کئی حضرات قحط الرجال کے اس دور میں حقیقی انسان کو دیکھنے کی متمنی ہیں۔ ذیل کے مضمون میں ایسا معیار درج ہے جس کی روشنی میں انسان کو ناپا تولا جاسکتا ہے۔ اگر کبھی کوئی مل گیا تو مجھے بھی اطلاع دینا نہ بھولئے گا! ایک زمانے سے ایسی نایاب شئے کی تلاش میں چراغ میرے ہاتھ میں بھی ہے ۔ مولانا رومی ؒ فرماگئے ہیں ؎
دی شیخ با چراغ همی گشت گرد شهر
کز دا و دد ملولم و انسانم آرزوست
ترجمہ:کل (ایک) شیخ بزگوار کو چراغ لئے سارے شہر کے گردگھومتا پایا ( دہائی دے رہا تھا) کہ میں( شیطانوں اور درندوں ) سے دل ملول ہوں اور کسی انسان کا آزرو مند ہوں!
Last night the shaikh went all about the city, lamp in hand,
crying, “I am weary of beast and devil, a man is my desire.”
جب سے ہوش سنبھالا تب سے لوگوں کو یہی کہتے سنا یا لکھتے دیکھا کہ انہیں انسان کی تلاش ہے۔اب جب کہ فیس بک کی سہولیت بھی دستیاب ہے اور اس پر کسی کو بھی کچھ بھی لکھنے کی آزادی ہے تو دیکھتا ہوں کہ اب ایسے’ ’متلاشیانِ انسان‘‘ کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ مولانا رومیؒ نے ایک جگہ اپنی بات پیش کرنے میں ایسَپؔ کی کہاوت اختیار کی ہے۔ کہاوت یوں ہے کہ ایسَپؔ ایک غلام تھا جسے مالک نے معمول سے پہلے ہی شام کا کھانا تیار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آگ کی تلاش میں وہ کئی گھروں میں گیا اور آخر ایک گھر اُسے ملا جہاں اُس نے اپنے چراغ کو جلا یا ۔ واپسی پر اُسے بازار میں ایک شخض نے پوچھا : ارے ایسپؔ یہ دن کے اُجالے میں چراغ لے کر کہاں جارہے ہو؟ جس پر ایسَپؔ بولا: میں ایک حقیقی انسان کو ڈھونڈ رہا ہوں! ایسا ہی واقعہ رومیؒ نے اپنی مثنوی میں بیان کیا ہے۔ ایسپؔ کے مماثل ایک اور کہانی بھی ہے جو ایسپؔ سے پہلے زمانے کی ہے،اس کے مطابق ایک خشک دماغ فلاسفر ڈِیو جینزؔ، جس نے انسانی معاشرے کوہی مسترد کریا تھا، ایک ڈَرم میں رہتا تھا اور صرف پیاز پر گزارہ کرتا تھا۔ اُس کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ دن دھاڑے لالٹین جلا کر جب بازار سے گزرا اور لوگوں نے وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ میں ایک حقیقی انسان کو تلاش کرنے نکلا ہوں۔اب اسے خوش قسمتی کہئے یا بد قسمتی کہ ہمارے یہاں کے کئی فلاسفروں نے فیس بک پر انسان کو ڈھونڈنے کے پوسٹس شائع کرنا شروع کرد ی ہیں۔ اُن میں ایسی ہمت کہاں کہ ڈَرم میں بیٹھ کر زندگی گزاریں اور پیاز کھایا کریں!!
میں یوں تو ہنستا کم ہی ہوں کیونکہ زندگی نے مجھے اتنا رُلایا ہے کہ میں نے اب زندگی پر ہی رونا شروع کردیا ہے، مگر جب میں انسان تلاش کرنے والے ان ’’متلاشیوںکی ایسی آرزوؤں‘‘ کوفیس بک پر یا کسی اخبار کی تحریر میں پڑھتا ہوں، تو بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ان ’’متلاشیوں‘‘ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ جس تلاش کی’ ’ آرزو‘‘ کا اظہار کرہے ہیں، وہ نہ صرف اُن کی کم فہمی اور پریشانی ہے بلکہ ذہنی عیاشی بھی ہے۔ عالی شان مکانوں کے آرام دہ کمروں میں نرم وگداز بستر پر گدھا بھی نہیں مل سکتا تو بھلا’ ’انسان‘‘ کہاں مل جائے گا؟ حکایت ہے کہ بلخ کے بادشاہ ابراہیم بن ادہمؒ کو جب حق کی تلاش ہوئی تو وہ راتوں کو اسی سوچ میں رہنے لگا ۔ ایک دن اُس نے رات کے دوران محسوس کیا کہ کوئی اُس کے محل کے بالائی حصے میں گشت کررہا ہے۔ وہ ایک دم اُٹھا، تلوار ہاتھ میں لی اور بالائی منزل میں گیا۔ وہاں اُس نے ایک پُراسرار آدمی کو دیکھا۔ ابراہیم بن ادہم ؒ نے اُس شخص سے پوچھا تم یہاں کیا کررہے ہو؟ وہ شخص بولا میرا گدھا گم ہوگیا ہے، اُسی کو تلاش کررہا ہوں۔ ابراہیم بن ادہمؒ نے کہا یہاں تمہیں گدھا کہاں مل سکتا ہے؟ وہ شخص ہنس کر بولا :ابراہیم بن ادہم ؒ جب یہاں گدھا بھی نہیں مل سکتا تو اُس آدمی پر حیرت ہے جو یہاں خدا کو ڈھونڈرہا ہے۔ کہتے ساتھ ہی وہ شخص غائب ہوگیا۔
ارے بھائی، انسان ڈھونڈنا ہے تو عالی شان کمروں سے باہر آؤ ، فیس بک کو بھول جاؤ، پھر ایسے ڈھونڈو مطلوبہ انسان کوجیسے مجنوں اپنی محبوبہ لیلیٰ کو ڈھونڈتا تھا! ورنہ ایسے خیالات ظاہر کرنا اپنی پریشانیوں اور کم ظرفی کا اعلان کرانے کے مترادف ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر آپ کو واقعی انسان مل بھی گیا تو آپ اُسے پہچانو گے کیسے؟ کیونکہ جب تک آپ خود انسان نہیں بنتے تب تک دوسرے انسان کی تمہیں پہچان کہاں ہوگی؟ لازمی بات ہے کہ جب آپ ’’انسان‘‘ کو ڈھونڈ رہے ہیں توآپ کے ذہن میں ضرور اُس ’’انسان‘‘ کا ایک تصور بھی نقش ہوگا کہ وہ ایسا ایسا ہوگا یا ہونا چاہیے،یعنی وہ اُسی وقت ہنسے جب آپ چاہتے ہوں کہ وہ ہنسنا چاہئے، اُسی وقت روئے جب آپ چاہتے ہوں کہ اُسے رونا چاہئے، اُس میں صبر کی اتنی ہی مقدار ہو جو انسان کے حوالے سے آپ کے تصور کے عین مطابق ہو، وہ کسی بات پر اپنا ردعمل یا غصہ اُسی وقت ظاہر کرے جب وہ آپ کے منشا سے متصادم نہ ہو، اسی طرح اور بھی خوبیاں اُس میں ویسی کی ویسی ہوں جس کی آپ ایک’’ انسان‘‘ میں دیکھنے کے متمنی ہیں؟ تو کیا بہتر یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے آپ کو ہی ایک ایساانسان بنادیں تاکہ آپ کو دیکھ کر اُن دوسرے’ ’متلاشیوں‘‘ کی تلاش ختم ہوجائے جو انسان کو ڈھونڈ رہے ہیں۔سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم انسان کو تلاش کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسرے الفاظ میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خود ہم انسان کا درجہ حاصل نہیں کرپائے ہیں۔
عبد اللہ بن مبارکؒ ایک مشہور تابعی گزرے ہیں۔ وہ بیک وقت مفسر، محدث، فقیہ اور صوفی بھی تھے۔ ایک دفعہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ کہیں جارہے تھے تو راستے میں دیکھا کہ بڑی تعداد میں لوگ نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے باہر آرہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا: الحمد للہ یہ سب جنتی ہیں، مگر انسان ان میں کچھ ہی ہوں گے!حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ولی اور قطب بننا آسان ہے مگر انسان بننا مشکل، کیونکہ کسی پر بھی اُس کا کرم ہوجاتا ہے تو قطب اور ولی بن جاتا ہے، قطب اور ولی بننے میں اُس کے کرم کا واسطہ ہے مگر انسان بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان سے کسی کو تکلیف نہ ہو اور وہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے اور یہی مشکل ترین کام ہے۔ حضرت تھانویؒ فرمایا کرتے تھے جس کو قطب اور ولی بننا ہو وہ کہیں اور جائے، اور جسے انسان بننے کی آرزو ہو وہ میرے پاس آئے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کامل انسان کیسے بنا جائے؟ یہ تو وہی بتا سکتا ہے جس نے انسان کو بنایا ہے، دوسرا کیسے جان سکتا ہے کہ کامل انسان کیسا ہوتا ہے یا کیسا نہیں ہوتا ہے؟ دوسروں کے نزدیک کامل انسان تو وہ ہے جو اُس کی اپنی نظر کے معیار پر پورا اُترتا ہو یا اُس کی ضرورتوں کے مطابق ہو، پھر اگر ایسا انسان ملا بھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہر ایک کی نظر کے معیار کے مطابق ہو؟ ایک آدمی کا ذوق اور پسند ضروری نہیں کہ دوسرے آدمی سے ملتے بھی ہوں؟ اس لئے کامل انسان بننے کے لئے ضروری ہے کہ اُسی سےا س کے خدوخال پوچھا جائے جو ابن آدم کا خالق ومالک ہے۔ پھر خالق کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ایسے نایاب انسان کی صفات بیان کرنے کے ساتھ ایک نمونہ بھی سامنے رکھے تاکہ ہر شخص کے لئے یہ موقع فراہم ہو کہ وہ اسی ماڈل کی تقلید میں انسان بننے کی کوشش کرے۔ چنانچہ انسان کے خالق اللہ تبارک وتعالیٰ نے الکتاب یعنی قرآن مجید نازل کر کے ہمارے ہاتھ تھمادی اور اُس میں ارشاد فرمایا کہ بہترین کہلانے والے انسان میں فلاں فلاں خوبی ہوتی ہے اور ساتھ ہی نمونہ بھی مبعوث فرمایا اور کہا: حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی صورت میں تمہارے سامنے(تاقیام قیامت انسان کامل کا واحد) نمونہ ہے۔
انسان بننا آسان کام نہیں، یہ پوری زندگی کا وظیفہ ہے۔ انسان بننے کے لئے بر ہنہ پاہوکرپل صراط پر چلنا ہوتا ہے۔
پل صراط کیا ہے؟
اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔
یہ تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک کیا ہوتا ہے؟
حضورﷺ نے فرمایا: خیرالامور اوسطہا یعنی اعتدال یا میانہ روی بہترین راستہ ہے۔
شریعت میں ہر چیز کا اعتدال مقصود ہے۔ اعمال فرع ہیں اخلاق کی۔ فرع کے معنی یہ ہیں کہ وہ جس کی اصل کوئی اور چیز ہو یعنی اعمال اخلاق کی شاخ یا ڈالی ہے۔ اصل محل اعتدال کا اخلاق ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ اخلاق کے اصول تین ہیں یعنی اصل میں تین قوتیں ہیں جو شجر اخلاق کی جڑ ہیں ،یہ وہ قوتیں ہیں جن سے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ہے قوت ِعقلیہ، دوسری ہے قوتِ شہوانیہ اور تیسری ہے قوت ِغضبیہ۔
اپنی منفعت کے حصول اور دفع ِمضرت کے لئے، چاہے وہ دنیوی اعتبار سے ہو یا اُخروی اعتبار سے، دونوں چیزوں کے لئے ضرورت ہے ایک ایسی قوت کی جس سے انسان نفع اور ضرر کو سمجھ سکے، اور وہ ہے عقل کی قوت یا ادراک کی قوت۔ پھر یہ کہ جب نفع معلوم ہوا تو اس کو حاصل کرے، اور وہاں قوت شہوانیہ کام کرتی ہے، اور اگر ضرر معلوم ہوا تو اسے دفع کرے، اس کے لئے قوتِ غضبیہ کو کام میں لانا پڑتا ہے۔ پھر ان تینوں سے مختلف اعمال صادر ہوتے ہیں اور ان اعمال کے بھی تین درجے ہیں یعنی افراط، تفریط اور اعتدال۔ علماء کہتے ہیں، قوت ِعقلیہ کا افراط یہ ہے کہ انسان عقل کی غلامی میںاس حد تک بڑھ جائے کہ وحی کو بھی نہ مانے جیسے یونانیوں نے کیا۔ تفریط یہ ہے کہ عقل اس حد تک گھٹ جائے کہ جہل وسفہ تک لڑھک آئے۔ قوت شہوانیہ کا افراط یہ ہے کہ انسان میں حرام وحلال کی تمیز بھی نہ رہے، بیوی اور پرائی عورت اُس کے لئے برابر بن جائے۔ تفریط یہ ہے کہ بیوی سے بھی پرہیز کرنے لگے۔ افراط یہ بھی ہے کہ مال کا ایسا حریص ہوجائے کہ اپنا پرایا سب ہضم کرنے لگے، اور تفریط یہ کہ ایسا زاہد بنے کہ ضرورت کی چیزیں بھی چھوڑدیں۔
قوتِ غضبیہ کا افراط یہ ہے کہ بالک بھیڑیا بن جائے اور تفریط یہ ہے کہ ایسا نرم بن جائے کہ کوئی جوتے بھی مارلے اور وہ گوارا کرلے یا کوئی دین کو بھی برا بھلا کہہ لے اور تب بھی غصہ نہ آئے۔ یہ ان تین قوتوں کے افراط وتفریط کا بیان ہوا۔ اعتدال یہ ہے کہ جہاں شریعت نے اجازت دی ہو ،وہاں تو ان قوتوں کا استعمال کرے اور جہاں اجازت نہ دی ہو وہاں ان قوتوں سے کام نہ لے۔ اس طرح ہر قوت کے تین درجے ہوئے: افراط، تفریط اور اعتدال۔ علماء نے ان سب درجوں کے الگ الگ نام رکھے ہیں۔ قوت ِعقلیہ کے افراط کا نام ہے جزبرہ اور اس کے تفریط کے درجے کا نام ہے سفاہت جب کہ اس کے اعتدال کے درجے کو حکمت کہتے ہیں۔ اسی طرح قوت شہوانیہ کے افراط کے درجے کو فجور کہا جاتا ہے اور اس کے تفریط کے درجے کو جمود کہتے ہیں، جب کہ اعتدال کے درجے کا نام عفت ہے۔ قوتِ غضبیہ کے افراط کے درجے کا نام تہور ہے اور تفریط کے درجے کو جبن کہتے ہیں جب کہ اعتدال کا درجہ شجاعت کہلاتا ہے۔ یہ کل ملا کر نو چیزیں ہوئیں جو تمام اچھے اور برے اخلاق پر حاوی ہیں۔ مطلوب ان نو درجات میں صرف تین درجے اعتدال کے ہیں یعنی حکمت، عفت اور شجاعت، باقی سب رذائل ہیں۔ اعتدال کے جو تین درجے بیان ہوئے وہ اخلاقِ حسنہ کے اصول ہیں اور ان کے مجموعے کو عدالت کہتے ہیں، اسی لئے اس اُمت کا لقب امت وسط یعنی امت ِعادلہ ہے۔ غرض انسان وہ ہے جس میں اعتدال وتوازن ہو۔ زندگی میں اعتدال حقیقی کو حاصل کرنا بڑا مشکل کام ہے کہ اس میں ذرہ برابر افراط وتفریط نہ ہو، اسی لئے اسے پُل صراط کا مثل بتایا جاتا ہے۔