ایجنسیز
واشنگٹن//اسرائیل نے رات بھر ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن میں تہران، تبریز، کرج اور اصفہان میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ اپریل میں نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سب سے سنگین مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ حملے اس وقت ہوئے جب چند گھنٹے قبل ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائلوں کی ایک لہر داغی تھی۔ تہران نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی جاری فوجی کارروائیوں کے ذریعے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں لبنان میں ایران کے قریبی اتحادی مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف کی جا رہی ہیں۔پیر کے روز امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر مختصر پیغام میں کہا،’’اسرائیل اور ایران کو فوراً فائرنگ بند کر دینی چاہیے۔‘‘تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات ابھرنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔گزشتہ کئی دنوں سے کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اتوار کو اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملہ کیا جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ 4 جون کو امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود کیا گیا۔ان حملوں کے چند گھنٹے بعد ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جنہیں تہران نے بیروت پر حملے کا جواب قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے، جبکہ ان کا ملبہ اردن اور مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں بھی گرا۔اس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے وسطی اور مغربی علاقوں پر رات بھر حملے کیے، جبکہ ایران نے بعد ازاں جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائلوں کی دوسری لہر بھی داغ دی۔اسرائیلی اخبارہاآرٹز کے مطابق ایران نے اتوار کی شب سے اب تک تقریباً 30 بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔یمن سے بھی میزائل داغے گئے ہیں جن کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی ہے، جبکہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔
پیر کی صبح سعودی عرب کے علاقے الخرج میں شہری دفاع کے ادارے نے ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیش نظر عوام کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کی۔ تاہم بعد میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران نے الخرج کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔یہ اپریل کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل پر ایران کا پہلا براہ راست میزائل حملہ ہے۔ یہ پہلا موقع بھی ہے کہ تہران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں براہ راست ایرانی سرزمین سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے ہیں۔ایران کئی بار خبردار کر چکا تھا کہ اگر اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کرے گا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی اس تنازعے کی نوعیت کو تبدیل کر سکتی ہے اور یہ جانچ رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 8 اپریل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی قابلِ قبول حد کیا ہے، جبکہ بظاہر جنگ بندی ابھی بھی برقرار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ گفتگو کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، لیکن امریکہ مسلسل اسرائیل کی حمایت کرتا رہا ہے۔پیر کی صبح اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا کہ ایران صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ امریکہ کو بھی “خاکستر” کرنا چاہتا ہے۔بعض ماہرین کے مطابق اسرائیل کے اقدامات خطے میں ٹرمپ کے اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتے ہیں۔ٹرمپ کی مخالفت کر کے اسرائیل نے صرف ایران کی نئی حکمت عملی کو چیلنج نہیں کیا بلکہ ٹرمپ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے مزید کہا،’’اگر اسرائیل کی نافرمانی کے کوئی نتائج برآمد نہ ہوئے تو ایران میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ ٹرمپ یا تو اسرائیل کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا ایسا کرنا نہیں چاہتے۔‘‘مبصرین کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے تحمل کی اپیل اور اسرائیل کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی آمادگی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق آئندہ مرحلے میں اس تنازعے کی ایک اہم خصوصیت بن سکتا ہے۔لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع، جسے بعض اوقات امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے الگ سمجھا جاتا تھا، اب اس تازہ علاقائی کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔