پونچھ// عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگار کرشن چندر کے نام سے منسوب پونچھ شہر کے وسط میں بنائی گئی کرشن چندر پارک حکام کی عدم توجہی کاشکار بن کر تباہ ہوتی جارہی ہے ۔اس پارک کو فوارہ گارڈن کے نام سے بھی جاناجاتاہے لیکن اس کے اندر لگائے گئے پانی کے فوارے کئی سال سے بند پڑے ہیں جن کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ سے قابل استعمال بنانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی گئی ۔کبھی یہ فوارے چالورہتے تھے جن کو دیکھنے کیلئے بڑی تعداد میں لوگ پارک میں آکر بیٹھتے تھے جہاں انہیں سکون ملتاتھاتاہم پچھلے کچھ برسوں سے فوارے ناکارہ پڑے ہیں اور پارک کی خوبصورتی بھی ماند پڑچکی ہے جس کو دیکھتے ہوئے یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے اور اب یہ مقام جلسے جلسوں اور دھرنوں و احتجاج وغیرہ کیلئے زیادہ استعمال ہوتاہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اس پارک کی حالت ایسے وقت میں بگڑ گئی ہے جب حکام سیاحتی ترقی کے دعوے کررہے ہیں اور اس حوالے سے مرکزی حکومت کی طرف سے اچھی خاصی رقومات کی فراہمی بھی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پونچھ ایک خوبصورت علاقہ ہے جہاں سیاحتی ترقی کے بہت زیادہ امکانات ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ حکام سنجیدگی سے اقدامات کریں مگر بدقسمتی سے پہلے سے دریافت کئے گئے مقامات بھی بے حسی کاشکار ہوگئے ہیں ۔مقامی شہری لیاقت تاج نے کہا کہ افسوسناک بات ہے کہ یہ تاریخی پارک جس کو ایک معروف افسانہ نگار سے منسوب کیاگیا ہے،پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔انہوں نے کہاکہ نہ جانے کب سے اس پارک میں لگائے گئے فوارے پانی کو ترس رہے ہیںاور حکام کو ٹس سے مس نہیں ۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریو ں سے جی چرارہے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پونچھ میں سیاحتی شعبہ فروغ نہیں پاسکاہے ۔ایک نوجوان سجاد احمد کاکہناہے کہ سیاحتی ترقی کے دعوے سراب ثابت ہورہے ہیں اور پہلے سے موجود مقامات کی دیکھ بھال بھی نہیں کی جارہی ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی گورنر و ضلع ترقیاتی کمشنر اس سلسلے میں مداخلت کرکے فوری طور پر اقدامات کریں اور پارکوں کو اس طرح سے تباہ نہ ہونے دیاجائے ۔یہ بات قابل ذکرہے کہ عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگار کرشن چندرنے اپنا بچپن پونچھ میں ہی گزاراتھا اور انہیں اس سرزمین سے کافی محبت تھی اوریہی وجہ ہے کہ انہوںنے اپنی موت سے قبل خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی باقیات کو پونچھ میں ہی دفن کیاجائے لہٰذاان کی اس خواہش کو پوراکرتے ہوئے ان کی باقیات کوکرشن چند پارک میں ہی دفن کیاگیا ۔