بانہال // ہفتے کی صبح سے ضلع ہسپتال رام بن کے تمام ڈاکٹراور پیرا میڈیکل سٹاف نے جمعہ کی رات نو بجے ایک سیاسی جماعت کے ڈی ڈی کونسلر رام بن اے اور بھارتیہ جنتا پارٹی عہدیدار کی طرف سے ڈیوٹی پر تعینات ایک ڈاکٹر کے ساتھ فون پر استعمال کی گئی ناشائستہ زبان اور تیماداروں کی طرف سے دست درازی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا اور ضلع ہسپتال رام بن میں ایمرجنسی سروسز کو چھوڑ کر تمام شعبے بند کر دیئے گئے ۔ضلع ہسپتال کے باہر احتجاج میں شامل ڈاکٹروں نے کہا کہ گذشتہ رات نو بجے ضلع ہسپتال رام بن میں سٹاف کی کمی کے باوجود تندہی سے اپنا فرض انجام دے رہے ایک ڈاکٹر کے ساتھ ایک مریض کے تیماداروں نے پہلے اپنے مریض کو دیکھنے کی ضد میں دست درازی کی اور بعد میں فون کا سپیکر آن کرکے ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار اور نومنتخب کونسلر کے ذریعے ناشائستہ زبان استعمال کی گئی ۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقع کے خلاف کاروائی کریں اور آئندہ ایسے واقعات پر روک لگائی جائے ۔ سنیچر دن کے تین بجے تک ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کے احتجاجی دھرنے کی وجہ سے ضلع ہسپتال رام بن کی تمام او پی ڈی بند تھی اور دور افتادہ پہاڑوں سے یہاں پہنچے مریضوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد ڈاکٹروں سے ملے بغیر ہی واپسی کی راہ لینا پڑی۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے ضلع ہسپتال رام بن کا دورہ کرکے وہاں احتجاجی ڈاکٹروں سے بات چیت کی اور ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کو ہسپتال پہنچے مریضوں کا واسطہ دیکر واپس اپنی ڈیوٹیوں پر جانے کیلئے رضامند کیا۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ وہ اس واقعہ اور ان کی مانگوں پر مناسب کاروائی کرینگے اور آئندہ ایسی کسی بھی حرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کی یقین دھانی کے بعد ضلع ہسپتال میں دن کے تین بجے سے معمول کا کام کاج دوبارہ بحال کیا گیا۔