کورونا وائرس کے اکثر افراد میں اس کی شدت زیادہ نہیں ہوتی بلکہ علامات بھی نظر نہیں آتیں مگر کچھ جان لیوا حد تک بیمار ہوجاتے ہیں، مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دنیا بھر کے ماہرین طب جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔اب بظاہر اس کا ایک جواب سامنے آگیا ہے اور وہ ہے آٹو اینٹی باڈیز، جن سے کووڈ 19 کی شدت سنگین یا جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اسٹینفورڈ میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں میں نقصان دہ آٹو اینٹی باڈیز کی شرح بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔آٹو اینٹی باڈیز ایسی اینٹی باڈیز کو کہا جاتا ہے جو جسم کے صحت مند ٹشوز یا مدافعتی خلیات پر حملہ آور ہوجاتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر کوئی فرد کووڈ 19 سے بیمار ہوکر ہسپتال پہنچ جائے تو ڈسچارج ہونے کے بعد بھی ضروری نہیں کہ وہ مکمل صحتیاب ہوجائیں۔اس تحقیق کے لیے مارچ اور اپریل 2020 میں کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 147 مریضوں کے خون کے نمونوں میں آٹو اینٹی باڈیز کی جانچ پڑتال کی گئی۔محققین نے وائرس کو ہدف بنانے والی اینٹی باڈیز کو شناخت اور ان کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی اور ایسی اینٹی باڈیز کو بھی دیکھا گیا جو مدافعتی خلیات پر ہی حملہ آور ہوجاتی ہیں۔انہوں نے دریافت کیا کہ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 60 فیصد مریضوں میں آٹو اینٹی باڈیز کو دریافت کیا جبکہ ایک کنٹرول گروپ کے 15 فیصد صحت مند افراد میں یہ ان کو دیکھا گیا۔یہ آٹو اینٹی باڈیز مدافعتی نظام کو بہت زیادہ متحرک کردیتی ہیں جسے سائٹوکائین اسٹروم بھی کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بیماری کی علامات طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔محققین نے 50 مریضوں کے خون کے نمونوں ہسپتال میں داخلے کے پہلے دن کے ساتھ ساتھ مختلف دنوں میں اکٹھے کیے تھے، جس سے انہیں آٹو اینٹی باڈیز کی پیشرفت کو ٹریک کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں داخلے کے ایک ہفتے کے اندر 20 فیصد مریضوں میں ایسی آٹو اینٹی باڈیز بن گئیں جو خود ان کے ٹشوز پر حملہ آور ہوسکتی تھیں، بیشتر کیسز میں یہ ان آٹو اینٹی باڈیز کی سطح اتنی زیادہ ہوتی ہے جتنی کسی آٹو امیون بیماری کی تشخیص میں نظر آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ کیسز میں یہ نئی آٹو اینٹی باڈیز مدافعتی ردعمل کے بہت زیادہ متحرک ہونے کا عندیہ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں مریض کے جسمانی افعال کو شدید ورم کا سامنا ہوسکتا ہے۔کچھ کیسز میں یہ آٹو اینٹی باڈیز بننے کی وجہ وائرل میٹریلز ہوتے ہیں جو ہمارے پروٹینز سے مماثلت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کووڈ کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کے باعث مدافعتی ردعمل کی شدت بڑھنے کے نتیجے میں وارئل ذرات ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، جس کے باعث مدافعتی نظام کو وائرس کے ایسے ٹکڑے اور حصے دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس نے پہلے دیکھے نہیں ہوتے، اگر یہ وائرل ٹکڑے ہمارے اپنے پروٹیشنز سے مماثلت رکھتے ہوں تو آٹو اینٹی باڈی بننے کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔محققین نے کہا کہ نتائج سے ویکسینیشن کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، کووڈ ویکسینز سنگل پروٹین یعنی اسپائیک پروٹین پر مبنی ہوتی ہیں، ویکسینیشن کے نتیجے میں مدافعتی نظام وائرس کے حملے پر الجھن کا شکار نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن سے ورم کا سامنا بھی بریک تھرو انفیکشن کی صورت میں کم ہوتا ہے، تو مدافعتی نظام سے آٹو اینٹی باڈیز بننے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔
کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے متعدد افراد کو بیماری سے سنبھلنے کے بعد کئی ہفتوں یا مہینوں تک مختلف علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ایسے مریضوں کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور طبی ماہرین اب تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔مگر اب ایک نئی تحقیق میں بیماری کو شکست دینے کے بعد بھی طویل المعیاد علامات کی ممکنہ وجہ کو شناخت کیا گیا ہے۔امریکا کی آرکنساس یونیورسٹی ار میڈیکل سائنسز کی تحقیق میں یہ وجہ دریافت کی گئی۔تحقیق میں ایک اینٹی باڈی کو دریافت کیا گیا جو ابتدائی بیماری کے ہفتوں بعد نمودار ہوکر حملہ آور ہوتی ہے اور مدافعتی نظام کے بنیادی ریگولیٹر کو متاثر کرتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے لگ بھگ 30 فیصد مریضوں کو ابتدائی بیماریکے بعد طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف علامات جیسے تھکاوٹ، دماغی دھند اور سانس لینے میںدشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔تحقیق میں لانگ کووڈ ک مالیکیولر میکنزمز پر روشنی ڈالی گئی۔
محققین نے بتایا کہ ہم نے جو دریافت کیا وہ ایک اینٹی باڈی کے تسلسل کا نتیجہ نظر آتا ہے، یہ ایک اہم پیشرفت ہے اور اس پر تحقیق مزید آگے بڑھائی جاسکتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مدافعتی نظام کے لیے مسائل کا باعث بننے والی اینٹی باڈی ایس 2 انزائمے پر حملہ آور ہوتی ہے۔ایس 2 انزائمے وائرس کے خلاف جسم کے ردعمل کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، مگر حملہ آور اینٹی باڈی ایس ٹو کے افعال میں مداخلت کرتی ہے، جس کے باعثمحققین نے اسے طویل المعیاد علامات کا بنیادی عنصر تصور کیا۔اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ایک ٹیسٹ کو تیار کرکے 2 اینٹی باڈیز کو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیا۔
محققین نے کووڈ کے 67 مریضوں کے پلازما یا سیرم میں ایس 2 اینٹی باڈیز کا تجزیہ کیا اور ان کے نتائج کا موازنہ 13 ایسے افراد کے نمونوں سے کیا جن کو اس بیماری کا سامنا نہیں ہوا تھا۔کووڈ سے متاثر 81 فیصد مریضوں کے خون کے نمونوں میں اس اینٹی باڈی کو دریافت کیا گیا جو ایس ٹو پر حملہ آور ہوتی تھی جبکہ صحت مند افراد کے نمونوں میں ایسی کوئی اینٹی باڈی موجود نہیں تھی۔محققین نے بتایا کہ اگر ہم نے اس خیال کو درست ثابت کردیا کہ ایس ٹو کے افعال میں مداخلت کرنے والی اینٹی باڈی لانگ کووڈ کی وجہ بنتی ہے، تو اس سے متعدد ٹریٹمنٹس کا راستہ کھل جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اگر ہماری مزید تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ اینٹی باڈی ہی لانگ کووڈ کی علامات کا باعث بنتی ہے تو ایسی ادویات موجود ہیں جو علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے کے بعد ہمارا اگلا قدم ان ادویات کی آزمائش کرنا ہوگا اور توقع ہے کہ اس سے لانگ کووڈ کے مریضوں کو ریلیف مل سکے گا۔دین اثناکیا جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب سطح کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد میں بیماری کی سنگین شدت اور موت کے خطرے سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لیے متعدد ممالک کے سائنسدانوں کی جانب سے کام کیا جارہا ہے اور اب اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں۔آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج، اسکاٹ لینڈ کی ایڈنبرگ یونیورسٹی اور چین کی زیجیانگ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے متاثر ہونے سے قبل جسم میں وٹامن کی اچھی مقدار بیماری کی سنگین شدت اور موت کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اس تحقیق میں جسم میں جینیاتی طور پر وٹامن ڈی کی سطح ، سورج کی روشنی سے جلد میں وٹامن کی پروڈکشن اور کووڈ کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں وٹامن ڈی کی کمی اور وائرل و بیکٹریل نظام تنفس کی بیماریوں کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا تھا۔اسی طرح کچھ مشاہداتی تحقیقی رپورٹس میں بھی کووڈ اور وٹامن ڈی کے درمیان تعلق کا ذکر کیا گیا، مگر یہ بھی خیال کیا گیا کہ یہ دیگر عناصر جیسے موٹاپے، زیادہ عمر یا کسی دائمی بیماری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے،تحقیق میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو دیکھا گیا تھا جن میں کووڈ سے پہلے یو وی بی ریڈی ایشن کے اجتماع کو دیکھا گیا تھا۔نتائج سے عندیہ ملا کہ وٹامن ڈی ممکنہ طور پر کووڈ کی سنگین شدت اور موت سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
محقین نے بتایا کہ نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوتا ہے کہ وٹامن ڈی سے ممکنہ طور پر کووڈ کی سنگین شدت سے تحفظ مل سکتا ہے، اس حوالے سے وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے کنٹرول ٹرائل کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرائل کے ہونے تک وٹامن ڈی سپلیمنٹس کا استعمال محفوظ اور سستا طریقہ کار ہے جن سے بیماری کی سنگین پیچیدگیوں سے تحفظ ملتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کے خلاف زیادہ مؤثر تھراپیز نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے خیال میں یہ اہم ہے کہ وٹامن ڈٰ کے حوالے سے سامنے آنے والے شواہد پر ذہن کو کھلا رکھا جائے۔انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے استعمال کے مشورے کو سپورٹ ملتی ہے جس سے نہ صرف ہڈیوں اور مسلز کی صحت کو درست رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ اس سے کووڈ کی پیچیدگیوں سے بھی ممکنہ تحفظ مل سکتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔
��������