اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے کام کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر جینا ناممکن ہے۔ دوسرے حاجات اس کے بعد آتے ہیں۔ کھانا، کپڑا، گھر، دوا، وغیرہ زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں جو صرف کام کرنے سے ممکن ہے۔ جب یہ حقیقت ہے تو کام کو کام کی نگاہ سے دیکھنا ازحد ضروری ہوجاتا ہے۔ کاموں کو مختلف زمروں میں ڈالنا، کوئی دانائی کا کام نہیں۔ مگر کچھ کام قوم کو بنانے میں زیادہ رول ادا کرتے ہیں۔ استاد، غیر جانبدار سیاستدان، اچھے ڈاکٹر، صحافی، وغیرہ۔ ان کو ہم prestigious کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ البتہ مسئلہ تب در پیش آتا ہے جب دوسرے کاموں کو کوئی بھی حیثیت نہیں دی جاتی ہے اور ہر کوئی مندرجہ بالا کاموں کو کرنا چاہتا ہے، تاکہ ایک قسم کی شان برقرار رہے۔
اس چیز کو ہم اگر کشمیر میں دیکھنا چاہیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس معاملے میںلوگ بہت زیادہ تنگ نظریہ رکھتے ہیں۔ استاد، ڈاکٹر، ڈسٹرکٹ کمشنر، وغیرہ کے بغیر دوسرا کوئی کام ہمارے گلے سے اترتا ہی نہیں ہے۔ یہ بات جانے انجانے میں ہمارے ذہنوں اور سماج کی رگ رگ میںرچ بس گئی ہے کہ اگر کام کرنا ہے تو کوئی اونچے درجے کا کام کرنا ہے، ورنہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا ہی ٹھیک ہے۔ ظاہر ہےکہ ایسی سوچ پروان چڑھنے میں وقت لگتا ہے اور یہ بہت سارے وجوہات کا مجموعہ ہے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ اچانک کوئی چیز آسمان سے گرے اور زمین پر بسنے والے لوگوں کے درمیان رائج ہوجائے۔ آنے والی سطروں میں ان وجوہات کی بات ہوگی جن کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا کہ ہم کسی کام کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور دوسرے کاموں کو نیچی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
پہلا ہے زندگی کا ایک محدود نظریہ۔ ہمارے یہاں زندگی کو ایک مخصوص نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ زندگی کا مطلب ہمارے یہاں ہے دولت کمانا، اونچا مکان بنانا، بینک میں پیسوں کی بھرمار ہونا وغیرہ۔ اب یہ چیزیں تو کسی خاص کام جیسے کہ ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود ہم کما سکتے ہیں مگر یہ کام کرنے کے لئے بھی ہمیں ڈاکٹر، سائنسدان، استاد، سول سروس آفیسر، وغیرہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر اگر کمایا جائے تو قابل قبول نہیں۔ سماج کے وہ لوگ جن کو ہم عزت والے مانتے ہیں، وہ ایک مزدور کے مکان کو، گھر کو، زمین کو، وغیرہ کو مانتے ہی نہیں۔ ان کے مطابق یہ پیسہ پیسہ ہی نہیں جو اس طریقے سے کمایا جائے۔اگرچہ حق تو یہی ہےکہ انسان کو دولت کی بنیاد پر عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتابلکہ کردار کی بنیاد پردیکھا جاسکتا ہے۔معاشرےکا وہ فرد عزت کا زیادہ حقدار ہے، جس کا کردار اچّھا ہو،جو خیر خواہ ہو اور جس کے اندر انسانیت اور ہمدردی کا جذبہ ہو۔لیکن عام طور سے مشاہدے میں آتا ہے کہ ہمارےمعاشرے میں اُسی فرد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،جو دولت مند ہوتا ہےیا جس کے پاس زیادہ مال ہوتا ہے،یہ دولت اور یہ مال جائز ہو یا ناجائز ،حلال ہو یا حرام،اِس کی کسی کو کیا پڑی ہے۔بظاہر یہ باتیں میری آنکھوں کے سامنے ہر روز وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ میرے کچھ جان پہچان کے لوگ ہیں۔ پہلے وہ بہت غریب تھے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب اُن کی حالت بہت اچھی ہے۔ مگر ان کی محنت کو کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ لوگوں نے بڑی بڑی ڈگریاں کیوں حاصل نہیں کیں۔ اس کے جواب میں، میں نے ان کو ایک معقول جواب دیتے ہوئےسُنا ہے کہ جب پیسہ کمانا ہی مقصد ہے بشرطیکہ کہ حلال ہو، تو اس میں گناہ کیا ہے۔ ہم بھی آپ کی طرح گاڑیوں میں گھومتے ہیں، آرام سے اپنا پیٹ پالتے ہیں اور اپنی اور اپنے بہن بھائیوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ آپ کے یہاں زندگی کا جوتصور ہے، وہ ہمارے یہاں بھی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ آپ چمکیلے کپڑوں میں کرتے ہیں اور ہم ذرا میلے کپڑوں میں۔ آپ کو جوزبانیں اچھے طریقے سے بولنی آتی ہیں، ہم بھی کسی حد تک بول لیتے ہیں۔
دوسرا ہے اَن پڑھ سماج۔ انجانے میں ہم کھبی ایسے فیصلے کرتے ہیں ،جس کا اثر صدیوں تک رہتا ہے۔ نہ جانے کس نے کسی کام کو خاص اور دوسرے کو عام کردیا۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا یا کر رہے ہیں، وہ ان کی اپنی ذہنی اختراع ہے اور آج کے زمانے میں اس کو عمل میں لانا حماقت ہے۔ اس کو ہم ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ آج کے بیشتر ڈاکٹر، استاد، سائنسدان، وغیرہ ، ڈاکٹر، اُستاد اور سائنسدان کہنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ مگر اس کے برعکس ایک ریڑی چلانے والا ان سے اعلیٰ ہے۔ وہ خیانت نہیں کرتا ہے۔ وہ کرپشن سے پاک زندگی گزارتا ہے۔ سود اس کی لغت میں نہیں پایا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی ہمارے سماج میں پہلے والوں کو فروغ دینا ایک اعزاز سمجھتے ہیں بلکہ دھوپ میں موزے بیچنے والا ہمارے لئے شرم کا باعث ہے۔ اس کا زہریلا نتیجہ بےروزگاری اور ڈپریشن کی شکل میں نکل کے آرہا ہے۔
تیسرا ہے دوسروں کی نقالی کرنا۔ اگر ہم یورپ کی بات کریں کیونکہ وہ آج ترقی کے اونچے مقام پر ہے۔ ان کے یہاں اگر ایسا کوئی نظام پایا یا نہیں بھی پایا جاتا ہو، وہ میری نظر میں ہمارے لئے کسی بھی طریقے سے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ اسلئے کہ وہاں کے سیاسی، سماجی، معاشی، اخلاقی اقداروغیرہ ،ہم سے الگ ہیں۔ ہم اس معاملے میں ان کے برابر، اوپر یا نیچے نہیں رہ سکتے۔ ہاں! اگر ان جیسی ترقی کرنی ہے، تو ہمیں پورے سماجی ڈھانچے کو تبدیل کرنا پڑے گا، جو آج کے زمانے میں ناممکن تو نہیں، مگر مشکل ضرور ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اُن کی نقالی کرکے اپنے پیروں پر کھلاڑی نہیں ماریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ میں ہر کوئی چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام کرتا ہے، مگر ہم اس دوڑ میں لگے ہوئے ہیں کہ سماج نے جس کو بڑا کام مانا ہے، ہم اسی کو کریں۔ اگر ڈاکٹر قصائی کی طرح جسم کو کاٹے، تو کوئی حرج نہیں مگر یہی کام اگر قصائی کریں، تو شرم آتی ہے۔ یہ ہے ہمارا حال۔
چوتھا اور آخری ہے ہماری انفرادی کمزوری۔ ایک انسان اس طرز پر سوچتا ہے کہ جیسے سب لوگ کررہے ہیں ،میں بھی ویسا ہی کروں۔ اب تبدیلی کا سارا بوجھ میرے ہی کاندھوں پر آن پڑا ہے! اس سوچ نے ہمیں ہمیشہ باندھ کر رکھا ہے۔ ہم اوپر اٹھ کر دیکھ نہیں پاتے ہیں۔ اگر ایک پڑھا لکھا لڑکا سرکاری نوکری حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو اس کو اپنا روزگار کمانے میں شرم نہیں آنی چاہیے۔ وہ کوئی بھی حلال کام کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں ایک واقع آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔کچھ دنوں پہلے لال چوک میں، میں کچھ لڑکوں سے بات کر رہا تھا۔ تو باتوں باتوں میں ہم سول سروسز کی طرف آگئے۔ میرے مخاطب جو لڑکے تھے، وہ صرف اس محکمے تک محدود تھے، اس سے باہر وہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس واقع نے مجھے بہت کچھ سمجھایااور مجھے ایسا محسوس ہونے لگاکہ ہمارےمعاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے، جس کی وجہ سےعدم مساوات، وسائل کی ناقص منصوبہ بندی اور معاشرتی ناہمواری کی تقسیم نے نوجوانوں کے اندر ایک ہیجان کی سی کیفیت پیدا کردی ہےاور اس طبقاتی کشمکش میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اب جس طرح سے لوگ prestigious کے انتظار میں valueless بنتے جارہے ہیں، بہتر کہ کوئی بھی حلال کام اپنے لئے منتخب کریں، جس سے زندگی آرام سے گزرے۔ دوسروں کو دیکھ کر جینا اب ہمیں چھوڑنا چاہیے۔ جس کام میں خوشی اور زندگی آرام سے گزرے، وہیں کام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو معاشی، معاشرتی اور تعلیمی اعتبار سے تقسیم کرنے میںمالدارطبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرز زندگی کا بہت بڑاہاتھ ہے، اسی لئے نوجوانوں کے ذہن میں طرح طرح کے منفی اور مثبت خیالات جنم لیتے ہیں اور یہی ہماری طبقاتی نابرابری کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں ،کیونکہ نوجوان نسل کی سوچ کا محور تبدیل ہونے لگتا ہے۔ خواہشات کا ایک سمندر ان کے اندر بھی پروان چڑھنے لگتاہے، جس سے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔اس لئےہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سمجھائیں کہ کوئی بھی کام اعلیٰ اور ادنیٰ نہیں ہوتا ہے۔ اس سے آنے والی نسلیں کام کے متعلق ایک اچھی ذہنیت تعمیر کرسکتے ہیں۔ اس سے حال اور آنے والا کل بھی محفوظ ہوسکتا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھُپی بھی نہیں کہ ہمارے یہاں عرصۂ دراز سے ایک افراتفری کی فضا ابھی تک برقرار ہے۔ کئی لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، جس میں زیادہ تر ہماری نوجوان نسل ہے اور تمام اداروں کا محور ایک ہی ہے کہ معاشی حالات کی بنا پر اسٹاف کم کیا جارہا ہے، جو نوجوان نسل مختلف اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر میں کنٹریکٹ بیس یا کہیں ڈیلی ویجز پر روزگار حاصل کرتےتھے،ان پر بے روزگاری کی تلوار سب سے پہلے چلائی گئی ہے۔یہ بات ایک ذی حس انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کوئی نہ کوئی راستہ نکالا جائے، جس سے اعلیٰ قسم کے دماغ ایک لاحاصل مہم میں ضائع نہ ہو جائے ،موجودہ دورمیںبے روز گاری نے تعلیم یافتہ اور غیرتعلیم یافتہ نوجوان میں فرق کافی حد تک مٹادی ہے ۔توآئیے! ان دِل برداشتہ نوجوانوں کو صحیح راہ دکھانےاور اُن میں عزم و استقلال پیدا کرکےمعاشرے میںتبدیلی لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔جو وقت کی ضرورت ہے۔
رابطہ:حاجی باغ، زینہ کوٹ۔7889346763
( مضمون نگار الھدیٰ کوچنگ سنٹر مصطفیٰ آباد، زینہ کوٹ، سرینگر میں مدرس ہیں)