سہیل سالم
سرسید رقم طراز ہے کہ ‘’’کسی قوم کے لیے اس سے زیادہ بے عزتی نہیں کہ وہ اپنی تاریخ کو بھول جائے اور اپنے بزرگوں کی کمائی کو کھودے۔‘‘اس دور کا شاید یہ المیہ ہے کہ بدلتے حالات اور نئے رجحانات نے زندگی کے گونا گوں مسائل اور مصروفیات میں مبتلا انساں کو اتنی مہلت ہی نہیں دی کہ وہ یادوں کے چراغ جلا کر اپنے حال کو روشن کرے اور اپنے ان مخلص بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کرے جو تاریخی اثاثے کے محافظ تھے، جنہوں نے تہذیب وثقافت اور زبان و ادب کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردی۔ایسی ہی ایک تاریخی ساز شخصیت ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ کی ہے۔انھوں نے پوری زندگی علم و حلم ،زبان و ادب کے فروغ میں لگا دی۔ایسی شخصیت پر بطور خراج عقیدت کچھ لکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
غالباً 2016 کی بات میں جب میں نے پہلی بار ان کا ایک کالم کشمیر عظمیٰ میں بہ عنوان ’’برصغیر کا پوسٹر بوائے‘‘پڑھا۔یہ کالم سیاسی موضوع پر مشتمل تھا لیکن فارسی اشعار سے مزین ۔اس کے بعد میں نے اکثر ان کو جموں کشمیر اردو کونسل کی نشستوں میں دیکھا بھی ہے اور ان کی مدبرانہ گفتگو سنی بھی ہے۔ جاوید اقبال 6 جنوری 1946 میں سرینگر میں تولد ہوئے ۔جاوید صاحب کا تعلق عملی گھرانے سے تھا ۔جاوید صاحب معروف عملی شخصیت پروفیسر سیف الدین کے فرزند تھے ۔میڈکل کالج سرینگر سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد برصغیر کے کئی علاقوں میں طبی فرائض انجام دیے ۔انھوں نے تین دہائیوں سے زائد وقت مشرق وسطیٰ میں گزارا۔ ایران سے واپس آنے کے بعد ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ نے سرینگر کے طاہرہ خانم پیرامیڈیکل سائنسز انسٹی ٹیوٹ میں ‘تعلیمی کنٹرولر اور کوآرڈینیٹر کا عہدہ سنبھالا اور اپنے آپ کو عملی کاموں میں مصروف رکھ دیا۔ ایران میں رہ کر انھوں نے فارسی ادب اور فارسی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا ۔ اسی لئے آپ کی تحریروں میں بیشتر فارسی اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں۔ڈاکڑ صاحب علامہ اقبال سے کا متاثر ہوئے نظر آتے ہیں ۔ایران سے واپسی کے بعد ڈاکٹر جاوید اقبال نے کالم نویسی شروع کردی ۔آپ نے انگریزی اور مقامی زبانوں کے اخبارات کے لئے مسلسل لکھنا شروع کیا جن میں گریٹر کشمیر، کشمیر عظمٰی ، کشمیر ٹائمز، رائزنگ کشمیر ،کشمیر ریڈر اور آفتاب قابل ذکر ہے۔ڈاکٹر جاوید اقبال شاہ کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی ،آپ ایک معالج مفکر ،عالم ،مورخ اور نظر شناس کے علاؤہ انسانیت کے علم بردار تھے ۔ آخری بار 12اکتوبر 2024کو فکشن رائٹرس گلڈ کی 310 نشست میں ان کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔اس نشست میں انھوں نے بین الاقوامی ادب اور مقامی ادب کی تاریخ پر عالمانہ انداز میں اپنی بات رکھ۔ڈاکٹر جاوید اقبال کو کشمیر زبان و ادب کی تاریخ پر بھی کافی دسترس حاصل تھی ۔ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں Profile &Pen Portraitsمشہور ہے جو کہ برصغیر کی سیاسی حالات پر مبنی ہے۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کالموں میں سیاسی ،ادبی سماجی ،مذہبی اور اقتصادی نظام پر طنز و مزاح کے تیر بھی چلائے ہیں۔آپ نے زندگی سے وابستہ مسائل کو اپنی کالم نگاری کا موضوع بنایا ہے۔اپنے کالموں میں ہمیشہ اپنی علمی فکر کو فروغ دینے کی کوشش کی ۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے ہمیشہ محبت و اخوت کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ،دشمنی کے راستے سے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش بھی کی ، اپنے دشمنوں کو بھی دوستی کے پیغام سے نوازتے رہیں ۔ان کے احباب کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ بقول شفیع احمد،’’میرا پہلا رابطہ ڈاکٹر جاوید اقبال سے 2012 میں ہوا جب میرا پہلا ناول The Half Widow (آدھی بیوہ) شائع ہو رہا تھا۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ میں کتاب کے لیے تبصرے کی غرض سے اس قابل احترام دانشور(ڈاکٹر جاوید اقبال)سے رابطہ کروں۔ جو ایک عام ملاقات کے طور پر شروع ہوا وہ جلد ہی گرم جوشی، احترام اور سیکھنے کے رشتے میں بدل گیا۔ اس دن کے بعد، میں انہیں نہ صرف غیر معمولی گہرائی کے عالم کے طور پر جاننے لگا بلکہ ایک ایسے رہنما کے طور پر بھی جس کی رہنمائی خلوص، شفقت اور دوسروں کے لیے حقیقی فکرمندی سے عبارت تھی۔‘‘
ڈاکٹر جاوید اقبال کا مطالعہ کافی وسیع تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ آپ خاصے پڑھے لکھے معالج، ادیب ،مفکر اور مورخ تھے۔انہوں نے دنیا کے مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے ادب کے علاوہ تاریخ اور سیاست کا بھر پور مطالعہ بھی کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں سماج سے وابستہ موضوعات پر کافی عبور حاصل تھا۔ان کا دل سخی اور نرم تھا ۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی میں کبھی بھی مذہب ، فرقوں یا ذات پات کے نام پر لوگوں کو تقسیم نہیں کیا۔ ان کے کالموں میں وادی کشمیر کی اندرونی و بیرونی صورت حال مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے۔ الغرض دو سال قبل ایک مہلک مرض میں گرفتار ہو کر آخر کار 4 جون2026 کو کشمیر کا یہ معالج ،مورخ ،مفکر اور علم و ادب کا دریا اپنے سمندر سے مل گیا ۔بقول احمد ندیم قاسمی؎
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤں گا
(رابطہ۔ 9103930114)