نئی دہلی // زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے ہفتے کو دن بارہ بجے سے تین بجے تک ملک بھر میں اہم شاہراہیں بند کر دیں۔کسانوں نے رواں ہفتے پیر کو ہی اعلان کیا تھا کہ وہ6 فروری کو پورے ملک میں ‘چکا جام’ کریں گے۔کسانوں نے دارالحکومت دہلی، ریاست اتر پردیش اور اتراکھنڈ کو ہڑتال سے مستثنیٰ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ایمبولینسز اور ضروری خدمات فراہم کرنے والی گاڑیوں کو بھی اس اقدام سے مبرا قرار دیا گیا تھا۔اس موقع پر پورے ملک میں پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔دہلی اور اس کے اطراف میں پولیس اور نیم مسلح دستوں کے50 ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ متعدد مقامات پر واٹر کینن کا انتظام کیا گیا تھا اور ایک درجن سے زائد میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے تھے۔ جب کہ ڈرونز کے ذریعے بھی مظاہروں کی نگرانی کی جاتی رہی۔غازی پور اور سنگھو بارڈر سے کسی نے دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان مقامات پر پولیس نے زبردست حفاظتی انتظامات کیے تھے۔تینوں مقامات پر پولیس نے لوہے کی کیلیں سڑکوں پر گاڑی تھیں اور بین الاقوامی سرحدوں پر لگائی جانے والی خاردار تاروں کی باڑ لگائی گئی ہے۔غازی پور بارڈر پر جہاں پولیس نے لوہے کی نوکیلی کیلیں سڑکوں پر نصب کی ہیں، وہیں قریب میں کسانوں نے ٹرکوں سے لا کر مٹی ڈال دی اور پھول اگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔احتجاج کرنے والے کسانوں نے دہلی کے گرد ایکسپریس وے اور دہلی ہریانہ سرحد کو بند کیا گیا۔