جموں // //جموں چیمبرآف کامرس و انڈسٹری نے دعویٰ کیاہے کہ ہرایک کشمیری ریاست کی سرمائی راجدھانی میں خودکو محفوظ سمجھتاہے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے سی سی آئی صدر راکیش گپتا نے کہا’’اگر کوئی یہ کہہ رہاہے کہ کشمیری جموں میں محفوظ نہیں ہیںتو پھر برائے مہربانی ہمیں بتائے کہ وہ کہاں محفوظ ہیں، پورے ملک میں جموں ہی وہ واحد شہر ہے جہاں کشمیری اپنے گھر سے بھی زیادہ خود کومحفوظ محسوس کرتے ہیں ‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اگر وہ (کشمیری عوام)محفوظ نہیں ہیں توپھر ہزاروں کی تعداد میں طلباء اعلیٰ تعلیم کیلئے یہاں نہ آتے اور نہ ہی ریاست کے مختلف حصوں سے لوگ مستقل طور پر یہاں آکر آباد ہوتے ‘‘۔راکیش گپتا نے کہاکہ کچھ کشمیری سیاستدانوں کی طرف سے یہ غلط بیانیہ دیاجارہاہے کہ کشمیری جموں میں غیر محفوظ ہیں اور وہ جموں کے امن پسند اور محب وطن عوام کی اپنے ذاتی مفادات کی خاطر حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔راکیش کاکہناتھا’’یہ جموں کے لوگوں کے خلاف بڑی سازش ہے ، سوشل میڈیاپر کئی طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں لیکن یہ یہاں رہ رہے ان کشمیریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ وہ جموں میں کتنے محفوظ ہیں ‘‘۔انتظامیہ پر غیر ضروری طور پر جموں میں کرفیو نافذ کرنے اور ملک دشمن نعرے بازی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیمبر صدر نے کہاکہ جموں ملک دشمن عناصر کو برداشت نہیں کرسکتا،انتظامیہ ملک دشمن نعرے بازی کرنے والوں کی نشاندہی کرے اور بغیر کسی تاخیر کے انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیلاجائے ۔راکیش گپتا نے جموں وکشمیر پولیس کے سائبر سیل کی صلاحیتوںپر سوالات کھڑے کرتے ہوئے کہاکہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی جو ہندوستان مخالف پروپیگنڈے کیلئے فرضی اکائونٹ چلارہے ہیں۔کرفیو میں دی گئی ڈھیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ آج سے کرفیو ہٹانے کے احکامات صادر کریں کیونکہ جموں کے امن پسند اورمحب وطن لوگوں سے صورتحال کبھی بے قابو نہیں ہوئی ۔