مزید طبی عملہ ہڑتال پر، اموات 1,300سےمتجاوز
ایجنسیز
بونیا (جمہوریہ کانگو)// مشرقی جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے تیزی سے پھیلتے ہوئے وبائی مرض کے دوران ایک اور ایبولا علاج مرکز کے طبی عملے نے تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف ہفتہ کے روز ہڑتال شروع کر دی، جس کے باعث وبا کے مرکز میں مریضوں کی دیکھ بھال بری طرح متاثر ہوئی ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، جمعہ تک ملک میں ایبولا کے 2,973 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں 1,309 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ملک کی تاریخ میں ایبولا کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبائی پھیلاؤ ہے۔صوبہ اِتوری کے شہر بونیا میں واقع ایلیکیا ایبولا ٹریٹمنٹ سینٹر میں ڈاکٹروں، نرسوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے کام بند کرنے کے بعد علاج معالجے کی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو گئیں۔ہفتہ کو تقریباً ایک سو طبی کارکنوں نے علاج مرکز کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو ماہ سے کارکردگی پر مبنی بونس ادا نہ کیے جانے سے ان کا حوصلہ پست ہوا ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کانگو حکومت سے مطالبہ کیا کہ بقایا جات فوری طور پر ادا کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنی خدمات انجام دے سکیں۔جمعہ کو جاری ایک بیان میں عملے نے کہا کہ انہوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ دو ماہ سے زیر التوا کارکردگی بونس کی ادائیگی تک ہفتہ سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال جاری رہے گی۔گزشتہ ہفتے بھی بونیا جنرل اسپتال، جو خطے کا سب سے بڑا طبی مرکز ہے، کے طبی عملے نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ بعض ملازمین نے بتایا کہ وبا کے آغاز سے خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں اب تک کوئی معاوضہ نہیں ملا۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، وبا کے آغاز سے اب تک سو سے زائد طبی کارکن ایبولا سے متاثر ہو چکے ہیں۔وسطی افریقی ملک کانگو 15 مئی سے بنڈی بگیو وائرس سے پیدا ہونے والی ایبولا وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق اس وقت 766 مریض آئسولیشن یا اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ 540 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔صوبہ اِتوری میں ملک کے تقریباً 90 فیصد تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق وبا اس رفتار سے پھیل رہی ہے کہ طبی ٹیمیں متاثرہ افراد اور ان کے رابطوں کا بروقت سراغ لگانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔وبا پر قابو پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ صحت حکام اب تک اس وبا کے پہلے مریض (Patient Zero) کی شناخت نہیں کر سکے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلح تصادم کے باعث نقل مکانی اور کان کنی سے وابستہ افراد کی مسلسل آمد و رفت نے ہزاروں ممکنہ متاثرین کا سراغ لگانا مزید مشکل بنا دیا ہے۔حکام کے مطابق مالی وسائل کی کمی، صحت مراکز پر حملے، مشرقی کانگو میں جاری شورش اور مقامی آبادی کے عدم اعتماد نے بھی انسدادِ وبا کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔مزید برآں،بنڈی بگیو وائرس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں، جبکہ ایبولا کی نسبتاً عام قسم زائر وائرس کے لیے ویکسین موجود ہے، جو کانگو میں ماضی کی بیشتر ایبولا وباؤں کی وجہ تھی۔اِتوری میں ایبولا کے ممکنہ علاج کے لیے دو نئی ادویات پر مبنی ایک اہم تحقیقی مطالعے میں مریضوں کی شمولیت کا عمل حال ہی میں شروع کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس وبا کے وسطی افریقہ سے باہر پھیلنے کا عالمی خطرہ کم ہے، کیونکہ ایبولا وائرس ہوا کے ذریعے نہیں بلکہ متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا پھیلاؤ سانس کی بیماریوں کے مقابلے میں نسبتاً محدود رہتا ہے۔