۔230 سرکاری ویب سائٹس کا سکیورٹی آڈٹ مکمل
سید رضوان گیلانی
سرینگر// جموں و کشمیر کے محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے منگل کو کشمیر یونیورسٹی میں ایک ریاستی سطح کی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد بھارت کے مجوزہ قومی سائبر سکیورٹی منصوبے کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔’ریاستی ڈیٹا کے لیے سائبر سکیورٹی فریم ورک کو مضبوط بنانے‘ کے موضوع پر یہ ورکشاپ محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور سپورٹ سسٹمز (IT&SS)، کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد سائبر خطرات کے خلاف مزاحمت کو مضبوط بنانا اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے کمشنر سیکریٹری آئی ٹی سوربھ بھگت نے کہا کہ نیشنل ای-گورننس ڈویڑن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی کے چیلنجز اور تیاریوں کے حوالے سے مشاورتی عمل مکمل کریں۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والی سفارشات قومی پالیسی فریم ورک میں شامل کی جائیں گی۔
ورکشاپ میں سائبر سکیورٹی کے خطرات، ڈیٹا کے تحفظ کے طریقہ کار اور ریاستی سطح کے اہم ڈیجیٹل نظاموں کی مضبوطی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس مقصد کے لیے چھ موضوعاتی گروپ تشکیل دیے گئے جنہوں نے خطرات کی بنیاد پر جائزہ، سکیورٹی نگرانی، سکیورٹی آپریشنز سینٹر ، پرانے نظاموں کی جدید کاری، ڈیٹا تحفظ، افرادی قوت کی تربیت اور ریاستی ڈیٹا سینٹر کی سکیورٹی جیسے موضوعات پر غور کیا۔سوربھ بھگت نے کہا کہ حکومت شہریوں کی شناخت، صحت، تعلیم، مالی لین دین، اراضی ریکارڈ اور فلاحی اسکیموں سے متعلق وسیع عوامی ڈیٹا کی محافظ ہے۔انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر تقریباً مکمل طور پر ای-گورننس کی جانب منتقل ہو چکا ہے، جہاں تقریباً 45 ہزار سرکاری صارفین ای-آفس پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں جبکہ روزانہ لاکھوں ڈیجیٹل لین دین انجام پاتے ہیں۔حالیہ سائبر خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کے مختلف انفراسٹرکچر پر تقریباً ایک لاکھ سائبر حملوں کی کوششیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں جموں و کشمیر ایک اہم ہدف تھا۔ان کے مطابق ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت کئی اہم ویب سائٹس اور ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل سائبر حملوں کا سامنا رہا، تاہم سائبر سکیورٹی ٹیموں اور مختلف ایجنسیوں کی مربوط کوششوں کے باعث کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اینڈ پوائنٹ ڈیٹیکشن اینڈ ریسپانس نظام کی تنصیب، فائر والز کو مضبوط بنانا، سرکاری دفاتر میں یو ایس بی رسائی کی نگرانی، ریاستی سکیورٹی آپریشنز سینٹر کا قیام، محکمہ جاتی سائبر سکیورٹی مینجمنٹ پلانز کی تیاری شامل ہیں۔بھگت نے بتایا کہ اب تک 230 سرکاری ویب سائٹس کا سکیورٹی آڈٹ مکمل کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اصلاحات اور سفارشات نافذ کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت ای-گورننس پلیٹ فارمز کے ذریعے 1548 آن لائن خدمات فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث یہ ملک کی صفِ اول کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجی لاکر، مائی گَو، جے اینڈ کے سمادان، جے اینڈ کے صحت، خدمت مراکز اور براہِ راست مالی امدادجیسی اسکیموں نے حکومتی خدمات کے ڈیجیٹل دائرہ کار کو مزید وسعت دی ہے۔سوربھ بھگت نے بتایا کہ حکومت نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) جموں کے اشتراک سے ایک مصنوعی ذہانت مرکزِ امتیاز (AI Centre of Excellence) کے قیام کی منظوری حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، مالیات، پولیس، سماجی بہبود اور باغبانی سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً 30 انتظامی چیلنجزکی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیے جائیں گے۔انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں کو اس عمل میں شراکت داری کی دعوت بھی دی۔بھگت نے وزیر اعلیٰ انٹرن شپ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت ہر سال 100 طلبہ کو حکومتی آئی ٹی اور ای-گورننس منصوبوں پر کام کرنے کے لیے ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ کے ساتھ انٹرن شپ فراہم کی جاتی ہے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کی سفارشات کو مرتب کرکے حکومتِ ہند کو ارسال کیا جائے گا تاکہ انہیں قومی سائبر سکیورٹی منصوبے کی تیاری میں شامل کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں جلد ہی جے پور میں قومی سطح کی کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی دنیا میں سائبر سکیورٹی کی اہمیت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہا،’’سائبر سکیورٹی اب صرف ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ عوامی اعتماد برقرار رکھنے اور حکومتی نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کا بنیادی عنصر بن چکی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا وسیع ڈیجیٹل نظام، جس میں امتحانات اور طلبہ کے ڈیٹا بیس شامل ہیں، حساس معلومات کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔پروفیسر نیلوفر خان نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی مکمل ای-گورننس نظام کے تحت کام کر رہی ہے اور اس کے پاس جدید ترین ڈیٹا سینٹر موجود ہے۔انہوں نے حکومت، جامعات اور صنعت کے ماہرین کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی، تحقیق اور ماہر انسانی وسائل کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔