سرینگر //کشمیری مردوں کی پاکستانی بیویوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کے رہنما یوسف تاریگامی نے کہا کہ خطے میں مسلح تنازعہ شروع ہونے کے بعد کشمیری مردوں سے چند سو پاکستانی خواتین نے شادی کی اور وہ اس وقت یہاں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ایک بیان میں تاریگامی نے کہا کہ سال 2010 میں عمر عبد اللہ کی زیرقیادت حکومت میں یہ لوگ پْر امن زندگی گزارنے کے لئے ایک پالیسی کے تحت وادی واپس لوٹ آئے۔ لیکن وہ یہاں دکھی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ نہ تو انہیں شہریت کے حقوق دیئے گئے ، نہ ہی سفری دستاویزات فراہم کئے گئے۔ یہ خواتین اور ان کے بچے نہ تو واپس جاسکتے ہیں اور نہ ہی کشمیر میں اپنے حقوق کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے وہ پاکستان جانے کے لئے،حقوق شہریت اور سفری دستاویزات کے حصول کے لئے کشمیر کے مختلف حصوں میں احتجاج کر رہی ہیں ، لیکن حکومت میں کوئی بھی ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیر میں ایسی بہت سی خواتین دو وقت کی روزی روٹی کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں اور انہیں بے حد ذہنی صدمے اور اذیت کا سامنا ہے۔تاریگامی نے کہا کہ حال ہی میں ، ڈی ڈی سی انتخابات کے عمل میں ایسی خواتین کی شرکت پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور ان دو مقامات پر انتخابات منسوخ کردیئے گئے جہاں ایسی خواتین چنائولڑ رہی تھیں۔ ان خواتین کو اپنے بچوں سمیت حکومت نے بحالی کے ایک وعدے پر یہاں لایا تھا۔ لیکن یہ بات پوری طرح چونکانے والی ہے کہ ان برسوں کے دوران ان خواتین اور ان کے بچوں کو صرف ذلت اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔تاریگامی نے کہاکہ حکومت ہند کو چاہئے کہ یا تو انہیں واپس بھیج دیا جائے یا انہیں سفری دستاویزات فراہم کئے جائیں تاکہ وہ سرحد پار اپنے والدین ، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے مل سکیں۔ ان کے بچوں کو بھی سفری دستاویزات اجرا کئے جائیں تاکہ وہ چاہیں تو وہ باہر تعلیم حاصل کرسکیں یا کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسان دوست مسئلہ ہے اور اسے انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بحالی کا 2010 کا وعدہ سراسر فریب تھا ، لیکن اب وقت آگیا ہے جب حکومت ہند کو ان کی حالت زار پر فوری طور پر فیصلہ لینے کی ضرورت ہے.