمانہ ہماری زمین، اس پر آباد تمام جانداروں کو قدرتی ماحول کے سنگین مسائل سے کیا کیا خدشات اور خطرات کا سامنا ہے۔ حالیہ گروپ سیون کی کانفرنس میں ماہرین اور سائنس دانوں نے کانفرنس کے شرکاء میں کھلا خط تقسیم کیا جس میں کرّۂ اَرض کو درپیش ماحولیاتی مسائل کا ذکر کیا گیا تھا، ویسے بھی گروپ سیون کی حالیہ کانفرنس کے ایجنڈے میں ماحولیاتی مسائل اور موسمی تغیّرات سرفہرست تھے۔
ماہرین نے کھلے خط میں جن سنگین خدشات اور خطرات کا ذکرکیا ،ان میں نمایاں گلوبل وارمنگ، موسمی تبدیلیاں، زمینی، فضائی اور آبی آلودگی، تیزابی بارش، شہروں میں آبادی کا بڑھتا ہوا دبائو، اوزون کی پرت میں ہونے والے شگاف، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا مسئلہ، جنگلات کی کٹائی کے منفی اَثرات، جنگلی حیاتیات اور سمندری حیاتیات کی بتدریج تباہی، سمندروں کی سطح کا بلند ہونا، برفانی طوفان، موسلادھار بارشیں، خشک سالی، غذائی قلّت، بھوک، قحط سمیت دیگر مسائل شامل ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکی صدر جان ایف کنیڈی نے کہا تھا کہ ’’ہمارے زیادہ مسائل اور مصائب کا خود انسان ذمہ دار ہے۔ ان مسائل کو انسان ہی کو حل کرنا ہوں گے۔‘‘
واضح رہے کہ ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے ساٹھ کی دہائی میں آوازیں اُٹھنی شروع ہوئی تھیں۔ اس حوالے سے عام لوگوں کو بہت کم آگہی حاصل تھی، کیونکہ سرد جنگ عروج پر تھی، سوویت یونین، امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے زیرزمین اور زیرِ سمندر جوہری تجربات کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، ایسے میں اس دور میں بیش تر امن پسند غیرسرکاری تنظیمیں آوازیں اُٹھا رہی تھیں اوران پے دَر پے جوہری تجربات کو عالمی امن اور قدرتی ماحول کے لئے زبردست خطرہ قرار دے رہی تھیں۔
ان حالات میں یورپی ممالک کے بیش تر نوجوانوں نے بھی انسانیت اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے لئے اپنی ایک غیرسرکاری تنظیم ’’گرین پیس‘‘ کی بنیاد رکھی۔
اس کا قیام 1971ء کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں عمل میں آیا۔ اس تنظیم کے بنیادی اغراض و مقاصد میں عالمی امن، قدرتی ماحول کا تحفظ اور جوہری تجربات کا خاتمہ ہے۔ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں بھی عمل میں آتی رہی ہیں، فی الوقت اس تنظیم میں ڈھائی ہزار سے زائد عملہ کام کرتا ہے اور اس کا سالانہ بجٹ ڈھائی سو ملین سے دو سو ساٹھ ملین یورو ہے۔ تنظیم میں پچاس سے زائد ممالک شریک ہیں، اراکین میں زیادہ نوجوان شامل ہیں۔ گرین پیس کو مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید بھی برداشت کرنا پڑتی رہی ہے، کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ یہ بعض امیرترین خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان نوجوانوں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں اس لئے انہوں نے یہ نیا سلسلہ شروع کیااور تنظیم بنا کر حکومتوں اور عوام کو قدرتی ماحول اور جوہری تجربات سے ڈرا رہے ہیں۔
بعض حلقوں کا خیال تھا کہ گرین پیس سوویت یونین اور چین کے زیرسمندر جوہری تجربات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ سب باتیں دُرست بھی تھیں اور پروپیگنڈہ بھی، کیونکہ گرین پیس اس دور میں لوگوں کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو اور آلودگی کی بڑھتی ہوئی مقدار سے پیدا ہونے والے خدشات اور خطرات بارے میں آگہی فراہم کر رہی تھی۔ اب پوری دُنیا میں ماحولیات کے حوالے سے سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموں کی تعداد تین سو پچاس سے زائد ہے جو گرین ہائوس مہلک گیسوں، جنگلی حیاتیات کے تحفظ، جنگلوں کی دیکھ بھال، شجرکاری کے فروغ اور عوام میں قدرتی ماحول کے تحفظ کے حوالے آگہی پر کام کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ماحولیات کی تنظیم کا زیادہ زور شجرکاری کے فروغ پر رہا ہے جس کے نمایاں اَثرات واضح ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ تنظیمیں غربت، پسماندگی، ناخواندگی کو بھی قدرتی ماحول میں بگاڑ کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے دورِ اقتدار میں کرّۂ اَرض کے قدرتی ماحول، گلوبل وارمنگ اور موسمی تغیّرات پر خاصا کام کیا تھا اور لگ بھگ تمام سربراہان مملکت سے اس ضمن میں رابطے قائم کئے تھے اس کے علاوہ صدر اوباما نے خصوصی طور پر پوپ فرانسس سے بھی رابطے کئے تھے اور انہیں خصوصی طور پر دُنیا کے سب سے بڑے غیرآباد جزیرہ گرین لینڈ کا دورہ بھی کرایا تھا جہاں صدیوں سے جمی برف اور بڑے بڑے عظیم گلیشیئر پگھل کر اس جزیرہ کے ایک چوتھائی حصہ کو بنجر کر چکے تھے اس خبر پر دُنیا میں واقعی سنسنی پھیل گئی تھی ۔
اوباما کا دُوسرا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی کوششوں، پوپ فرانسس، فرانسیسی صدر اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے بھرپور تعاون سے 2015ء میں پیرس میں ماحولیات کے تحفظ کا عالمی معاہدہ طے کرایا تھا جس پر دُنیا کے تمام سربراہان ممالک نے دستخط کئے تھے، مگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض ماہرین کی اس دلیل کو جواز بناتے ہوئے پیرس معاہدہ سے امریکہ کو الگ کر لیا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمی تغیّرات محض چند سائنس دانوں کا پروپیگنڈہ ہے، مگر سب سے اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے نے حال ہی میں خاصی تحقیق کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جو سب کے لئے چشم کشا ہے۔
اس رپورٹ میں موسمی تغیّرات کے حوالے سے ماضی میں جو جائزے مرتب کئے گئے تھے ان کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں ماضی کے علاوہ حالیہ جائزوں کا بھی ذکر ہے جس میں سائنس داں اور ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ کرّۂ اَرض کو گلوبل وارمنگ سے جو خطرہ لاحق ہے وہی خطرہ گلوبل کولنگ سے بھی لاحق ہے گویا وارمنگ اور کولنگ دونوں ہی زمینی آب و ہوا اور موسمی بگاڑ میں برابر کے شریک ہیں۔ دُوسرے لفظوں میں اب صرف گلوبل وارمنگ کے بارے میں ہی نہیں کولنگ کے حوالے سے بھی بہت سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق چودھویں صدی تا اُنیسویں صدی پانچ سو برس تک اس کرّۂ اَرض پر گلوبل کولنگ چھائی رہی جس کو نام نہاد کولنگ یا برفانی دور بھی کہا گیا ہے۔ اس دور کے ماہرین نے اس صورت حال پر گاہے بہ گاہے اپنے جائزے پیش کئے اور اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔ بعدازاں اسی حوالے سے بتایا کہ اس برفانی دور میں گلوبل کولنگ کے دور میں دُنیا میں کئی جگہ قحط پڑے، غذائی قلّت کی وجہ سے لاکھوں باشندے نقل مکانی کرتے رہے اور اس عرصے میں مختلف ممالک آپس میں جنگ و جدل بھی کرتے رہے۔ بیسویں صدی کے چھٹے عشرے میں پھر ساتویں عشرے میں بھی موسمی تغیّرات کا سلسلہ تیز ہوا جس سے روس اور بھارت میں غذائی قلّت خطرناک صورت اختیار کر گئی کیونکہ فصلیں تباہ ہو چکی تھیں، ہزاروں افراد بھوک سے بلک بلک کے مر رہے تھے۔
سرد جنگ کے عروج کے باوجود یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ نے اناج سے بھرے جہاز روس یا سوویت یونین اور بھارت روانہ کئے تھے۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اس تمام معاملے کی چھان بین کے لئے ہائی لیول کمیٹی تشکیل دی ۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق خبردار کیا گیا تھا کہ تیل اور قدرتی کوئلہ کے استعمال میں زبردست اضافہ کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسم، آب و ہوا تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی ایکسون نے فوراً ہی سائنس دانوں اور ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی اور انہیں تمام صورت حال پر مفصل رپورٹ تیار کرنے کا ٹاسک دیا، کچھ عرصہ بعد اس کمیٹی نے بھی ایسی ہی رپورٹ پیش کی جیسی پچھلی کمیٹیوں نے یا ماہرین نے ترتیب دی تھیں۔
مگر حالیہ امریکی سی آئی اے کی رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ کسی حکومت نے ان جائزوں اور ماضی کی کمیٹیوں پر سنجیدگی ظاہر نہیں کی۔ ماہرین نے گزشتہ تمام جائزوں میں قدرتی ایندھن کے بڑھتے ہوئے استعمال اور دُنیا کی آبادی میں بے ہنگم اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب تقریباً تمام سائنس دان اور ماہرین اس پر متفق ہیں کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ اور معروف سفارت کار ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ستّر کے عشرے میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب میں ماضی اور حال کی رپورٹوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ موسمی تغیّرات کے حوالے سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ترقّی پذیر اور پسماندہ ممالک کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ قحط، خشک سالی، جنگیں آبادی کا انخلاء اور وبائی امراض پھیلنے کا شدید خدشہ ہے۔ اس لئے موسمی تغیّرات اور کرّۂ اَرض کے تحفظ کے لئے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر کسنجر کے اس اہم بیان کےبعد دُنیا میں بڑی حد تک سیاست دانوں اور حکومتوں نے اس حوالے سے سوچنا شروع کیا تھا۔
گلوبل کولنگ کے حوالے سے بیس برس قبل بیش تر سائنس دانوں اور ماہرین نے آواز اُٹھانی شروع کر دی تھی۔ شمالی یورپ، امریکہ اور بحر اوقیانوس شمالی میں برفانی طوفان، آندھیاں اور برفباری میں اضافہ کی وجہ سے ہر طرف سے شور اُٹھنے لگا ہے۔ معروف سائنسی جریدوں اور تحقیقی مضامین میں وارمنگ کے ساتھ ساتھ کولنگ کے حوالے سے تواتر کے ساتھ علمی اور سائنسی مواد شائع ہو رہا ہے۔
بیش تر ماہرین نے گلوبل کولنگ کے حوالے سے جو انکشافات کئے تھے اب وہ دُرست ثابت ہو رہے ہیں۔ اس پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا متواتر یہ انتباہ رہا ہے کہ انسان نے اپنی ترقّی، آسائشات اور جدید طرزِ حیات کے لئے بہت کچھ دائو پر لگا دیا ہے۔ ماہرین اور سائنس دانوں نے بار بار یہ بات دُہرائی ہے کہ پلاسٹک کا بڑھتاہوا استعمال کوڑا کرکٹ میں کئی گنا اضافہ کر رہا ہے جو زیادہ تر سمندر برد کیا جا رہا ہے جس سے آبی حیاتیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
واضح رہے کہ ماحولیات میں بگاڑ، زمین کی حدّت میں اضافہ اور اوزون کے غلاف میں گہرا شگاف پڑنے کی خبریں سامنے آئی تھیں اس دوران ایک بچی سمندر کے کنارے دُھوپ سینکتے ہوئے بیمار ہوئی اور اس کے جسم پر دانے نکل آئے تھے جو جلد ہی پھوڑا بن کر پھیل گیا۔ تب سے آسٹریلیا میں ماحول سے متعلق آگہی میں اضافہ ہوا ہے اور عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کیں۔ تاہم کچھ عرصہ قبل بتایا گیا تھا کہ اوزون کے غلاف کا شگاف بتدریج پُر ہو رہا ہے مگر پھر ان خبروں کی تردید بھی آ گئی اور کہا گیا ہے کہ اوزون کے شگاف کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
گزشتہ ماہ لندن اسکول ہائیجن اینڈ ٹروپیکل میڈیسن نے اپنی ایک تحقیق کے نتائج مرتب کئے ہیں جس میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ دُنیا کی آٹھ اَرب آادی کو نئے ملیریا اور ڈینگی بخار سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ اگر گرین ہائوس گیسیز میں کمی نہ کی گئی تو یہ مہلک وبائی مرض پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر سال چار لاکھ بچّے ملیریا ڈینگی اور دیگر وبائی امراض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق افریقہ سب صحارا ممالک سے ہے۔ دُنیا میں وبائی امراض کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر کورونا وائرس کے پھیلائو کے بعد سے دُنیا میں اس طرح کی وبائی امراض کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق چین میں زندہ جانوروں اور حشرات الارض کی فروخت کی مارکیٹوں میں ان کی کھلے عام فروخت جو صدیوں پُرانا کاروبار اور غذا کا اہم حصہ ہے تشویش ظاہر کی ہے کہ کورونا کی طرح خدشات ہیں یہاں سے مزید وبائی امراض پھیل سکتے ہیں۔