تھنہ منڈی // ڈپٹی کمشنر راجوری راجیش کمار شاون کی صدارت میں ڈاک بنگلہ راجوری میں ضلع بھر کے علماء اور معززین کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں علماء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ اسٹنٹ کمشنر راجوری محمد اشرف ، سی ایم او راجوری ڈاکٹر شمیم النساء بھٹی، ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر انیس مرزا اور ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کے علاوہ ضلع کے کئی اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ کورووائرس کی تیسری لہر ہم سب کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے تاہم ہر ایک شخص کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹیسٹ کروانے کیساتھ ساتھ ویکسین لے ۔انھوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ کوونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں جموں و کشمیر پولیس اور سول انتظامیہ کا تعاون کریں۔سیول انتظامیہ اور محکمہ صحت کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی اقدامات اوراحتیاطی تدابیر پر بھی بھرپور عمل کیا جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ اس وبا سے بچنے کیلئے ہاتھوں کو بار بار دھویا جائے ،سماجی دوری برقرار رکھی جائے، اور ماسک وغیرہ کا استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ غیرضروری رش اور ہجوم کرنے سے گریز کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ تمام لوگ حکومت اور محکمہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہوکر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے پولیس اور انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر صدر انجمن علمائے اہلسنت حافظ محمد سعید نے ضلع انتظامیہ اور پولیس کو کووڈ-19 کے خدشات کے پیش نظر نماز اور تراویح کے اہتمام کے حوالے سے متعلق جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ حافظ سعید نے مزید کہا کہ منڈیوں، بینکوں، شاپنگ مالز اور اس نوعیت کی دیگر جگہوں کو ایس او پیز کے تحت استثنیٰ حاصل ہے حالانکہ ایسی جگہوں میں لوگوں کا ہجوم اور مناسب احتیاطی تدابیر کا فقدان بھی ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس مساجد میں احتیاطی تدابیر کے باوجود لوگوں کے مختصر وقت کو کرونا وائرس کے فروغ کا سبب قطعی طور نہ سمجھا جائے. اْدھر ضلع انتظامیہ نے بھی یقین دہانی کروائی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ضلع انتظامیہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھنے کی وعدہ بند ہے۔