امتیاز خان
انسانی تاریخ کے اس دور میں ہم بظاہر ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہے ہیں۔ ہمارے شہر پھیل رہے ہیں، عمارتیں بلند سے بلند تر ہو رہی ہیں، گھروں کے نقشے جدید ہو رہے ہیں اور آسائشوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے لیکن اسی ترقی کے شور میں ایک خاموش سوال مسلسل ہمارا تعاقب کر رہا ہے: کیا ہماری زندگیاں بھی اتنی ہی وسیع، پرسکون اور خوشحال ہوئی ہیں جتنے ہمارے مکانات؟
آج کا انسان بڑے گھر کا مالک بننے کو کامیابی کی علامت سمجھتا ہے۔ وسیع ڈرائنگ روم، کشادہ صحن، جدید فرنیچر اور ہر قسم کی سہولت اس کی ترجیحات میں شامل ہیں لیکن جب انہی گھروں کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو اکثر ایک عجیب سی خاموشی، تنہائی اور فاصلے محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مکانات تو بڑے ہو گئے ہیں مگر ان میں بسنے والی زندگیاں محدود، مصروف اور منتشر ہو چکی ہیں۔چند دہائیاں پہلے کا منظر یاد کریں تو چھوٹے چھوٹے گھروں میں بڑے خاندان آباد ہوتے تھے۔ ایک ہی دسترخوان پر سب کھانا کھاتے تھے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ مالی وسائل کم تھے لیکن خوشیوں کی کمی نہیں تھی۔ خاندان کا ہر فرد دوسرے کی ضرورت، پریشانی اور خوشی سے واقف ہوتا تھا۔ بزرگ گھر کا مرکز ہوتے تھے اور ان کی موجودگی گھر میں برکت اور سکون کا باعث سمجھی جاتی تھی۔
آج صورتحال مختلف ہے۔ گھر بڑے ہیں مگر خاندان چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر فرد کے پاس الگ کمرہ ہے، الگ اسکرین ہے، الگ دنیا ہے اور اکثر الگ ترجیحات بھی۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض گھروں میں والدین اور اولاد کے درمیان روزانہ چند منٹ سے زیادہ گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ فاصلے صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہیں۔اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ جدید ٹیکنالوجی بھی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہم ہزاروں میل دور لوگوں سے رابطے میں رہ سکتے ہیں لیکن افسوس کہ اپنے ہی گھر کے افراد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کھانے کی میز پر بیٹھے افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنی اپنی اسکرینوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ عید، شادی یا خاندانی تقریبات میں بھی لوگوں کی توجہ ایک دوسرے کے چہروں سے زیادہ موبائل فون کی اسکرین پر ہوتی ہے۔معاشی دوڑ نے بھی اس مسئلے کو گہرا کیا ہے۔ بہتر معیارِ زندگی کی تلاش میں انسان صبح سے رات تک مصروف رہتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے سخت محنت کرتے ہیں، مگر اکثر ان کے پاس بچوں کو دینے کیلئے وقت نہیں ہوتا۔ بچے مہنگے کھلونوں اور جدید آلات سے تو کھیلتے ہیں مگر والدین کی صحبت اور توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ جذباتی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دیہی معاشرے اور شہری زندگی کا موازنہ بھی دلچسپ ہے۔ دیہات میں آج بھی محدود وسائل کے باوجود لوگوں کے درمیان قربت، ہمدردی اور باہمی تعاون کا جذبہ نسبتاً زیادہ نظر آتا ہے۔ کسی گھر میں خوشی ہو یا غم، پورا محلہ شریک ہوتا ہے۔ اس کے برعکس شہروں میں ایک ہی کالونی میں برسوں رہنے والے پڑوسی اکثر ایک دوسرے کے نام تک نہیں جانتے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی کی وسعت کا تعلق صرف مادی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی تعلقات سے بھی ہے۔اس حقیقت کی کئی عملی مثالیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ کتنے ہی ایسے بزرگ ہیں جو عالی شان گھروں میں تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ کتنے ہی نوجوان جدید سہولتوں سے آراستہ زندگی کے باوجود ذہنی دبائو، اضطراب اور بے چینی کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صرف مادی ترقی انسان کو خوشی اور سکون فراہم نہیں کر سکتی۔یہ مسئلہ صرف خاندان تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔ جب انسان رشتوں، ہمسائیگی اور سماجی تعلقات سے دور ہوتا ہے تو اجتماعی زندگی کمزور ہو جاتی ہے۔ معاشرے میں بے حسی، عدم برداشت اور خود غرضی بڑھنے لگتی ہے۔ لوگ دوسروں کے مسائل سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور صرف اپنی ذات کے گرد محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ ہم گھر بنا رہے ہیں یا صرف عمارتیں؟ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف مادی آسائشیں دینا چاہتے ہیں یا محبت، اخلاق اور مضبوط خاندانی اقدار بھی منتقل کرنا چاہتے ہیں؟اس سلسلے میں چند عملی اقدامات انتہائی اہم ہیں۔سب سے پہلے خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کیلئے وقت نکالنا ہوگا۔ روزانہ کم از کم ایک وقت کا کھانا سب کو مل کر کھانا چاہئے۔ اس دوران موبائل فون اور دیگر مصروفیات سے اجتناب کیا جائے تاکہ حقیقی گفتگو کو فروغ مل سکے۔ بزرگوں کو خاندان کا فعال حصہ بنایا جائے۔ ان کے تجربات اور دعائیں کسی بھی گھر کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کے ساتھ وقت گزارنا نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ نئی نسل کی تربیت کیلئے بھی ضروری ہے۔ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنے کو ترجیح دی جائے۔ انہیں صرف سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی بات سننا، ان کے جذبات کو سمجھنا اور ان کے ساتھ یادگار لمحات گزارنا بھی ضروری ہے۔پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا جائے۔ ایک فون کال، ایک ملاقات یا کسی مشکل وقت میں مدد کا ایک چھوٹا سا قدم معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں توازن پیدا کیا جائے۔ ٹیکنالوجی سے فائدہ ضرور اٹھائیں لیکن اسے انسانی تعلقات پر حاوی نہ ہونے دیں۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی خوبصورتی گھر کے رقبے، دیواروں کی بلندی یا فرنیچر کی قیمت میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اس گھر میں بستے ہیں۔ محبت، احترام، خلوص، ایثار اور اپنائیت وہ عناصر ہیں جو کسی مکان کو گھر بناتے ہیں۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو وسیع ترین مکان بھی خالی محسوس ہوتا ہے اور اگر یہ موجود ہوں تو ایک چھوٹا سا گھر بھی جنت کا منظر پیش کرتا ہے۔’وسیع مکانات، محدود زندگیاں‘دراصل ہمارے عہد کا ایک آئینہ ہے۔ یہ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ کہیں ہم ترقی کی دوڑ میں زندگی کے اصل مقاصد کو فراموش تو نہیں کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مادی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ انسانی تعلقات، خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کو بھی اہمیت دیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کو سکون کشادہ کمروں سے نہیں بلکہ کشادہ دلوں سے ملتا ہے اور زندگی کی اصل وسعت مکان کی نہیں بلکہ محبت، تعلق اور انسانیت کی وسعت میں پوشیدہ ہے۔