سرینگر// جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے’ گریڈ امپرومنٹ‘ حاصل کرنے والے 135 طلباء کیساتھ بے رحمانہ سلوک کیا جارہا ہے۔جون میں انکا امتحان نہیں لیا گیا، حالانکہ لیا جاسکتا تھا، جس سے انکا ایک سال ضائع ہوگیا،اب ماس پروموشن کر کے دو ماہ بعد مارکس کارڈ دفراہم کرنے انکا امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔’گریڈ امپرومنٹ‘ کیلئے بارہویں جماعت کے 135 طلبا ء نے اپریل 2020 میں بورڈ آف سکول ایجوکیشن میں فارم جمع کروائے اور ان طلباء کا امتحان قاعدے کے مطابق جون میں لیا جانا تھا تاکہ یہ طلباء اپنے گریڈ بہتر کرکے بیرون ریاستوں یا بیرون ممالک میں مختلف کورسز کیلئے اپنی رجسٹریشن کرواسکتے۔ بورڈ حکام نے ان طلباء کی جانب سے درجنوں درخواستیں دینے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں کی اور انکے امتحانات نہیں لئے حالانکہ بورڈ حکام ایسا آرام کیساتھ کرسکتے تھے اور بورڈ احاطے میں ہی انکے امتحانات لئے جاسکتے تھے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ اس نے اپنے اضافی مضمون بائیولوجی کا امتحانی فارم جمع کرایا لیکن بورڈ حکام نے اکتوبر 2020 تک امتحانات میں تاخیر کی۔انہوں نے کہا ، اکتوبر میں ، بورڈنے متعدد طلباء کیلئے ماس پرموشن دینے کا اعلان کیا، جن کیساتھ کم سے کم دو یا تین مضامین پاس کرنے والے افراد بھی شامل تھے ، تاہم اس وقت انہوں نے گریڈ امپرومنٹ کے فارم دینے والوں کے بارے میں کوئی الگ فیصلہ نہیں کیا بلکہ انکی بھی ماس پروموشن کی گئی۔حتیٰ کہ مارکس کارڈ بھی اجرا کئے جاچکے ہیں۔ لیکن اب بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ مارکس کارڈ اجراء کرنے کے سلسلے میں کمپوٹر کی غلطی ہوئی ہے، لہٰذا ایسے طلباء کی ماس پروموشن منسوخ کی گئی ہے۔طلباء سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مارکس کارڈ جمع کروائیں اور انکے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔