سکھ کارڈنیشن کمیٹی نے شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ دہرایا
سرینگر// آل پا رٹی سکھ کارڈنیشن کمیٹی نے کہا ہے کہ اکیس سال گذرجانے کے باوجود چھٹی سنگھ پورہ میں مارے گئے35 سکھ کنبوں کو ابھی تک انصاف نہیں ملاہے۔ بیان میں سکھ کارڈنیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینہ نے کہا21 سال گذر جانے کے باوجودانصا ف میں تاخیر کی وجہ سے سکھ طبقہ مایوس ہوچکا ہے۔جگموہن سنگھ رینہ نے کہا مقامی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیاہے۔رینہ نے کہا کہ کہ موجودہ سسٹم میں ہمیں انصاف فراہم ہونے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے لیکن ہم یہ مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہو تاکہ حقیقت سامنے ا سکے۔انہوںنے کہا کہ میں یہ بات سمجھنے میں ناکام ہو رہا ہوں کہ ایسی کونسی بات تھی کہ ریاستی یا مرکزی حکومت 35سکھوں کے قتل عام کی تحقیقات کرانے میں سنجید ہ کیوںنہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ با ت سامنے آچکی ہے کہ پتھری بل میں پانچ عام شہری مارے گئے تھے اور فوج کا وہ دعویٰ کہ پانچ غیر ملکی جنگجو جو 36سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے ،مارے گئے ، غلط ثابت ہوا ہے ،تو چھٹی سنگھ پورہ کے قتل عام کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا ’’ لوگوں کا جمہوری نظام ، اس کی سیاست اور فوجی انصاف پر اعتماد اٹھ چکا ہے ،ہم نے پہلے بھی داخلہ سکریٹری حتیٰ کہ وزیراعظم کو تحریری طور پر یاداشتیں پیش کی تھی کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائے لیکن کہیں سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ رینا نے مر کزی اور ریا ستی سرکار سے مطا لبہ کیا کہ وہ اس کیس کی از سر نو تحقیقات کر یں اور اصل مجر موں کو انصا ف کے کٹہر ے میں لائیں۔ انہوںنے کہا کہ تب تک وادی میں مقیم سکھوں کو چین نہیں ا ٓئے گا جب تک نہ اس واقعہ میں ملوث افرد کو واقعی سزا نہیں دی جائے گی۔ جنوبی کشمیر کے چھٹی سنگھ پورہ میں35 سکھوں کے قتل عام کی21بر سی کے موقعہ پر جموں کشمیر سکھ کارڑ نیشن کمیٹی کے چیر مین جگ موہن سنگھ رینہ نے کہاکہ قتل عام کی شفاف تحقیقات تک سکھ رقے کے لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوںنے کہا آج بھی ہم پھر ایک بار شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔اس واقعہ کے اصل حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس قتل عام کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ رینہ نے بتایا ہمار شک کا دائرہ آج بھی جاری ہے اور تب تک رہے گا،جب تک نہ اس وقعے کی مکمل شفاف تحقیقات نہ کی جائیں۔ کارڑنیشن کمیٹی کے چیر مین نے بتایا’’پاندان کمیشن کو بھی انکوائری ہونے نہیں دی گئی جبکہ فوجی عدالت میں اس کیس کو پلٹ دیا گیا ہے‘‘جگ موہن سنگھ رینہ نے بتایا اس درد ناک واقعے کے بعد یہاں سے لوگوں کی ایک بڑی تعدادگاؤں سے ترک سکونت کا ارادہ کیا،تاہم مسلمانوں نے جس انداز سے اس وقت اور آج بھی جو رول نبھا یا ہے وہ ہمارے لئے سب سے اہم ہے اور رہے گا۔ انہوں نے بتایااس قتل عام کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ ہم آخری دم تک کرتے رہیں گے۔
حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں: نیشنل کانفرنس
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے 21ویں برسی کے موقعے پر پر مارے گئے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور اس گھنائونے واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کی اقلیتی سیل کے آرگنائزر جگدیش سنگھ آزاد نے 2000میں آج ہی کے روز چھٹی سنگھ پورہ میں 35بے گناہ سکھوں کو سفاکانہ اور وحشیانہ طریقے سے ابدی نیند سلا دینے کو ایک سیاہ دن قرار دیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کے اصل حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے مارے گئے افراد کے پسماندگان کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔