نئی دہلی // کورونا وائرس کی تیسری لہر کا آغاز اگست کے چوتھے ہفتے سے ہوگا اور یہ بات تقریباً یقینی ہے۔انڈین میڈیکل ریسرچ آف انڈیا کے سینئر سائنسدان سمرن پانڈا، جو وبائی امراض اور وائرس کی بیماریوںسے متعلق خصوصی شعبہ کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا ہے کہ ملک میں اگست کے چوتھے ہفتے سے یومیہ ایک لاکھ مریض سامنے آئیں گے اور ہلاکتوں میں بیحد اضافہ ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ریاستوں کو خود اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کورونا وائرس کے کس مرحلے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے کے چوتھے ہفتے سے تیسری لہر کی شروعات ہونے کے امکانات ہیں، لہٰذا ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔سینئر سائنسدان نے کہا ’’ دوسری لہر کے دوران بر وقت لاک ڈائون کے نتیجے میں وائرس کو پھیلنے سے بہت حد تک کامیابی حاصل کی گئی لیکن ابھی بھی بہت ساری ریاستیں ایسی ہیں جہاں آبادی کو بڑے پیمانے پر وائرس ہوسکتا ہے۔چند روز قبل انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے کہا تھا کہ تیسری لہر یقینی ہے کیونکہ بندشیں ہٹانے کے بعد لوگوں کی بھیڑ پھر اسی طرح نظر آرہی ہے جس طرح عام حالات میں ہوتی تھی۔انہوں نے کہا کہ آبادی کے بہت بڑے حصے میں وائرس ابھی موجود ہے لہٰذا اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا اور ڈیلٹا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے جس اب تیسری لہر کی پہچان ہوگی۔مرکزی سرکار نے بھی اسی تناظر میں چند روز قبل کہا تھا کہ لوگ وائرس سے متعلق پیشگوئی کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں اور وہ اسے موسم کی پیش گوئی کی مانند لے رہے ہیں۔