لفظ منافق اگر دیکھا جائےتو یہ "نفق "سے نکلا ہے، جسکا معنی ہے ایک طرف سے نکل کر دوسری طرف جانا ۔ منافق لوگ کبھی بھی ایک جگہ پہ نہیں بیٹھ سکتے یہ تو کبھی اِدھر جاتے ہیں کبھی اُدھر ، یہ انسان کو کبھی بھی مکمل نقطہ نظر نہیں دیتے اور نہ ہی یہ لوگ زندگی میں کسی ایک انسان کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ محبت سے خالی ہوتے ہیں ۔ انکا دعویٰ صرف زبان تک محدود رہوتا ہے لیکن دل میں کسی قسم کے جذبۂ ایثار و قربانی اور ہمدردی نہیں ہوتی ۔ ان کا غرض صرف دوسروں سے مفاد حاصل کرنے کا ہوتا ہے، اس لئے یہ تھوڑی دیر کے لیے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں اور مفاد حاصل کرنے کے بعد انسان کو پہچانتے تک نہیں ۔ منافق کے ساتھ رشتہ کبھی برقرار نہیں رہتا ،آخرکار وہ ٹوٹ ہی جاتا ہے۔ کیونکہ مفاد اور خودغرضی سے جڑے ہوئے رشتے کبھی قائم و دائم نہیں رہتے۔ یہ لوگ اگر کوئی اچھا کام کرلیتے ہیں تو صرف اور صرف دکھاوےنے کیلے کرتے ہیں نہ کہ رضائی الہٰی کے لیے ۔ یہ لوگ ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ جہاں جہاں کوئی عہدہ ہو، ہم ہی اُن پر فائز ہوں ۔منافق ہمیشہ دوسروں کی کامیابیوں پہ جل جاتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں واضح دلیل عبداللہ بن ابی سےملتی ہے جوکہ منافقوں کا سردار تھا ۔ کیسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آپ ؐکی تعریفین بیان کرتا رہتاتھا ۔ لیکن بادشاہت نہ ملنے پہ اُس کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا بغض و کینہ رہا کہ آپ ؐکو قتل کرنے کی سازشیں کرتا رہا ۔ جب اُس کو لگتا تھا کہ اسلام تھوڑا سا غالب آنے لگا تو وہ اُنہی کی طرف جاتے تھے اور جب لگتا تھا کہ مسلمان تھوڑے سے کمزور پڑھ گئے تواُس وقت اسلام سے منہ موڈ لیتا تھا۔ جنگ بدر میں بھی اُس نے اپنی منافقت اور غداری کا ثبوت دیا ۔ منافق کبھی بھی اسلام اور انسانیت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے کیونکہ جو انکے حق میں بات کرتے ہیں، یہ بس انہیں کے بن جاتے ہیں ۔ یہ لوگ دوسروں کی غلطیوں کو چھپانے کے بجائےاُچھال لیتے ہیں ۔ انکے دلوں کے اندر حسد کا آگ بھڑکتی رہتی ہے، جسکی وجہ سے ان کی زندگی سکون سے محروم اور تذبذب کی شکار ہوتی ہے۔
ایک انسان کسی منافق کی پہچان خود کرسکتا ہے۔ کیونکہ خود محسوس ہوگا کہ یہ بندہ میرے ساتھ مخلص نہیں ہے ۔محض چاپلوسی کررہا ہے۔تو اسکی پہچان شروع ہونے لگتی ہے۔ سورہ منافقون میں تو واضح ہے کہ منافق کون ہے ۔ جو انسان اپنے خالق ِ یکتا کا نہیں ہوگا تو اسکی مخلوق کے ساتھ کیسے بن سکتی ہے ۔ لہٰذا منافق سے بچ کے رہنا چاہئے۔ یہ لوگ تو آخر کار ذلیل و خوار ہو ہی جاتے ہیں، یہ ہمیشہ دوسروں کی کامیابیوں پہ جلتے ہیں، بظاہر تو خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن اندر ہی اُنکے دل میں حسد کے انگارے بھڑکتے رہتے ہیں ۔ یہ زندگی میں کبھی سکون نہیں پاتے۔ کیونکہ یہ بدگمانی ،حسد اور دوسروں کے عیب چینی میں اپناقیمتی وقت کو کھو دیتے ہیں۔ یہ بلا تحقیق غلط باتوں کو فروغ دے کر لوگوں کو بدگمان کرتے ہیں ۔ قرآن پاک میں بھی آیا کہ جب جھوٹے لوگوں کے پاس کوئی بات آتی ہے، تو وہ اسکو بلا تحقیق پھیلاتے رہتے ہیں ۔ منافق ،انسان کو آگے تو تعریفیں کرتا رہتاہے مگر دل سے اس کی کوئی عزت نہیں کرتا ۔ گویا کہ وہ دوسرے انسان کو اپنی نظروں میں کمتر سمجھتا رہتا ہےاور بعض اوقات باتوں ہی باتوں میں گرانا چاہتا ہے ۔ جب تک منافق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو گے تو تب تک وہ بھی اچھا برتاؤ کرتا ہے اور جونہی آپکے مزاج میں کچھ تغیر آجائےتو وہ فوراً تعلقات منقطع کردیتا ہے۔
منافق سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے ۔ صحابہ کرام خود ڈرتے تھے کہ کہیںہم بھی تو منافقین میں شمار تو نہیں ہیں ۔ قرآن پاک میں آیا ہے کہ منافقین کو انکے نفاق کی سزا فورا ًنہیں ملتی بلکہ انہیں ڈھیل دی جاتی ہیں ۔ جب تک کہ نہ وہ مکمل منافق بن جاتے ہیں ۔
اگر دیکھا جائے تو دنیا میں ہر انسان تین گروہوںمیں سے ضرور ایک گروہ سے ہوتے ہیں ۔ یا تو ایمان والوں کے گروہ سے، یا کافر ہوگا یا پھر منافق ہوگا ۔ ان منافقین کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔ ایک جو بظاہر اسلام کے راستے پر چلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ لیکن اصل میں وہ اسلام کے راستے میں مشکلات پیدا کرتا ہے ا ور مسلمانوں سے بغض و عداوت رکھتا ہے ۔ یہ لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں ۔جیسے ہم نے عبد اللہ بن ابی کو دیکھا کہ وہ کیسے دشمنان دین تھےاور رحمت للعالمین کے ساتھ دھوکہ دہی کی ۔دراصل وہ بادشاہت کے عہدے پہ فائز ہونا چاہتا تھا ۔ اُسکو مدینہ والوں نے اپنا بادشاہ مقرر کیا تھا ، اب اسکو بادشاہت کا تاج سر پہ باندھنا تھا ۔ لیکن اللہ کامنشاکچھ اور تھا۔ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ منصب عطا فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ مناسب اور،قابل احترام کون تھا،جو سارے امور و احکام صحیح اور احسن طریقے سے انجام دے ،جو ہر ایک کے ساتھ مساوات کا معاملہ کرے ۔ جس نے پورے عالم کو ظلمت سے نور کی راہ دکھائی اور دین اسلام سے لوگوں کے دل منور ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے عرب کا کایا پلٹ گئی۔ یہ سب کچھ دیکھکر عبد اللہ بن ابی سے رہا نہیں گیا اور وہ ہر طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سازشیںرچانے میں لگ گیا اور آپ ؐکو نعوذ باللہ قتل کرنے کی سازشوں میں مصروف رہے رہے ۔ اُسی نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پہ تہمت لگائی غزوہ بنو مصطلقہ کے موقعے پر، جبکہ اللہ نے انکی برأت نازل فرمائی اور وہ ذلیل و خوار ہوکر رہ گیا اور یہ منافق بدبخت ہدایت کے چراغ سے محروم رہا۔ اگر ایک انسان کے اندر حق قبول کرنے کا مادہ موجود ہوگا تو وہ ہدایت کو پاہی لیتا ہے ۔ اور اگر ہدایت کا مادہ نہ ہو تو پھر کوئی پیغمبر اس کے پاس کیوں نہ آئے،اُسے ہدایت نہیں ملتی ۔ دنیا میں تو عملی منافقین کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں ۔ یہ لوگ عملاً تو کافر ہوتے ہیں لیکن عقیدے میں مسلمان ۔ اور یہ انسان کو فریب و دھوکہ میں رکھکراپنی مکاری چلا تے ہیں۔ لیکن آخرکار انکا راز فاش ہوہی جاتا ہے ۔یہ لوگ اسلام کے کسی بھی امور خوشدلی سے انجام نہیں دیتے ۔ منافق لوگوں کی کئی علامتیں بتائی گئی ہیں،جنہیں دیکھ کر ہم آسانی سے انکی شناخت کر پائیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منافقین کی کچھ نشانیاں بیان فرمائی:۔۱۔جب وہ بولتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں ۔۲۔ جب وعدہ کرتے ہیں تو اسکی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ ۳۔ جب انکے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتے ہیں ۔۴جب کسی سے جھگڑا کرتے ہیں تو گالیاں دیتے ہیں (بخاری)
اگر یہ تمام صفت کسی میں پائی جائیں تو وہ مکمل منافق ہےاور اگر ان میں سے کسی میں کوئی ایک نشانی پائی جائے تو اس میں نفاق ہوتاہے۔ لہٰذا اس کے لئے خود کی اصلاح کرنی بہت ضروری ہے اور ہمیں کسی انسان کو منافق یا کافر کہہ کے نہیں پکارنا چاہئے کیونکہ اگر وہ چیز اس میں نہیں ہوگی تو وہ حکم اس پہ واپس لگتا ہے ،یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔منافق کی سزا بہت سخت ہوگی، قرآن پاک میں آیا ہے کہ منافق لوگ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے (سورہ النساء )کیونکہ یہ ایسے چھپے ہوئے دشمن ہوتے ہیں جو انسان کو سب سے زیادہ نقصان پہچاتے ہیں ۔ اللہ تعالی کو کافر کے مقابلے میں منافق زیادہ ناپسند ہے ۔ کیونکہ کافر سرعام اپنے دشمنی کا اعلان کرتا ہےلیکن منافق اسکے برعکس شیطانی چالیں چلاتا رہتا ہے ۔ اس لئے اُسے دوگنا مجرم ٹھہرایا گیا ہے ۔ قیامت کے روز جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے شفاعت کریں گے تو اسوقت ہر مسلمان کی دل میں یہ آش ہوگی کہ ہمارے لیے نبی صلی اللہ وسلم دعا کرکے ہمارے گناہوں کو درگزر کروائیں گے اور ہم عذاب سے بچ جائیں گے ۔ لیکن منافقین کے بارے میں سورہ توبہ میں اس امید کو ختم کیا گیا ۔ جس میں اللہ تعالی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ اے نبی! صلی اللہ علیہ وسلم خواہ آپ انکے لیے استغفار کریں یا نہ کریں کوئی فرق نہیں پڑنے والا نہیں ہے۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انکے لیے ۷۰مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو تب بھی انکو نہیں بخشا جائے گا ۔ انکے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ لوگ مر جائیں گے تو انکا نماز جنازہ کبھی نہیں پڑھنا چاہیے اور نہ ہی انکی قبر پہ کھڑا ہوناچاہیے ۔ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ منافقین کے لیے دعا نہ کرو تو عام لوگوں کی تو بات ہی نہیں ہیں کہ وہ منافقین کے لیے دعا کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ دونوں جہاں کے لئے رحمت للعالمین بن کے آئے، جن کی طبیعت میں رحمت و شفقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ امید ہوتی کہ منافقین کی مغفرت ہوجائے گی تو میں ۷۰مرتبہ سے زیادہ انک کے لئےاستغفار کرتا ۔ لیکن اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے روک دیا کہ انکی مغفرت نہیں ہوگی۔ کیونکہ منافقین سے زیادہ کسی نےبھی اسلام کو نقصان نہیں پہنچایا ۔ جب جب منافقین کو لگتا تھا کہ اب ہمارا راز ایمان والوں کے سامنے فاش ہوگا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم ایمان والے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں اس بات پر غورو خوض کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ بچائے، ہم بھی تو منافقین میں سے شمار تو نہیں ہیں ۔ ہر ایک انسان کو خود کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر کوئی صفت ان نشانیوں میں سے پائی جائے جو کہ حدیت میں بیان ہوئی ہے تو خود کی اصلاح کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہماری دنیا و آخرت سنور جائے اور دنیا میں لوگوں کے خیر خواہ ہونے کے بجائے انکے لیے شر کا باعث نہ بنیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں منافقین سے بجائیں اور ہمیں صالحین میں سے بنائیں (آمین یا رب العالمین )
آونیرہ شوپیان
طالب علم : جامعت البنات سرینگر