کسی علاقہ یا وہاں کی عوام بالخصوص نوجوان طبقہ کی ترقی تعلیم کے حصول میں ہی مضمر ہے۔ ظاہری پردہ چاک کرکے حقیقی نگاہ سے اگر دیکھا جاے تو تعلیم ہی ترقی کا راز ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ماضی میں عالی شان عمارتوں کا اگر چہ کوئی خاص دخل نہیں تھاتاہم تعلیم حاصل کرنے والوں کے دلوں میں علم کی پیاس تھی۔ وہ علم چاہتے تھے،عمارت نہیں۔وہ اصل تعلیم کے متوالے تھے ،نقل کے نہیں۔ان کے ہاں دھوپ سے سایہ کے لئے پیڑ کافی تھا۔روشنی کے لئے چراغ یاموم بتی کافی تھی۔اگر وہ بھی نہ ملتی تو کہیں چوراہے پر یا کسی کی روشنی میں بیٹھ کر اپناتعلیمی سفر جاری رکھتے تھے۔ بس ایک سوچ ،لگن اور کوشش تھی کہ تعلیم حاصل کرنی ہے۔ رات بھر مطالعہ کرتے تھے۔ کتابیں ادھار لے کر بھی تعلیم جاری رکھی۔نتیجہ یہ ہواکہ مولاناآزادجیسی شخصیت پیداہوئی۔سائینسی دنیاکا چمکتادھمکتاستارہ عبدلکلام پیدا ہوئے۔ غرض سینکڑوں شخصیات ایسی پیداہوئیں جنہوں نے وہ کچھ کرکے دکھایاجو رہتی دنیاشاید کرپائے۔لیکن یہ سب کچھ محنت مشقت اور لگن سے حاصل کی گئی۔غرض یہ کہ تعلیم ہر شعبہ میں کامیاب رہی۔
وقت جوں جوں گزرتاگیاحالات بھی بہتر ہوتے چلے گئے۔ اب حصول تعلیم کے لئے اچھے اور بہترین انتظامات دیکھے جاتے ہیں۔ ادارے چاہے سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، خوبصورت عمارت ،بڑے بڑے صحن ،میٹنگ حال، پارک، میدان ،نہ جانے کیا کیا ضروریات دیکھ کر اداروں میں اپنااندراج کیا اور کروایاجاتاہے۔ چاہے تعلیم ہو نہ ہو،بس ڈپلومہ اور سر رٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب حال یہ کہ ہمارے طلباء کے پاس ایک تجوری انہیں سکول کے ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کے لئے مختص ہے۔
منڈی تحصیل ایک پسماندہ اور دوردراز پہاڑی علاقوں پر محیط ہے جہاںدوردور تک آبادی پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن سرکاری سکولوں کا یہاں جال بچھا ہواہے۔سرکاری سکولوں میں پرائمری سکول ،ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول شامل ہیں۔لیکن منڈی تحصیل میں ڈگری کالج نہیں تھاجس کی وجہ سے آبادی کا نصف حصہ ہماری خواتین اور بچیاں تعلیم سے محروم ہوتی جارہی تھیں۔ دسویں یا بارہویں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے گھروں میں ہی بیٹھ جاتی تھیں۔کچھ والدین تو پونچھ یا دوسرے شہروں میں رہنے سہنے کا خرچہ برداشت کرنے کے قابل نہیںاور کچھ لوگ تو لڑکیوں کو اکیلے اپنے قصبہ سے باہر بھی نہیں بھیجتے۔کیوں کہ جوان بچیوں کو اکیلے شہروں میں بھیج دینا کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔ جس کے چلتے تعلیم نسواں سخت متاثر ہورہی تھی۔ کئی سال تک عوام کی جدوجہد اور کوشش کے بعد آخر کار سرکار کی جانب سے منڈی تحصیل کو ڈگری کالج تو مل گیالیکن ابھی تین سال گزرجانے کے بعد بھی عمارت کا کام نہیں لگ پایاہے۔
جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی منڈی تحصیل کو صدیوں انتظار کے بعد جب ڈگری کالج دینے کا اعلان 2017میں ہوا تو سیاسی ،سماجی اور عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب تعلیم کے نئے دور کا آغاز ہوگالیکن اس اعلان کے ٹھیک تین سال بعد بھی حالت جوں کی توں ہے۔نہ عمارت نہ کوئی دوسری سہولیات میسر ہے۔ بس نام ہے کہ منڈی میں ڈگری کالج ہے۔
منڈی تحصیل سے چار کلومیٹر کی دوری پر واقع اعظم آباد میں جس جگہ کا تعین کیا گیاہے۔ اب زمین مالکان اس جگہ پر تعمیر ی کام لگانے سے روک رہے ہیںجبکہ وہاں اس کالج کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ کالج عارضی طور پر محکمہ دیہی ترقی کی عمارت میں بمقام راجپور اپناکام چلا رہاہے۔ مقامی نوجوان وقار احمد ،جس کی عمر 26سال ہے، کا کہناہے کہ یہاں جس عمارت میں ڈگری کالج کی کلاسیں لگائی جارہی ہیں،اس کو محکمہ پنچایت کے ساتھ تنازعہ کی بنا پر کئی بار راستہ روک دیا گیا۔ راستے میں جھاڑیاں ڈال کر راستہ بند کردیاجاتاہے اور لگاتار یہ سلسلہ جاری ہے جس سے گھنٹوں کالج کے طلباء و عملہ کو دشواریوں کاسامنا کرناپڑتاہے اور عملہ کو مجبور ہوکر پولیس کو بھی مطلع کرناپڑتاہے۔
سیول سوسائٹی منڈی کے فعال کارکن ڈاکٹر غلام عباس ہمدانی اس بارے میں کہتے ہیں کہ سال 2017 میں منڈی کو ڈگری کالج کی منظوری ملی۔اس وقت تمام جگہوں پر اس تعلیمی ادارہ کے لئے جگہ تلاش کی جو اعظم آباد میں طے پائی۔مکمل طور پر اس کا ریکارڈ وغیرہ ڈائریکٹوریٹ آفس میں جمع ہوا۔ عمارت کی تعمیر کے لئے جب کام لگانے کا وقت آیا تو مالک زمین نے انکار کردیاجس سے پوری منڈی کی عوام کے دل کو ٹھیس پہنچی اور پھر سے روشنی آتے آتے اندھیرا ہونے لگا۔اس کے بعد سے بہت ساری جگہوں پر عمارت تعمیر کرنے کی انتظامیہ اور محکمہ سے استدعا کی گئی جس میں راجپورہ اڑائی کٹھہ کے ساتھ تریچھل میں بھی جگہ دیکھی جاسکتی تھی لیکن راجپورہ خان محلہ اور تھانہ پولیس منڈی کے قریب جو سرکاری اراضی ہے،وہاں پر 100کنال سے زائید زمین ہے جو بالکل موزون جگہ ہے۔ وہاں ڈگری کالج کی عمارت بہترین انداز میں بن سکتی ہے۔اس وقت کسی نہ کسی طرح ڈگری کالج کی عمارت کا کام لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ابھی سے جگہ کا تعین کرکے ڈگری کالج کی عمارت کا کام نہ لگایاتو آئندہ جگہ کا ملنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔
اس سلسلہ میں پرنسپل ڈگری کالج منڈی ڈاکٹر محمد اعظم سے طلباء کی پریشانی کے بارے جب بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نہ ہی طلباء کو بڑی تعداد میں داخلہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی پروگرام کیا جاسکتاہے،نہ لیبارٹری بنائی جاسکتی ہے اورنہ لائبرری۔ غرض جب تک عمارت نہیں ،تب تک کچھ بھی نہیں ہوسکتاہے۔ ان تمام تر حالات کے باوجود اس ڈگری کالج کو کس طرح مان لیاجائے کہ ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک بنائے گی۔ اس سلسلہ میں جب ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ راہول یادھو 28 جنوری 2021 کومنڈی ڈگری کالج کی جگہ کا معائینہ کرنے پہنچے تو وہاں اس حوالے سے انہوں نے بتایاکہ یہاں منڈی میں دوسال قبل جگہ منتخب کی گئی تھی لیکن مالکوں کی جانب سے جگہ نہ دینے کی وجہ سے عمارت کا کام نہ لگ سکاہے،اب جبکہ راجپورہ میں جگہ دیکھ کر معائینہ کیاہے، اب اس کے لئے ٹیکنیکل ٹیم جگہ کا معائینہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ دے گی، پھر اس پر کام لگایاجاسکتاہے۔ شرط یہ ہے کہ جگہ کے دینے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔چونکہ اس عمارت کی تعمیر کا کام لگانے کے لئے کمپنی ٹھیکیدار آچکاہے، جگہ کا تعین عوام کرے اورہم جلد از جلد کام لگادیں گے۔
لوگ کہتے ہیں کہ اب اس عمارت کی تعمیر میں عوام اور مالک زمین پوراتعاون دیں گے کیوں کہ راجپورہ منڈی چنڈک ساوجیاں اور لورن وغیرہ سے آنے والے طلباء کے لئے مرکزی جگہ ہے لیکن اب اس جگہ پر کب کام شروع ہوگا، وہ وقت ہی بتائے گا؟ اگر اب بھی کوئی سیاسی رسہ کشی بیچ میں آگئی تو عوام اور انتظامیہ اس کا مقابلہ کرسکے گی؟ایک ماہ کے عرصہ تک سب معلوم ہوجائیگا۔ دیگر سرکاری عمارتوں کے لئے سینکڑوں کنال زمین مل سکتی ہے لیکن کالج کے لئے کیوں اس قدر مشکلات کھڑی ہیں؟ کیاہمیں اپنے بچوں کا روشن مستقبل اچھا نہیں لگتاہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اب سے برسوں پہلے جس سوچ کی ضرورت تھی وہ سوچ اب تو بنالیں۔ جہاں جگہ کا تعین ہوا،وہی اب مل بیٹھ کر لوگوں کو مطمئن کریں۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو منڈی تحصیل کے اطرف واکناف میں جگہ کا تعین کرکے ڈگری کالج کی عمارت تعمیر کروائی جائے تاکہ بچے پونچھ ،جموں، مینڈھر اور سرنکوٹ بھٹکنے کی بجائے یہیں اپناتعلیمی سفر جاری رکھ سکیں۔(چرخہ فیچرس)