جموں//وزیراعظم کے دفترمیں پی ایم اواورمرکزی وزیرمملکت ڈاکٹرجتندرسنگھ نے کانگریس اورنیشنل کانفرنس پرمہاراجہ ہری سنگھ سے متعلق کشمیراورجموں خطوں میں الگ الگ بولیاں بولنے کاالزام عائد کیا۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اورکانگریس سیاسی مفادات کی خاطر مہاراجہ ہری سنگھ سے متعلق دونوں خطوں میں الگ الگ بولیاں بولتی آئی ہین۔انہوں نے کہاکہ یہ دونوں جماعتیں کشمیرمیں مہاراجہ ہری سنگھ کی مخالفت کرتی ہیں اورجموں میں مہاراجہ ہری سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ہیروبتاتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کانگریس اورنیشنل کانفرنس 13جولائی کویوم شہادت مناکر یہ ثاثردیتی ہیں کہ مہاراجہ ہری سنگھ مطلق العنان تھے اورشیخ محمدعبداللہ اس لیے ڈوگرہ راج کے خلاف تھے۔انہوں نے کہاکہ دونوں سیاسی جماعتیں مہاراجہ ہری سنگھ کے نام کواپنے مطلب کیلئے اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتی آئی ہیں ۔ڈاکٹرجتندرسنگھ ایک تقریب کے حاشیے پرخطاب کررہے تھے۔انہوں نے دفعہ 35اے کاذکرکیے بغیرکہاکہ نیشنل کانفرنس اورکانگریس لیڈران اوران کے رفقاء کوبیرون ریاست سے بہوجہیزمیں گڑگائوں کے فلیٹس ساتھ لائے تو کوئی دقت نہیں ہے لیکن جب جموں کشمیرسے ان کی اپنی بیٹی باہرکسی ریاست میں شادی کرائی جاتی ہے وہ اس کو جائیداد سے محروم رکھنے کیلئے قانون کاحوالہ دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ نام نہادلیڈران اپنے بچوں کو ریاست سے باہر ناموراسکولوں اوربڑے ایمزاداروں میں بھیجتے ہیں لیکن کسی بھی باہرکے آدمی کو یہاں پرنوکری حاصل دینے کیلئے برداشت نہیں کرتے۔ڈاکٹرجتندرسنگھ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اورکانگریس جموں کے لوگوں کو’مخصوص ‘نیشنلزم کے نام پر گمراہ کرتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ جماعتیں نیشنل انٹی گریشن اورانڈین سوورنیٹی کی بات کرتی ہیں لیکن کشمیرمیں یہی نام نہاد لیڈرلوگوں کی خواہشات کے نام پر پاکستان اورملک دشمن عناصرکے ساتھ ہمدردی کااظہارکرتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ روہنگیااوربنگلہ دیشیوں کوکانگریس نے ہندوستان میں لایا جس کامقصد ووٹ ڈیموگرافی کوتبدیل کرناتھا ۔ڈاکٹرجتندرسنگھ نے کہاکہ بی جے پی روہنگیائوں کی نشاندہی کرکے ان کوباہرنکالنے کیلئے اقدامات اٹھاے گی۔اس سے پہلے ’ایکل ودیالیہ ‘ کی سالانہ میل تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرجتندرسنگھ نے منتظمین کومبارکبادپیش کی۔ آروگیافائونڈیشن کی ستائش کی۔