آسام اور پڈوچری میں بھی آسان جیت درج
نئی دہلی // 4ریاستوںمغربی بنگال، آسام، کیرالا اور تمل ناڈو کے علاوہ مرکزی زیر انتظام علاقے پڈوچری میں پیر کو ووٹوں کی گنتی کے دوران کئی چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے۔ جہاں مغربی بنگال میں ممتا بینری کا 15سالہ دور اقتدار ان سے چھن گیا وہیں کیرلا میں کانگریس نے زبردست جیت حاصل کی اور تمل ناڈو میں فلی ہیرو وجے تھلوپتی سیاست میں بھی ہیرو ثابت ہوئے۔آسام اور پڈو چری میں بی جے پی کی سابقہ پرفارمنس جاری رہی۔
مغربی بنگال
مغربی بنگال میں خاتون رہنما ممتا بینرجی کا اقتدار 15 سال بعد شکست کے دہانے پر پہنچا۔نمول کانگریس 2011 سے مسلسل مغربی بنگال میں اقتدار میں ہے، جبکہ ممتا بینر جی گذشتہ 15 برس سے اس ریاست میں وزیرِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ مغربی بنگال کئی برسوں تک وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سیاسی پیش قدمی سے دور رہی ہے۔ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندی بولنے والے وسطی علاقوں میں زبردست کامیابیاں حاصل کیں، مغربی اور شمال مشرقی حصوں تک اپنا دائرہ وسیع کیا اور کبھی مضبوط سمجھی جانے والی علاقائی جماعتوں کو پسپا کر دیا۔لیکن بنگال جو اپنی روایت اور ثقافتی انفرادیت کے تصور سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہاں بی جے پی کے خلاف مزاحمت جاری رہی تھی۔اسی وجہ سے یہ ریاستی انتخابات غیر معمولی طور پر فیصلہ کن سمجھے جا رہے تھے۔ دس کروڑ سے زائد ووٹروں کے ساتھ مغربی بنگال کا ووٹر بیس جرمنی کے ووٹروں سے بھی بڑا ہے جس کے باعث یہاں کے انتخابات ایک عام ریاستی پولنگ کے بجائے کسی ملک میں حکومت کے انتخاب سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔پیر کے روز مغربی بنگال میں بی جے پی کی فتح نریندر مودی کے 12 سالہ اقتدار کے دوران سب سے اہم کامیابیوں میں شمار کی جائے گی۔ یہ صرف تین مدتوں سے برسراقتدار جماعت کی شکست نہیں بلکہ مشرقی انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے طویل سیاسی مارچ کی تکمیل کی علامت بھی ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے 80 جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 207 نشستوں پر سبقت حاصل کی۔ریاست میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں ترنمول کانگریس نے 215 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 77 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
کیرالا
کیرالہ میں کانگریس اتحاد یو ڈی ایف نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیٹوں کی سنچری کی طرف قدم بڑھا یا ۔ کانگریس اتحاد 89 سیٹیں حاصل کیں۔ 140 سیٹوں والی اس ریاست میں حکومت سازی کے لیے 71 سیٹوں کی ضرورت ہے۔کانگریس نے کہا کہ یہ نتائج پوری ریاست کیرالہ میں تبدیلی کی حامی لہر کے بارے میں اپوزیشن کے اندازے کو درست ثابت کرتے ہیں۔ یہاں ایل ڈی ایف نے 35 ،بی جے پی نے تین اور دیگر نے 13نشستیں حاصل کیں۔ یہاں اس سے قبل ایک ڈی ایف کی حکومت تھی۔
آسام
انتخابات میں بی جے پی اتحاد نے بہ آسانی اکثریت حاصل کی۔آسام اسمبلی کی 126 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 101اور کانگریس نے 22نشستیں حاصل کیں۔ آسام میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی اور کانگریس و بی جے پی کے درمیان زبردست ٹکر کی امید ظاہر کی گئی تھی۔کانگریس کے ریاستی صدرگورو گگوئی اپنی سیٹ بھی نہیں بچا سکے۔آسام میں گورو گگوئی سمیت کئی سرکردہ کانگریس لیڈران کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گورو گگوئی تو20 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ اب ایک بار پھر ریاست میں ہیمنت بسوا سرما کی حکومت تشکیل پانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
تمل ناڈو
ٹی وی کے کے سربراہ تھلاپتی وجے کا پورا نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے، وہ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں 2 سیٹوں سے انتخابی میدان میں اترے ۔ہندوستان کی 5 ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں تمل ناڈو بھی شامل ہے جہاں فلمی دنیا سے سیاست میں قدم رکھنے والے سپر اسٹار تھلاپتی وجے نے کمال کردیا ہے۔ وجے کی زیرقیادت ٹی وی کے انتخابی رجحانات میں تیزی سے سبقت حاصل کرتی نظر آرہی ہے۔ تادم تحریر ریاست کی 102 سیٹوں پر ٹی وی کے امیدوار آگے چل رہے ہیں اور اے آئی اے ڈی ایم کے (73 سیٹ) اور حکمراں ڈی ایم کے (48 سیٹ)پر سبقت حاصل کئے ہوئے ہیں۔تمل ناڈو کے ان رجحانات کے بعد ساوتھ اسٹار وجے اور ان کے گھر کی سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ 2024 میں اداکاری کو الوداع کہنے کے بعد وجے نے 2026 کے انتخابات میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور اس میدان میں بھی دھماکہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان کی پوری پارٹی ریاست میں 107 سیٹوں پر سبقت حاصل کئے ہوئے ہے۔
پڈوچیری
انتخابی نتائج میں این رنگاسوامی کی جیت سے این ڈی اے اکثریت کے قریب پہنچی۔پڈوچیری میں اسمبلی کی 30 سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ مرکز کے زیر انتظام اس خطہ میں حکومت سازی کے لیے 16 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں یہاں این ڈی اے نے حکومت تشکیل دی تھی۔بی جے پی اتحاد نے پڈوچیری میں ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ۔ تازہ ترین جانکاری کے مطابق 12 سیٹوں پر جیت اور 6 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ بی جے پی 18 سیٹیں حاصل کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس اتحاد نے 2 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے، جبکہ 3 سیٹوں پر اس کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔