سرینگر// نیشنل کانفرنس نے حکومت کی طرف سے کووِڈ – 19 کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور انتظامہ سے ایسے حربوں سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی کے سینئر نائب صدر صوبہ کشمیر محمد سعید آخون نے ایک بیان میں کہا کہ جہاں ایک طرف پورے ملک اور ریاست میں تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق ہورہی ہیں یہاں تک کہ جموں وکشمیر میں آئے روز سرکاری تقریبات میں سینکڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کو اپنی مذہبی فرائض انجام دینے کا وقت آتا ہے تو انتظامیہ کو کووِڈ – 19 یاد آجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت ساری مساجد، زیارت گاہوں اور خانقاہوں خصوصاً حضرت بل اور جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور اس کیلئے کورونا کو وجہ بتایا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس دن دونوں مقامات پر دکانداروں کو دکانیں کھولنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور دیگر سرگرمیوں پر بھی پابند عائد کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگرچہ پورے جموں وکشمیر میں دکانوں کے کھلے رہنے سے کووِڈ کا پھیلائو نہیں ہوتا تو صرف حضرتبل اور جامع مسجد کے آس پاس قائم دکانوں کا کھلا رہنا کس طرح کووِڈ کے پھیلائو کا سبب بن سکتا ہے۔ محمد سعید آخون نے انتظامیہ سے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے سے روکنے کے ایسے اقدامات سے گریز کیاجائے اور حضرتبل و جامع مسجد میں نمازِ جمعہ پر قدغن کو ختم کیا جائے۔