سرینگر //مرکزی وزیر صحت من سکھ منداویہ نے سنیچر کوکورنا وائرس کی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے جی ایم سی بارہمولہ میں 50بستروں پر مشتمل آئی سی یو اور آکسیجن سہولیات سے لیس نقل پذیر( محدود مدت) اسپتال کا افتتاح کیا۔اسپتال میں موجود سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پرنسپل جی ایم سی بارہمولہ ڈاکٹر ربی ریشی نے بتایا ’’ امریکہ انڈین فائونڈیشن کے اشترا ک سے جی ایم سی بارہمولہ میں تین کمروں اور 50بستروں سے لیس اسپتال کا قیام عمل میں لایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50بستروں پر مشتمل اسپتال میں 8بستروںآئی سی یون جبکہ 42بستر وارڈوں میں تقسیم کئے گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ربی ریشی نے بتایا کہ 50بستروں پر مشتمل اس اسپتال کے سبھی بستروں پر آکسیجن دستیاب ہے اور ان کو حالیہ میں نصب 1000لیٹر فی منٹ آکسیجن دینے والے پلانٹ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکن انڈین فائونڈیشن نے بھارت کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں اس سے قبل4ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں قائم کئے ہیں ۔ ربی ریشی نے بتایا ’’ جموں و کشمیر میں جی ایم سی بارہمولہ کا انتخاب ہوا تھا ‘‘۔ڈاکٹر ربی ریشی نے بتایا’’ کورونا مریضوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ اسپتال کومریضوں کا علاج کرنے میں مشکلات درپیش آتی تھیں اور اسلئے کبھی اسپتال اور کبھی انڈور سٹیڈیم بارہمولہ میں بستر نصب کرنے پڑتے تھے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ نقل پزیر اسپتال کیلئے تین کمروں کی بنیاد جی ایم سی بارہمولہ نے خود ڈالی جبکہ اسپتال کیلئے دیواری اور دیگر سہولیات کا انتظام فائونڈیشن نے کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 25دنوں میں مکمل کئے گئے اس اسپتال سے کورونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر سے نپٹنے کیلئے مریضوں کو تمام سہولیات دستیاب ہونگی۔ ڈاکٹر ربی ریشی نے بتایا کہ اسپتال میں ائے سی اور دیگر سہولیات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال 5 سال تک رہتا ہے اوریہ مریضوں کو منفی 40میں بھی بہتر گرمی دے گا۔اس سے قبل یہ اسپتال ممبئی، دلی، مدھیہ پردیس اور اسام میں قائم کئے گئے ہیں ۔