سرینگر// جموں کشمیر حکومت نے کرونا بیماری سے متاثرہ ملازمین کی رخصتی کیلئے قواعد و ضوابط اور رہنما خطوط جاری کئے ہیں جس میں اس بیماری سے جھوجھنے والے ملازمین کو کچھ راحت دی گئی ہے۔ سرکاری کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر سروس قواعد میں رخصتی کے حوالے سے چند جزوی ترمیم لائی گئی ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ خزانہ اتل ڈھلو کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیاہے،’’آئین ہند کے آرٹیکل 309 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر سول سروسز (رخصتی)مجریہ1979میں کچھ ترامیم کی ہیں‘‘۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ اگر سرکاری ملازم کرونا مثبت ہوگا اور وہ گھر میں علیحدہ ہو یا قرنطینہ میں ہو ،اس کو میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے بغیر کویڈ رپورٹ کی بنیاد پر صرف 20 دن تک کمیوٹڈ ( طبی بنیادوںنصف تنخواہ رخصتی)رخصت دی جائے گی اور اگر یہ رخصتی دستیاب نہ ہو تو اس کو15دنوں کی خصوصی رخصتی کے بعد5روز کی’ای ایل ‘ یا ایچ پی ایل رخصتی دی جائے گی اور اگر یہ بھی دستیاب نہ ہو تو اُسے میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کے اصرار کے بغیرغیر معمولی رخصتی فراہم کی جائے گی اور مدت بھی کوالیفائنگ سروس کے لیے شمار کی جائے گی۔ سرکار کا کہنا ہے کہ اگر ملازم کویڈ مثبت ہوگا اور اسپتال میں بھرتی ہوگا تو اس صورت میں اُسے20روز کی کمیوٹیڈ رخصتی اس دن سے دی جائے گی جس دن سے وہ کویڈ مثبت ہوگا اور اگر اسپتال میں اس کی مدت20 دن سے تجاوز کرے گی تو اسپتال دستاویزت کی بنیاد پر اس میں توسیع کی جائے گی۔تاہم ، ہسپتال سے رخصت ہونے کے بعد ، اس کو صحت یابی کے لیے گھر پر رہنے کی ضرورت ہے ، اسے متعلقہ مجاز حکام کی منظوری کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھٹی دی جا سکتی ہے۔سرکاری حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ملازم کے والدین یا کوئی کنبہ کا فرد کویڈ بیماری میں مبتلا ہوگا تو اس صورت میں اسے ان پر انحصار کرنے والے کنبے کے فرد کا کویڈ ٹیسٹ پیش کرکے قرنطینہ رخصتی دی جائے گی۔مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم براہ راست کویڈ بیماری میں مبتلا مریض کے رابطے میںا ٓتا ہے تو اس صورت میں7دنوں کیلئے انہیں گھر سے کام کرنے والا ملازم تصور کیا جائے گا اور اس مدت کے بعد انہیں کسی بھی قسم کی دستیاب رخصتی فراہم کی جائے گی۔ بندش زدہ علاقوں میں رہائشی ملازمین کو گھر سے کام کرنے والا ملازم ہی تب تک تصور کیا جائے گا جب تک کہ اس علاقے سے بندشوں کوہٹایا نہیں جاتا۔