نئی دہلی// وزارت دفاع نے مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے معاہدے پر کانگریس کے سینیئر رہنما راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان نے اس معاہدے میں چین کو کوئی زمین نہیں دی ہے اور ابھی کچھ زیر التواء مسائل ہیں جن کا حل ہونا باقی ہے ْ۔ قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ میں وزیردفاع راجناتھ سنگھ کی جانب سے مشرقی لداخ کی صورتحال پر بیان دیے جانے کے بعد مسٹر گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں اس معاہدے کے حوالے سے پانچ سوال اٹھائے اور الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے اپنی زمین دے دی ہے ۔ وزارت دفاع نے جواب دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان نے کوئی زمین نہیں دی ہے ۔ اس کے برعکس اس نے ایل اے سی پر نگرانی اور اس کی پاکیزگی قائم رکھنے پر زور دیا ہے اور اسٹیٹس کو میں تبدیلی کی کوششوں کو روکا ہے ۔ اس نے کہا ہے کہ یہ کہا جانا کہ ہندوستانی خطے فنگر چار تک ہے پوری طرح غلط ہے کیونکہ ہندوستان کے نقشے کے مطابق چین نے 1962 سے ہندوستان کے 43 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔ وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان کے نظریہ کے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) فنگر چار پر نہیں فنگر آٹھ پر ہے اور اس لیے ہندوستانی فوج نے فنگر آٹھ تک گشت کرنے کا حق قائم رکھا ہے ۔وزارت دفاع نے کہا ہے کہ پیگونگ جھیل پر دونوں فرقی کی مستقل چوکی لمبے عرصے سے اور پوری طرح قائم ہے ۔ ہندوستان کی جانب سے یہ چوکی فنگر تین کے قریب دھن سنگھ تھاپا چوکی اور چین کی جانب فنگر آٹھ کے مشرق میں ہے ۔ موجودہ معاہدے میں فریقین نے عبوری محاذوں پر فوجی تعینات نہ کرنے کی بات مانی ہے لیکن ساتھ ہی یہ طے کیا ہے کہ ان مستقل چوکیوں پر وہ اپنے فوجی تعینات کریں گے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع کے بیان میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ڈاٹ اسپرنگ، گوگرا اور دیپسانگ سمیت کچھ علاقوں سے متعلق مسائل ابھی زیر التواء ہیں اور ان پر اگلے دور کے مذاکرے میں بات ہونی ہے ۔ حکومت نے فوج پر مکمل یقین کا اظہار کیا جس کے سبب مشرقی لداخ میں ملک کی اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کی گئی ہے اور اگر کوئی فوج کی حصولیابی پر شبہ ظاہر کرتا ہے تو یہ شہیدوں کی قربانی کی بے حرمتی ہے ۔(یو این آئی)