جموں//ڈوگروں کی عظمت رفتہ کی بحالی اورڈوگریت کے جذبے کوفروغ دینے کیلئے ڈوگرہ خطے کے تمام طبقوں اورمذاہب کے لوگوں کو متحدہونے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کااظہار ڈوگرہ صدرسبھا کے صدر ٹھاکرگل چین سنگھ چاڑک نے ’سیوڈوگرہ ہیری ٹیج‘مہم کولانچ کرتے ہوئے کیا۔اس دوران ڈوگرہ صدرسبھانے ڈوگرہ بھون سے صبح گیارہ بجے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مبارک منڈی پہنچ کراختتام پذیرہوئی۔اس دوران جن لیڈران وسماجی کارکنان نے حصہ لیاان میں ٹھاکرگل چین سنگھ چاڑک ، پروفیسراین کے ڈوگرہ،میجرجنرل سنیتاکپور، کرنل کرن سنگھ جموال، پریم ساگرگپتا، برگیڈیئر ایم ایس جموال، کرنل ڈاکٹروریندرکے ساہی، وری آرسی۔پروفیسرانیتا بلاوریہ ، یش پال گپتا، پروفیسرآرآر شرماسابق وائس چیئرمین ،جنرل جی ایس جموال، ایس کلبیرسنگھ ، گھمبیردیوسنگھ چاڑک، سوہیل کاظمی ،سورن سنگھ وشال رانا، تروپ اپل ودیگران شامل تھے۔اس دوران ٹھاکرگل چین سنگھ چاڑک ودیگرمقررین نے کہاکہ جموں کی معروف ڈوگرہ وراثت مبارک منڈی ہیری ٹیج کمپلیکس حکومتی عدم توجہی کاشکارہے ۔انہوں نے کہاکہ اس وراثتی کمپلیکس کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے حکومت ہندکی طرف سے فراہم کردہ رقومات لیپس کردی گئی ہیں جوکہ افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہاراہری سنگھ کے نظرکوبکھیردیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ بیش قیمتی ڈوگرہ قدیم اثاثے کی 42ہزارفائلیں کلاکیندرمنتقل کی گئی ہیں جہاں پر غیرمطمئن انتظامات ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وہاں پر فائلوں کے تحفظ کیلئے انتظامات ناقص ہیں ۔اس کے علاوہ 5-6لاکھ فائلیں پرانی عمارت میں پڑی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ان تمام فائلوں کو اولڈ انفارمیشن دفترمبارک منڈی کمپلیکس منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈوگرہ آرٹ میوزیم خستہ حالی کاشکار ہے ۔اتناہی نہیں جنرل زورآورسنگھ کامجسمہ بھی زورآورسنگھ چوک میں خستہ حالت میں ہے اوران کی سیکورٹی کیلئے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔اس دوران مقررین نے سابقہ حکومتوں پربھی ڈوگرہ ثقافت کوتحفظ فراہم کرنے میں غفلت برتنے کاالزام عائد کیا۔