لندن //دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کے باوجود تاحال کورونا کی شدت میں کمی نہیں دیکھی جا رہی اور 13 اپریل کی دوپہر تک دنیا کے 185 ممالک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 18 لاکھ 85 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔کورونا کے مریضوں کے حوالے سے امریکا ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ ہلاکتوں کے حوالے سے بھی امریکا سب سے اوپر ہے۔دنیا بھر میں 13 اپریل کی دوپہر تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 14 ہزار 979 تک جا پہنچی تھی۔کورونا وائس کی وجہ سے اگرچہ سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوچکی ہیں، تاہم مجموعی طور پر ہلاکتوں کے حوالے سے براعظم یورپ سر فہرست ہے۔جوہن ہاپکنز، عالمی ادارہ صحت اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے بنائے گئے کورونا وائرس کے آن لائن میپ کے اعداد و شمار کے مطابق 13 اپریل کی دوپہر تک یورپ بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 80 ہزار تک جا پہنچی تھی۔یورپ میں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں، وہیں کورونا سے متاثر سب سے زیادہ مریض بھی اسی براعظم کے ہیں اور وہاں پر وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 8 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔امریکا میں گزشتہ ایک ہفتے سے ریکارڈ ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں یومیہ 1400 سے 2 ہزار تک ہلاکتیں ہو رہی ہیں، اسی وجہ سے وہاں پر 12 اپریل کی شب تک ہلاکتیں بڑھ کر 22 ہزار سے زائد ہو چکی تھیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے مرنے ے والوں کی تعداد 22 ہزار کے پار پہنچ گئی ہے ۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کا نیو یارک اس جان لیوا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ یہاں پراب تک اس سے 6898 افراد کی موت ہو چکی ہے ۔ یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک امریکہ میں 28.06 لاکھ لوگوں کی کورونا وائرس کی جانچ کی جا چکی ہے ، جس میں 4.62 ملین افراد کی جانچ صرف نیویارک میں کی گئی ہے ۔ امریکہ میں اب تک 32988 لوگ کورونا وائرس کے انفیکشن سے ٹھیک ہوئے ہیں۔ عالمی وبا کووڈ -19 کی وجہ سے امریکہ میں سب سے زیادہ( 22020 ) افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ اٹلی میں 19899 اور سپین میں 17209 لوگوں نے جانیں گنوائی ہیں۔وہیں فرانس میں کوروناوائرس سے 14000 افراد کی موت ہوئی ہے ، اور 1.34 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں کورونا وائرس سے 657 اورافراد کی موت کے بعد یہاں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 10612 ہو گئی ہے ۔کورونا وائرس کا مرکز سمجھے جانے والے چین میں اگرچہ ڈیڑھ ماہ قبل ہی کورونا وائرس کی شدت کم ہوگئی تھی اور وہاں کورونا کے مریضوں کے لیے بنائے گئے عارضی ہسپتال بند کردیے تھے۔کورونا کے مریضوں کی صحت یابی کے بعد چین میں لاک ڈاؤن کو بھی ختم کردیا گیا تھا مگر ماہرین نے پہلی ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہاں کورونا پھر سے حملہ کر سکتا ہے اور اس کی ایک جھلک 13 اپریل کو دیکھنے کو ملی۔چینی حکام نے 13 اپریل کو تصدیق کی کہ ملک میں 6 ہفتوں بعد پہلی بار 108 نئے کیسز سامنے آئے، تاہم سامنے آنے والے تمام نئے کیسز بیرون ممالک سے آنے والے افراد میں پائے گئے۔