آج کل توساری دنیا آن لائن ہوگئی ہے لیکن پہلے جب یہ سہولیات نہیں تھیں۔ جب انتردیشی ، پوسٹ کارڈ یا ٹیلی گرام وغیرہ کے سواخیر خبر لینے دینے کے کچھ اور وسائل مہیا نہیں تھے تو کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ لوگ حصول تعلم کے لیے یا ملازمت کے لیے یاکبھی کسی اور غرض سے گھر سے باہر جاتے تھے اورپھر وہ ایک عرصے تک اپنے واطن واپس نہیں ہوپاتے تھے۔ اور پھر کبھی دسیوں برس گزارنے کے بعد اچانک بغیر کسی پیشگی اطلاع کے وطن اس وقت واپس ہوتے تھے جب وہ بچے سے جوان ہوچکے ہوتے تھے یا جوان سے بوڑھے ہوچکے ہوتے تھے ، ان کے خدوخال بدل چکے ہوتے تھے۔ ان کی شکل وصورت بدل چکی ہوتی تھی اور پھر جب وطن پہنچتے تھے، اپنے اہل خانہ، اہل وعیال اوراہل وطن سے ملتے تھے تو پہلے تو لوگ انہیں پہچان نہیں پاتے تھے اور جب پہچانتے تھے توبڑے حیرت واستعجاب میں پڑ جاتے تھے۔انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ یہی وہ شخص ہے۔
ایسا ہی ایک حادثہ علی مبارک ((1891-1823کے ساتھ ہوا جسے انہوں نے نے اپنی کتاب ’’الخطط التوفیقیۃ‘‘میں ذکر کیا ہے۔
علی پاشامبارک’’جدید مصر کی ایک تاریخی شخصیت ہیں۔ انھوں نے جدید قومیت کے ارتقاء اور اس کی ٹھوس بنیاد قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔(سیرۃ ذاتیہ ص ۲۰۰) یہاں تک کہ ان کو جدیدمصر کا’’ بابائے تعلیم ‘‘کہا گیا۔ انھوں نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہ کر ملک کی بے مثال خدمت کی۔ تعلیم کے فروغ کے لیے ’’دار العلوم‘‘ کی بنیاد رکھی جو بعد میں کلیۃ دار العلوم (دار العلوم کالج) میں تبدیل ہوگیا۔ ’’روضۃ المدارس‘‘ کے نام سے ایک مجلے کا اجراء کیا۔’’دا ر الکتب المصریہ‘‘ نامی لائبریری کی بنیاد رکھی۔ بہت ساری کتابیں لکھیں جن میں چودہ جلدوں پر مشتمل ’’علم الدین‘‘ ایک انسائیکلوپیڈیائی قسم کی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مذکورہ بالا کتاب ’’الخطط التوفیقیۃ‘‘ ان کی بیحد نفیس کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ کہاجاتا ہے اگر صرف یہی ایک کتاب انھوں نے لکھی ہوتی تو بھی تاریخ میں ان کانام امر رہتا ۔ ڈاکٹر شوقی ضیف ان کی اس خود نوشت کو انیسویں صدی کی سب سے اہم سوانح عمریوں میں شمار کرتے ہیں۔(الترجمۃ الشخصیۃ ص ۱۰۵)
واقعہ یہ ہے کہ علی مبارک اعلی تعلیم کے لیے گھر سے باہر نکلے تو چودہ برس تک گھر نہیں آئے۔ اس کے بعد جب واپس آئے تو انھیں ان کی ماںپہچان نہیں سکیںاور جب پہچانیں تو وہ غشی کھاکر گرگئیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’میں جب (گھر) آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ابا مجھ سے ملنے شہر گئے ہیں۔ میں نے اپنے گھر میں صرف اپنی والدہ اور بہنوں کو پایا۔ میں گھر رات میں پہنچا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز آئی کون؟ میں نے کہا علی مبارک۔ میں چودہ برس تک اپنی ماں سے دور تھا۔ اس مدت میں انھوںنے مجھے دیکھا تک نہیں تھا نہ ہی میری آواز سنی تھی۔ لہٰذا جب میں نے کہا علی مبارک! تو وہ میری آواز سن کر دروازے کے پیچھے حیرت سے کھڑی رہ گئیں۔وہ مجھے گھور گھور کر دیکھ رہی تھیں۔ میں اپنے فرانسیسی یونیفارم میں تھا۔ تلوار اور’’ کسوۃ تشریف ‘‘بھی لٹکائے ہوئے تھا۔ لہٰذا ماں نے کئی سوالات مجھ سے پوچھے یہاں تک کہ انھیں یقین ہوگیا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں اورمیں علی مبارک ہوں ۔ تو انھوں نے دروازہ کھولا۔ مجھے گلے سے لگایا اور پھر غشی کھاکر گرگئیں۔پھر جب ہوش میں آئیں تو مجھے دیکھ کر رونے لگیں۔سارے گھر والے ، رشتے دار اور پڑوسی بھی آگئے۔پورا گھر لوگوں سے بھر گیا اور ہم سب صبح تک باتیں کرتے رہے۔ لوگ آتے اور جاتے رہے۔میں نے دیکھا کہ میری والد ہ کچھ پریشان سی ہیں۔ وہ میری ضیافت میں کچھ بنانا چاہتی ہیں لیکن ان کا ہاتھ خالی ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ رو رہی تھیں۔ میں معاملہ سمجھ گیا۔ تو میں نے انھیں دس بنتو دیے جو اس وقت میرے جیب میں پڑے ہوئے تھے۔ وہ بہت خوش ہوئیں اور انھوں نے سب کی دعوت کی۔ میں وہاں دو دن رکا اور پھر اجازت لے کر واپس آگیا‘‘۔
زندگی اسی کا نام ہے۔ یہ ہر موڑ پر ہمیں سرپرائز دیتی ہے۔ہر قدم پر ہمیں درس دیتی ہے۔ ہمیں تجربات سے آشنا کرتی ہے۔ ہمیں اپنوں سے دور کرتی ہے۔ ہمیں ان سے قریب کرتی ہے۔ ہمیں دکھ دیتی ہے۔ ہمیں غم دیتی ہے۔ ہمیں خوشیاں دیتی ہے۔ ہمیں سجاتی ہے سنوارتی ہے۔ اسی کا نام زندگی ہے اور اس سے ہمیشہ خوش رہنا چاہیے۔ قناعت کی چادر میں جو لوگ اس زندگی سے ہمکلام ہوتے ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں۔ اوروہی ہمیشہ خوش رہتے ہیں۔
صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
9086180380