جموں/عظمیٰ نیوز سروس /بدھ کی دیر شام جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب رائل پارک کے قریب ایک شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اس وقت سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور وزیر اعلیٰ کے صلاح کار ناصر اسلم وانی وہاں موجود تھے ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق تینوں سینئر رہنما گریٹر کیلاش علاقے میں واقع رائل پارک میں ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے کہ اسی دوران ایک شخص نے اچانک فائرنگ کر دی جس سے تقریب میں موجود مہمانوں اور سکیورٹی اہلکاروں میں افرا تفری مچ گئی۔اس واقعے کے دوران نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اس وقت معمولی زخمی ہو گئے جب مبینہ طور پر ہتھیار سے نکلنے والے چھینٹے ان کو لگے۔ حکام کے مطابق ان کی چوٹیں زیادہ سنگین نہیں ہیں اور انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
جبکہ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ اور ناصر اسلم وانی اس واقعے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔موقع پر موجود پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چند ہی منٹوں میں حملہ آور کو قابو کر لیا۔ ملزم کو فوراً حراست میں لے لیا گیا اور فائرنگ میں استعمال ہونے والا ہتھیار بھی ضبط کر لیا گیا۔حملے میں ملوث شخص کی شناخت کمل سنگھ جموال ساکن پرانی منڈی جموں کے طور پر ہوئی ہے ۔ پولیس اس وقت اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ حملے کے محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ موقع پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی فوری کارروائی کے باعث صورتحال کو جلد قابو میں کر لیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فائرنگ کن حالات میں ہوئی اور آیا اس میں کوئی اور افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔واقعے کے بعد جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ سینئر پولیس حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثناءوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا”اللہ مہربان ہے۔ میرے والد ایک بڑے حادثے سے بال بال بچ گئے۔ اس وقت تفصیلات پوری طرح واضح نہیں ہیں، تاہم اب تک جو معلوم ہوا ہے اس کے مطابق ایک شخص بھری ہوئی پستول کے ساتھ نہایت قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے فائر بھی کیا۔ خوش قسمتی سے قریبی سکیورٹی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گولی کا رخ موڑ دیا اور یوں قاتلانہ حملے کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ اس واقعے کے بعد کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جن کے جوابات ابھی تک سامنے نہیں آئے۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کوئی شخص Z+ این ایس جی سکیورٹی حاصل کرنے والے سابق وزیر اعلیٰ کے اتنے قریب کیسے پہنچ گیا”۔