محمد تسکین
بانہال // ڈاکٹروں کی کمی پر تنگ آمد بجنگ کے مصداق بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر محمد سلیم بٹ نے منگل کے روز سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال کو باضابط طور تالہ بند کرکے وہیں مرکزی دروازے پر دھرنا پر بیٹھ گئے جس کے باعث کچھ دیر کے لیے معمول کی طبی خدمات متاثر رہیں۔مقامی سطح پر سماجی خدمات کے حوالے سے جانے جانے والے محمد سلیم بٹ نے الزام لگایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید قلت کی وجہ سے بانہال، رامسو اور گول سب ڈویژنوں سے آنے والے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بارہا ماہر ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں کا معاملہ ضلع انتظامیہ کے سامنے اٹھا چکے ہیں، مگر اب تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قدم سے پہلے انہوں نے چیف میڈیکل آفیسر سے ہسپتال انتظامیہ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔محمد سلیم بٹ نے کہا کہ ایک کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ کو گزشتہ سال مبینہ نامعقول حرکت کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز جموں کے ساتھ منسلک کیا گیا، جبکہ تین ڈاکٹر مزید طبی تعلیم کے حصول کیلئے اسٹڈی لیو پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر کو ضلع ہسپتال رامبن تعینات کیا گیا ہے، لیکن ان پانچ ڈاکٹروں کے بدلے کوئی متبادل فراہم نہیں کیا گیا جبکہ شری امرناتھ یاترا بھی شروع ہونے والی ہے ۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔بعد ازاں پولیس اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ بانہال محمد نصیب کی مداخلت کے بعد صورتحال قابو میں آئی، جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد ہسپتال کے گیٹ سے تالہ ہٹا دیا گیا اور طبی خدمات بتدریج بحال کر دی گئیں۔دریں اثنا، ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ چار میڈیکل افسران اس وقت پوسٹ گریجویٹ کورسز کے لیے اسٹڈی لیو پر ہیں، جبکہ ایک تربیت یافتہ سونولوجسٹ کو ریڈیالوجسٹ کی چھٹی کے پیش نظر عارضی طور پر ضلع ہسپتال رامبن میں تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ماہر امراضِ نسواں (گائناکالوجسٹ) گزشتہ سال اکتوبر سے معطل ہے اور اسے ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز جموں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق اس وقت ہسپتال میں دو گائناکالوجسٹ، دو ماہر اطفال، ایک ریڈیالوجسٹ، ایک اینستھیٹسٹ، ایک سرجن، ایک آرتھوپیڈک کنسلٹنٹ، چھ میڈیکل افسران اور ایک بلاک میڈیکل آفیسر تعینات ہیں۔ڈاکٹروں کی کچھ کمی کے باوجود، حکام نے کہا کہ طبی خدمات جاری ہیں اور دستیاب ماہرین مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ منگل کے روز او پی ڈی میں 500 سے زائد مریضوں کے آنے کی اطلاع ہے۔