عظمیٰ نیوزسروس
اننت ناگ/ / جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے چھترگل شانگس علاقے کے نالہ چھوٹی ہال میں اتوار کو بادل پھٹنے کے باعث اچانک سیلاب آ گیا، جس سے زرعی اراضی، سیب کے باغات، رہائشی مکانات اور رابطہ سڑکوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔واقعے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کیں تاکہ نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے اور امدادی و احتیاطی اقدامات شروع کیے جا سکیں۔مقامی لوگوں کے مطابق سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، دھان کی فصلیں تباہ ہو گئیں جبکہ سیب کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ متاثرین نے حکومت سے فوری طور نقصانات کا سروے کرا کے مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی باشندے منظور احمد خان نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے کسانوں کی روزی روٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق شدید بارش کے بعد آنے والے سیلاب نے دھان کے کھیتوں اور باغات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ سیب کے درختوں اور فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ کسانوں کو فوری معاوضہ دیا جائے۔منظور احمد خان نے کہا کہ سیلاب کے دوران پانی گھروں اور مسجد میں داخل ہوگیا، جس کے باعث لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے لوگ محفوظ رہے، لیکن ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔ایک اور مقامی شہری رئیس احمد نے بتایا کہ شام تقریباً سات بجے بادل پھٹنے کے بعد پہاڑوں سے آنے والے ریلے نے مقامی نالے کا رخ موڑ دیا، جس سے دھان کے کھیت، باغات اور متعدد مکانات زیر آب آ گئے۔ ان کے مطابق کئی خاندانوں کو راتوں رات اپنے گھر خالی کرنے پڑے کیونکہ پانی تیزی سے گھروں میں داخل ہو رہا تھا۔رئیس احمد نے مزید بتایا کہ چھت پال کی جانب سے آنے والے سیلابی پانی نے مرکزی سڑک کا ایک حصہ بھی بہا دیا، جس سے علاقے میں آمدورفت متاثر ہوئی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر اننت ناگ سے اپیل کی کہ چٹّرگل، چکلی پورہ اور بریمر علاقوں میں زرعی اور باغبانی کے نقصانات کا زمینی جائزہ لے کر متاثرین کی فوری امداد کی جائے۔مقامی رہائشی اشفاق احمد خان نے کہا کہ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور آدھی رات تک لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں اور مساجد میں پناہ لینے پر مجبور رہے کیونکہ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو چکا تھا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باغات، مویشیوں، زرعی اراضی اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا فوری سروے کرایا جائے اور متاثرہ غریب خاندانوں کو بلا تاخیر مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ادھر ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ہنگامی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں اور نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مزید حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔