گزشتہ ایک سال سے جب سے پوری دنیا میں کورونا کا قہر برپا ہوا، تب سے ہر ملک میں لوگ مختلف طریقوں کے ذریعے کورونا سے لڑنے کی مختلف تدبیر ڈھونڈ ھ رہے ہیں۔ڈاکٹروں، Nutritionists اور Dieticians کے مطابق اس جنگ میں اصلی فتح ہم ادویات کے ساتھ ساتھ مقوی غذاؤں کے استعمال کے ذریعے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ کوویڈ-19کے ایک مثبت اثر کے طور پر ہماری غذائی عادتوں اور غذاؤں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ ہر کوئی اپنے قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کی فکر میں ہے اور گھروں میں قیام کے دوران خود کو چست رکھنا چاہتا ہے۔
ہر کوئی متوازن اور تغذیہ بخش غذا کی فکر میں ہے تاکہ کوویڈ19- وائرس کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکے۔ اس وقت جن غذاوں نے اپنی طرف لوگوں کی توجہ مرکوز کی ہے ان میں Millets سرفہرست ہے۔ Millets کا استعمال غذا کے طور پر صدیوں سے کیا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ عرصہ میں لوگ اسے خاص طور سے ہندوستان میں تقریباً بھول چکے ہیں اور اس کی جگہ پالش کئے ہوئے چاول اور میدہ ملے ہوئے آٹے نے لے لی ہے۔ Millets کا استعمال اب صرف غریبوں تک محدود رہ گیا ہے۔ زرعی سائنس دانوں کے مطابق Millets اجناس کا ایک گروپ ہے جس میں باجرہ، جوار ، راگی ، امریکی جو اور دیگر قسم کے اجناس شامل ہیںجو کہ تغذیہ اور وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں۔
ان اجناس میں اعلیٰ قسم کا ہاضمہ کرنے والا فائبر ، وٹامن ، منرل اور دیگر اجزاء شامل ہوتے ہیں۔قوتِ مدافعت کو بڑھانے والی غذا کے طور پر ایک مرتبہ پھر ان اجناس کی طلب میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق انسانی جسم کا معدہ چکنی چیزیں کھانے کے لیے نہیں بنا ہے، جب تک آپ اسے ایندھن کے طور پر سخت اجناس نہیں دیں گے تب تک وہ آپ کے جسم کو بھرپور توانائی مہیا نہیں کراسکتاہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اب سے 60-70سال پہلے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذا کونسی تھی؟ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ یہ باجرہ تھا اور آج بھی دنیا کی ایک تہائی آبادی باقاعدہ باجرہ کا استعمال کرتی ہے۔یہ کم تر سمجھی جانے والی غذا ایک مرتبہ پھر اس وجہ سے اہمیت اختیا رکررہی ہے کیوں کہ اس میں قوتِ مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت دیگر غذاؤں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ Millets کو تغذیہ سے بھرپور غذاؤں کا سوپر اسٹار کہا جاتا ہے۔ اور اب اس میں شامل اجناس کو سوپر فوڈ کا درجہ بھی دیا جارہا ہے۔ ان اجناس میں کیلشیم ، تھیامائن اور میگنیزیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ان اجزاء کی موجودگی کی وجہ سے انسان کا قوت مدافعت کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔ باجرہ پروٹین کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ جب کہ اس میں دیگر اجزاء بھی جو جسم کو قوت پہنچانے کے لئے ضروری ہیں اس میں اچھی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
Millets کے طبی فائدے
زرعی سائنس دانوں کے مطابق باجرہ چھوٹے تغذیہ بخش غذاوں کا ایک گروپ ہے جو خشک سالی میں بھی پیدا ہوتے ہیں اور موسم کے دیگر سنگین حالات کو بھی برداشت کرتے ہیں۔ ان کے لئے کیمیائی اشیاء جیسے کھاد اور کیڑے مار ادویات کا استعمال بہت کم ہوتا ہے۔ باجرہ کی کئی فصلیں ہندوستان میں اگائی جاتی ہیں اور یہ عام طور پر دستیاب ہیں۔ صدیوں سے انسانی جسم کی عام کارکردگی کے لئے درکار اجزاء فراہم کرنے والی غذا کے طور پر انہیں استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ غذائیں الرجی اور گلوٹین (Gluten) سے پاک ہوتی ہیں۔ باجرہ کے استعمال سے قلب کی بیماریوں کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔ ہر قسم کا باجرہ استعمال کے لئے بہترین ہوتا ہے اور یہ غذائیں جلد ہضم ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے پیٹ کی شکایتوں کا خطرہ بھی کم رہتا ہے۔نیوٹریشنس باجرہ کی غذائیںاستعمال کرنے کی سفارش کرتے ہیں کیوں کہ ان میں تغذیہ اور ہاضمہ کے اجزاء بھرپور ہوتی ہیں۔ اس میں نیوٹریشنس ، کیلشیم ، آئرن اور فاسفورس وغیرہ کی مقدار بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں Glycemic Index کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بلڈشوگر میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔اس لئے باجرہ کو ہماری روز مرہ کی غذاوں کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
بیشتر طبی ماہرین باجرہ جیسی غذاوں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں کیوں کہ ان میں ترشہ اور گلوٹین شامل نہیں ہوتے۔ اس سے ٹائپ II ذیابیطس روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ غذائیں بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ گیاسٹروانٹرولوجی کے حالات کو کم کرتی ہیں۔ گیسٹرک السر یا کولون کینسر سے بھی اس کی وجہ سے روک تھام ہوسکتی ہے۔ ہاضمہ ، گیسیس ، ملتی ، کھٹے ڈکار وغیرہ کے مسئلہ کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔ باجرہ میں ہر طرح کی نیوٹرینس اور پروٹینس کی بھرپور مقدار ہوتی ہے۔ باجرہ میں 7 سے 12 فیصد پروٹین ، 2 سے 5 فیصد چربی، 65 سے 75 فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 15 سے 20 فیصد ڈائیٹری فائبر ہوتا ہے۔لازمی امینو ایسڈ بھی ان غذاؤں میں پایا جاتا ہے جو دیگر غذاوں جیسے مکئی وغیرہ سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
Millets کو بڑھاوا دینے کی تدابیر
حکومت ہند نے 2018 کو Millets کا قومی سال قرار دیا تھا جس کے ذریعے تغذیہ سے بھرپور ان غذاؤں کی کاشت اور ان غذاؤں پر مبنی زرعی صنعتوں کے فروغ کی کوششیں ایک جامع طریقے سے شروع کی گئی تھیں۔ وزیراعظم مودی کے مطابق ہندوستان کو Millets کی کاشت کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک انقلابی منصوبے پر کام کرنا ہے تاکہ اچھی صحت اور تغذیہ سے بھرپور غذا کی پیداوار کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے اقوام متحدہ میں ایک قرار داد بھی پاس کرائی ہے جس کے مطابق 2023 کو Millets کے بین الاقوامی سال کے طور پر منایا جائے گا۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں Millets پر مشتمل فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا ہے۔ہندوستان کے پالیسی سازوں نے Millets کی کاشت کو فروغ دینے کی سمت اپنی توجہ تھوڑی مرکوز کی ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے اس سلسلہ میںجو اسکیمیں پیش کی گئی ہیں ان میں آئی سی ڈی پی ۔ سی سی ، مائیکرو مینجمنٹ اور اگریکلچر ، باجرہ کی پیداوار کے لئے ترغیب کے ذریعہ تغذیہ کی سلامتی کے اقدامات (آئی این ایس آئی ایم پی ) راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (آر کے وی آئی ) شامل ہیں۔ان اسکیموں کا مقصدMillets کی پیداوار کے لئے نہ صرف جامع اقدامات کرنا ہے بلکہ Millets کی کاشت سے ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرنا بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی Millets کی کاشت کاری کو خشک اراضی رکھنے والی ریاستوں میں فروغ دیا جاسکتا ہے تاکہ کسانو ںکی آمدنی میں معقول اضافہ رونما ہوسکے۔ تاہم Millets کی پیداوار اور فروغ کے لئے ابھی کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
پالیسی سازوں کو چاہئے کہ وہ قومی مشن کے طور پر اس پروگرام کو آگے بڑھائیں اور پوشن ابھیان میں اسے شامل کریں۔ Millets کے استعمال کے احیاء پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ تجارت کے لئے ایک جامع منصوبہ کاشت کاروں کی مدد کرسکتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں Millets کو عوامی نظامِ تقسیم کے ذریعہ عوام تک پہنچانے کی بھی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی تغذیہ سے بھرپور Millets کو سرکاری اسکولوں میں دیے جانے والے Mid Day اسکیم کے تحت دوپہر کے کھانے کی اسکیم میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ بچے اس کے ذائقے سے بچپن میں ہی واقف ہوسکیں اور بڑے ہوکر بھی وہ ان اجناس کو کھانے کی عادت ڈال سکیں۔
ان دنوں ہر کوئی کورونا سے لڑنے کے لئے اپنے جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے کی فکر میں ہے اور صحت مند جسم کے لئے مناسب غذا تلاش کررہا ہے۔ اس کام میں Millets ان کی مدد کرسکتے ہیں وہ بھی نہایت کم قیمت پر۔ حکومت کو Millets کے استعمال کو عام بنانے کے لئے نوجوانوں کو اس طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے ایک ملک گیر تشہیری مہم شروع کی جاسکتی ہے۔ جیسے جیسے بازار میں Milletsکی مانگ بڑھے گی ویسے ویسے ہی آپ اس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتے ہیں۔ Millets کی کاشت کو ان ریاستوں میں جہاں آبی وسائل کم ہیں یا بارش کم ہوتی ہے کے ساتھ ہی پہاڑی علاقوں میں بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ گیہوں، چاول اور دوسرے اجناس کے مقابلے میں Millets کی ایک فصل 45دن سے 60 دن میں تیار ہوجاتی ہے۔ یعنی کہ ایک سال میں کسان Millets کی دو سے زیادہ فصلوں کی کاشت کرکے اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ گیہوں اور چاول کی فصل وہ سال میں صرف دو بار ہی کاشت کرپاتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کا اثر یہ ہوگا جیسے جیسے Millets کی مانگ میں اضافہ ہوگا اسی کے ساتھ ساتھ اس کی کاشت کرنے میں کسانوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی اور اس کے ساتھ ہی ان کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
ڈاکٹرس، Nutritionists اور Dieticians کے مطابق اگر ہم اپنے روز مرہ کے کھانے میں Millets جیسے اجناس کو مناسب طریقے سے استعمال کرنا شروع کردیں تو یہ ہماری جسمانی مدافعت بڑھانے میں مدد کرنے کے علاوہ مجموعی طور پر ہماری صحت میں بھی کافی مثبت تبدیلیاں لانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہمیں کئی موذی امراض سے چھٹکارا پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس
اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
���
ای میل؛[email protected]