وادی کشمیر جنت ارضی کہا جانے والا خطہ ہے مگر اسی جنت بے نظیر میں ہر سو تباہی کے جو دل خراش مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ،ا سے لفظوں میں بیان کرنے سے قلم قاصر ہے۔ ہر گزرتے دن وردی پوش اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے نوجو انوں کا قتل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وادی میں انسانوں کو انسانی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ، یہاں انسان حیوان سے بھی بد تر مانا جاتا ہے۔کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں،کم سن اور بے گناہ طلبہ کا قتل کی راہ ہموار کر نے کے لئے افسپا اور پی ایس اے، جیسے کالے قانون نافذالعمل ہیں ۔ایک نظر ہندوستانی آئین پر ڈالئے تو نظرآتاہے کہ اس انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوںکے تحفظ کے لئے کتنی خوشنما باتیں کہی گئی ہیں ۔ آئین ہند میں یہ الفاظ سنہری الفاظ سے لکھے گئے ہیں کہ تمام انسان عظمت و حقوق کے معاملے میں مساوی حیثیت رکھتے ہیں اور بنا تمیز رنگ و نسل، زبان و مذہب وغیرہ تمام شہری،سماجی، اور ثقافتی حقوق میں یکساں ہیں ۔ انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ دفعہ ۲ کے ذریعہ شہر یوں کے لئے حق مساوات عطا کرتا ہے ۔ یہ مساوات ان تمام حقوق اور آزادیوں کی بابت حاصل ہے جن کی بین الاقوامی دستاویزات میں ضمانت دی گئی ہے اور اس اعلامیے کی دفعہ ۷ میں یہی ضمانت دی گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قانون کی نظر میں سب برابرہیں تو صرف کشمیری عوام کے ساتھ سو تیلی ماں جیسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے ؟کیوں کشمیریوں کی بے گناہ ہلاکتوںپر قانون خاموش تماشائی ہے ؟ اگر آئین ِ ہندمیں انسانی زندگی اور انسانی حقوق لازم و ملزم ہیں اور یہ ضمانت دی گئی ہے کہ انسانیت سوز حرکات سے کسی بھی شخص کی جان نہیں لی جاسکتی تو کشمیر میں یہ قانون کیوں نہیں چلتا؟ بھارت کے آئین کی دفعہ ۲۱؍ میں جان اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، امریکی آئین کی پانچویں اور چودھویں ترامیم میں بھی اس کا اعادہ کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ میںبھی دفعہ ۳ کے تحت ہر شخص کو زندگی ،آزادی،اور اپنی ذات وعقیدے کے تحفظ کا حق عطا کرتا ہے
لیکن بالعموم ہندوستانی مسلمانوں اور بالخصوص کشمیریوں کیلئے یہ آئین کسی بھی اہمیت کا حامل نہیں ہے اور اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنا روزمرہ بات ہے ۔ ملک کے بٹوارے کے ساتھ ہی ہندؤں انتہا پسند اس بات کا دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ مسلمان اجنبی ہیں اوران کا ہندوستان پر کوئی حق نہیں ، ہردور کی مرکزی حکومت نے ہمیشہ ہی ان کا براہ راست یا بالواسطہ ساتھ دیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں پر اس طرح کے ناقابل بیان ظلم وستم کئے جاتے ہیں کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور آنکھوں سے انسوؤںکی لڑی جڑنے لگتی ہے ۔کبھی گائے کا گوشت کھانے پر ، کبھی اذ ان پر ، کبھی قمیض شلوار پہننے پر اورنہ جانے مسلمانوں کو کیا کیابہانے بنا کر کے تنگ کیا جاتا ہے ۔ کشمیر کی رام کہانی اور ہے، یہاں وردی پوش اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے لوگوں کا قتل ، پیلٹ گن کا استعمال، افسپاوغیرہ کا چلن اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کی یہاں انسانیت نہیں بلکہ درندگی کی جے جے کار ہے ۔دنیا کے کسی بھی حصے میں پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا جاتا لیکن کشمیری مسلمانوں پراس کا بے دریغ استعمال جاری ہے جو بتاتا ہے کہ یہاں انسانی حقوق کا تحفظ تو دور تصور بھی نہیںہے ۔ کشمیر میں گزشتہ ستائیس سال سے اگر چہ سرکار ہر بار کی طرح ماورائے عدالت قتل کی انکوأیری کرنے اور ملزموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی بے بنیاد باتیں کر تی رہتی ہے لیکن بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگے وردی پوش اہلکاروں کو قانون کے کٹھرے میں کھڑا کر دیا جائے گا یا یہاں انسانی حقوق کی پامالیاں رُک جائیں گی وہ دیوا نے کا خواب ہے کیونکہ یہاں فور سز کو وسیع تراختیارات حاصل ہیں اور یہ بدنام زماں قانون عرف عام میں افسپا کہلاتا ہے۔
اس میں کو ئی شک نہیں کہ ریاست جموں کشمیر کے ناراض عوام پر ریاستی اور مرکزی سرکار کی طرف سے طرح طرح کے ظلم و ستم روا رکھے جاتے ہیں ۔ ہر نئے دن یہاں ودری پوش اہلکاروں کے ذریعے نوجوانوں کا خون ہوتا ہے ۔ کشمیری عوام گلا پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم انصاف کے ذریعے امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف اگر جنگ لازمی ہے تو جنگ ہی سہی ، کشمیری قوم بزبان ھال کہہ رہی ہے کہ ہم ا پنے سیاسی حق کے لئے ٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور حق فتح یاب ہوگا مگر یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ، یہ جنگ محض اصولوں کی جنگ ہے ، جو خون دیا ہے، اس کا صلہ صرف آزادی ہے ۔جس وادی کے کونے کونے میں وردی پوش اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوانوں کا خون بہے ، بزرگوں کی تذلیل ہو ، ماں بہنن بیٹی کی عزت داؤ پر ہو جائے ،جہاں فوج اب عام شہریوں کو فوجی گاڑی کے بمپر سے باند ھ کر پوری لو گوں کو ہراساں کریں ، انہیں یہ پیغام دے کہ تم ہمارے کرحم وکرم پر ہو، گلی کوچوں میں اعلان عام کر ے کہ سنگ بازوں کایہی حال ہو گا ، جہاں اندھے قانون اور جنگل راج کا دور دورہ ہو، اس وادی میں قیام امن یا نارملسی کہاں ممکن ہے ؟ ریاست کی خون آشام تاریخ ہی نہیں بلکہ ضلع بڈگام کی تاریخ میں ۹ مئی ۲۰۱۷ء کا دن ہمیشہ یاد رہے کا کہ اس نے کشمیر کی تاریخ پر انمٹ نشان چھوڑ ا ۔ آج سے کچھ دن قبل فوجی اہلکاروں نے الیکشن کے نام پر نہتے لوگوں پر گولیاں چلا ئیں اور قتل وخون کی وہ داستان رقم کی جس نے وادی کے لوگوں کے دل و دماغ کو ہمیشہ کے لئے مجروح کر دیا ہے ۔ افسوس اور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ریاستی چیف منسٹر صاحبہ فوج اور فورسز اور پولیس کو قواعد کے شکنجے میں کسنے کے بجائے حالات کے متاثرین کے زخموں پر ہی نمک پاشی کر رہی ہیں ۔ محترمہ محبوبہ سمیت ہند نواز جما عتوں کے تازہ ھالات پر تیز طرار بیانات نہ صرف کشمیری عوام کے رستے زخموں کو ناسور بنا رہے ہیں بلکہ یہ اپنے گھناونے منصوبوں اور مظالم کی جوازیت دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔ یہ ایک ناقابل برادشت صورت حال ہے ۔ یاد رہے کہ جو لٹی پٹی قوم اپنی نوجوان نسل کو اپنے غصب شدہ حقوق کی حصولیابی کیلئے پیش کر ے ، اس قوم کی تقدیر میں فتح وکامرانی ہو تی ہیں ۔ آج کی تاریخ میں یہ بات اس زاویہ نگاہ سے درست ثابت ہورہی ہے کہ ۱۹۴۷ سے ۲۰۱۷ء تک گرچہ حکومت ہند نے ریاستی حکومت سے مل کر کشمیری عوام کو اپنے حق خودارادیت سے محروم کرنے کے لئے زہرلیے منصوبے اپنائے تاہم جری اور بہادر کشمیری عوام نے انہیں ہر محاذ پر نہتے ہوکر بھی شکست فاش دی ۔ کشمیری عوام کی بہادری اور جرأت کو دنیا سلام کر تی ہے ۔
۹ اپریل کو ضلع بڈگام و گاندربل کے علاقوں میں ضمنی الیکشن کے دن فوجی یا نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے نو (۹) بے گنا عام شہریوں کی ہلاکتیں، متعدد شہر یوں کا زخمی ہونا ،پیلٹ گن کا بے تحاشہ استعمال اور گرفتاریاں لوٹ مارجہاں باعثِ صد تاسف کارروائیاں ہیں ،و ہاں عوامی حلقوں میں اس بات پر کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ اس خون زیری پر سرکار کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی ہے جو گویا ان کو جائز تسلیم کر نے کے مترادف ہے ۔ حکومت کی جانب سے رسم نبھانے کے لئے ان کی ’’تحقیقات‘‘ کا اعلان بھی تادم تحریر نہیں کیا گیا۔ جہاں تک ۹ مئی کو پیش آئے خون آشام واقعات کا تعلق ہے، اس بارے میں پوری وادی کے بے بس عوام حیران و پریشان ہی نہیں بلکہ انگشت بدنداں ہیں کہ کس طرح وردی پوش اہلکاروں نے انتقاماً گولیاں چلا کر نوجوانوںکے خلاف ایسی خونیں کاروائیا کیں جو جولائی ۲۰۱۶ء کی یادیں تازہ کر تی ہیں ۔ الیکشن کے دوران ایسی ہلاکت خیز کاروائیاں پہلی بار دیکھی گئیں ۔ وادیٔ کشمیر شایدپوری دینا میں پہلی ایسی جگہ ہو گی جہاں فورسز کی طرف سے پتھرائو کرنے والوں پر براہِ راست گولیاں چلائی جاتی ہیں ۔ سرکار کا کام صرف ’’مظلوم ‘‘ فورسز کی وکالت ہوتی ہے جیسے خاتون وزیراعلیٰ نے ایک مقامی نوجوان کو بیر وہ میں انسانی ڈھال بنا نے کی کارروائی کی یہ کہہ کر حمایت کی اس سے خون خرابہ رُک گیا ۔ مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دن فوج نے آئو دیکھا نہ تائو بندوقوں کے دہانے نوجوانوں پر کھول دئے اور مختلف جگہوں پر نہتے اور معصوم نوجوانوں کو ابدی نیند سلا دیا ۔
کچھ عرصہ قبل بری فوج کے سربراہ نے ایک تقریب پر فوجی جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر میں جنگجو نوجوانوں کے خلاف آوپریشن کے دوران جو لوگ اس میں خلل ڈالنے کی کوشش کریں ، ان کو جنگجو تنظیموں کے اور گراؤنڈ ورکر تصور کر کے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ اس سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فوج کو کشمیرمیں اتنے سارے اختیارات تفویض کئے گئے ہیں کہ وہ مظاہروں کے دوران عوام پر بے تحاشہ گولیاں برسائیں اورا نہیں قبروں میں اُتاریں ۔ جو ہندوستان اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک سمجھتا ہے اور اسی بنا پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لئے وکشان ہے ، اسی ہندوستان کی فوج کو سول نافرمانی کا جواب دن دھاڑے نوجوانوں کے قتل و غارت گری ستے دینے کی آزادی ہے ۔محترمہ محبوبہ جی! آج آپ کا سیلف رول،انسانی حقوق کی پامالیوں پر زیرو ٹالرنس کی باتیں اور وہ جھوٹے وعدے جو آپ نے الیکشن کے وقت کئے تھے، وہ سب آں دفتر گاؤ خورد کیوں ہوا؟ آج کشمیر میں قتل و غارت گری پر آپ مہر بلب کیوں ہیں؟ کیاآج آپ جن سنگھ مکھوٹہ پہن کے اپنے بے بس اور بے سہارا ہم وطنوں کو مروا کرہی کرسی پر ہیں ؎
تجھے کس لئے شکوہ ہے کہ بچے گھر نہیں آتے
جو پتے زرد ہوتے ہیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے
تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو
وہ سنگ بازبن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں ہوتے
یقینا یہ رعایت بادشاہ کو قتل کر دے گی
مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رہتے
الیکشن سے قبل چاڈورہ میں ہوئیں ہلاکتوں کے بعد لاشوں کی حوالگی کے معاملے پر پولیس کا جو رول رہا ،وہ بے حد قابل افسوس ہے ۔ بالخصوس جب ایک نوجوان کی میت ایمبولینس میں ہسپتال سے آبائی گھر آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے لے جائی جا رہی تھی تو جہانگیر چوک سری نگرمیں پولیس نے میت کو جبراً اپنے قبضے میں لے کر اس کے لواحقین کو انتہائی پریشان کن صورت حال سے دوچار کیا ۔ وردی پوش ایک جانب بندوق کے دہانے کھول کر زندگیاں چھین رہے ہیں اور دوسری طرف لواحقین سے زیادتیاں کر کے ان کے پیاروں کی جسد خاکی اپنے قبضہ میں لے کرانسانیت کو شرمسار کر رہے ہیں۔ایمبولینس گاڑی میں کوئی توپ یا بمب نصب نہیں تھا بلکہ ایک ایسے نوجوان کی کوں سے تر لاش موجودتھی جس کو وردی پوش اہلکاروں جینے کے حق سے محروم کیا تھا، ایسی دل شکن صورت حال میں پولیس کا رول انتہائی شریفانہ ا ور ہمدردانہ ہو نا چاہیے تھا، مگر ان کا رویہ ناقابل برادشت رہا۔ اس طرح کے واقعات پر آگے عوامی رد عمل کو روکنا کیسے ممکن ہو گا ؟ مزید برآں جو لوگ زخم زخم عوام سے انہی گھمبیر حالات میں ووٹوں کی بھیک مانگ رہے تھے، کیا وہ اپنے واپر کوئی شرم بھی محسوس کرتے تھے ؟ ایک طرف کشمیری نوجوانوں کی نسل کاٹی جا رہی ہو اور دوسری طرف کرسی نواز سیاست دان اپنا سارا زور الیکشن ڈرامے کو کامیاب بناکر حقیر مفادات حاصل کرنے پر لگا تے رہے ، کیا ان کو اس چیز کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں کہ جو قوم ان کی بدولت، ان کے گناہ گارانہ فیصلوں کے سبب اور ان کی جفا کاریوں کی وجہ سے یہ سب کچھ گزشتہ ستائیس برس سے بھگت رہے ہیں، ان سے ووٹ طلب کر کے وہ وگیا بتا رہے تھے کہ ہم میں نہ حیا ہے نہ ضمیر ۔ فی ا لحقیقت فوجی دستوں اور پولیس کی طرف سے کئے جارہی قتل وخون کے متواتر واقعات ہمارے انہی سیاسی لیڈروں کے چہروں کے بد نما داغ ہیں ۔ یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو ہر ظلم جائز ٹھہرتا ہے اور اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو گورنر رول سے لے کر کشمیر حل کی ڈیمانڈ کر تے ہیں ، حالانکہ ان کی ساری سیاست نوجوانوں کو قبروں میں سلانے ، پھول جیسے بچوں کو یتیم بنانے ، بزرگوں کی لاٹھیاں توڑنے ، دلہنوں کو بیوہ بنانے اور کشمیر کو اہل کشمیر سمیت کو نیلام کر نے کے سوا کچھ اور نہیں ہوتی ۔ ہماری نوجوان نسل کو انہی سیاسی سوداگر وں نے بیچ کھایاہے اور زمانے کی حساس آنکھیں انہیں دیکھ کر خون کے آنسورو رہی ہیں ، دل جل رہے ہیں اور سینے درد سے پٹھے جا رہے ہیں ۔ آج اس سخت ترین غم وا ندوہ کے موقع پر وادیٔ چناب اور پیر پنچال کا ہر باشعور مسلمان اپنے کشمیری بھایئوں کے دردو غم میں برابر کا شریک ہے اور اللہ تعالیٰ سے بد عا ہے کہ کہ وہ ہمارے نئے اور پرانے معصوم شہداء کے صدقے اب کشمیر حل کی منصفانہ صورت نکالے ؎
مت پوچھ میرے صبر کی وسعت کہاں تک ہے
ستا کر دیکھ لے ظالم تیری طاقت جہاں تک ہے
ستم گر تجھ سے اُمیدِکرم ہو گی جنہیں ہو گی
ہمیں تو دیکھنا یہ ہے کہ تو ظالم کہاں تک ہے
رابطہ پنہڈ راجوری،شعبہ قانون سنٹرل یونیورسٹی کشمیر
8492832130