اٹیچ اساتذہ کو دفاتر سے ہٹا کر سکولوں میں واپس بھیجنے کی ہدایت،عدم تعمیل پر تادیبی کارروائی کا انتباہ
محمد تسکین
بانہال// صوبہ جموں کی وادی چناب کے پہاڑی اضلاع ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن میں سرکاری تعلیمی نظام شدید تشویش کا باعث بنا ہوا ہے اور سینکڑوں سرکاری سکول ہزاروں غریب اور پسماندہ بچوں سے بھرے ہوئے ہیں تاہم اساتذہ کی شدید قلت کے باعث تعلیمی سرگرمیاں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ وادی چناب کے پہاڑی علاقوں میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیمی نظام ابتر صورتحال سے دوچار ہے جس کی ایک وجہ اساتذہ کو ان کے بنیادی فرض یعنی تدریسی عمل سے ہٹا کر دفتری اور غیر تدریسی کاموں میں لگانا بتایا جا رہا ہے۔جانکار ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں مبینہ طور پر درجنوں منظورِ نظر اساتذہ رشوت اور سیاسی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر سکولوں میں پڑھانے کے بجائے مختلف سرکاری دفاتر، سیلوں میں اٹیچمنٹس پر تعینات ہیں اور اسکا خمیازہ ان اسکولوں کے طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے جہاں پہلے ہی تدریسی عملہ ناکافی ہے۔صوبہ جموں میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جموں اور اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے گزشتہ برس جولائی میں غیر تدریسی تعیناتیوں کے خاتمے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، تاہم مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث حالیہ دنوں ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں ڈاکٹر نسیم جاوید چودھری کو ایک بار پھر سخت ہدایات جاری کرنا پڑی ہیں۔ 6جنوری 2026کو جاری تازہ سرکلر میں تمام چیف ایجوکیشن آفیسران اور زونل ایجوکیشن آفیسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں تعینات تمام اساتذہ کو فوری طور پر دفتری ذمہ داریوں سے فارغ کر کے ان کی اصل جائے تعیناتی یعنی سکولوں میں واپس بھیجیں جبکہ اس حکم میں اساتذہ کو کلریکل اور دفتری کاموں میں لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں ڈاکٹر نسیم جاوید چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسران ایسے اساتذہ کی تنخواہیں بند کریں گے اور قصوروار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ وادی چناب کے ہی پہاڑی ضلع رام بن کے بانہال، کھڑی، اکھڑال، پوگل پرستان، رامبن، گول اور بٹوٹ زونوں میں کئی اساتذہ کو یو-ڈائس، سکالرشپ، بھیم، سماگرا اور دیگر سکیموں کے علاوہ الیکشن سیلوں میں تعینات کیا گیا ہے اور بعض سرکاری اساتذہ کا الزام ہے کہ یہ تعیناتیاں چند افسران کے مفادات کے تحت کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اس نوعیت کے متعدد احکامات جاری ہو چکے ہیں، مگر زمینی سطح پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث صورتحال جوں کی توں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کے اس حکمنامے سے عام لوگ اور والدین خوش ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کیا کہ حالیہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ وادی چناب کے سرکاری سکولوں میں تدریسی عمل بحال ہو اور غریب بچوں کو ان کا بنیادی تعلیمی حق مل سکے۔اس بارے میں بات کرنے پر محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کے احکامات پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کلریکل سٹاف کی کمی کے باعث بعض اوقات عارضی طور پر اساتذہ سے خدمات لی جاتی ہیں، تاہم ایسے اساتذہ کو واپس سکولوں میں بھیجنے کے احکامات وادی چناب کے چیف ایجوکیشن افسروں نے پہلے ہی جاری کئے ہیں۔