برسبین/آل راؤنڈر ٹریوس ہیڈ (ناٹ آؤٹ 112) کی شاندار سنچری کی بدولت آسٹریلیا نے یہاں انگلینڈ کے خلاف پہلے ایشز ٹیسٹ کے دوسرے دن جمعرات کو سات وکٹوں کے نقصان پر 343 رنز بنائے ۔ میزبان آسٹریلیا اب 196 رنز کی برتری کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے ۔انگلینڈ کو 147 کے چھوٹے اسکور پر آؤٹ کرنے کے بعد جوش سے لبریز آسٹریلیائی ٹیم بلے بازی میں بھی انگلینڈپر بھاری پڑی۔ مارکس ہیرس کی صورت میں آسٹریلیا کا پہلا وکٹ 10 کے اسکور پر گرگیا، لیکن اس کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ہیرو ڈیوڈ وارنر نے فارم کو جاری رکھتے ہوئے ٹاپ آرڈر بلے باز مارنس لابوشین کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لیے 156 رن کی بڑی شراکت نبھائی۔ یہ شراکت 166 کے اسکور پر لابوشین کے آؤٹ ہونے سے ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد تجربہ کار بلے باز اسٹیون اسمتھ کریز پر آئے اور 12رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے ۔ یہ 189کے اسکور پر تیسرا وکٹ تھا۔ اس کے فوراً بعد 195 کے اسکور پر وارنر کی شکل میں آسٹریلیا کا چوتھا وکٹ گرگیا۔ وارنر اور لابوشین بالترتیب 94 اور 74 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے ۔تمام بڑے کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد سوال آسٹریلیا کے بڑے اسکور تک پہنچنے کا تھا اور پھر کریز پر آل راؤنڈر ٹریوس ہیڈ آئے جنہوں نے شاندار اننگ کھیلتے ہوئے دوسرے دن کے کھیل تک آسٹریلیا کو نہ صرف 343 کے مضبوط اسکور پر پہنچایا، بلکہ 196 رنوں کی اہم برتری بھی دلائی۔ وہ 12 چوکوں اوردوچھکوں کی مدد سے 95 گیندوں پر 112 رن پر کھیل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کریز پر بائیں ہاتھ کے بلے باز مچل اسٹارک موجود ہیں جو 10 کے اسکور پر ہیں۔ تاہم آسٹریلیا کے سات وکٹ گرچکے ہیں۔ انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن نے سب سے زیادہ تین، جبکہ کرس ووکس، مارک ووڈ، جیک لیچ اور کپتان جوروٹ نے ایک ایک وکٹ لیا ہے ۔محض 85 گیندوں میں سیکڑہ پارکرتے ہوئے ہیڈ نے مشترکہ طورسے ایشز سیریز کی تاریخ کی سب سے تیز سنچری مکمل کی۔ ساتھ ہی وہ گابا میں ایک سیشن میں ٹیسٹ سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بھی بن گئے ۔ جب وہ بیٹنگ کے لیے میدان پرآئے تو دوسرے سیشن میں 29 رنز کے اندر آسٹریلیا کی چار وکٹیں گر چکی تھیں اور اسے صرف 48 رنز کی برتری حاصل تھی۔ ان کی ناقابل شکست سنچری (112) کی بدولت میزبان ٹیم کو دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد 196 رنز کی برتری حاصل ہے جبکہ تین وکٹیں ابھی باقی ہیں۔