دمہ، بلغم اور چھاتی میں الرجی کیلئے نیوبلائزیشن بہتر
پرویز احمد
سرینگر //کشمیر میں موسم سرما کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد زکام، سردی اور بلغم کیلئے بھاپ اور نیوبلائزر(Nebulizer)کا استعمال کرتے ہیں لیکن طبی ماہرین دونوں طرز علاج کو احتیاط اور ضرورت کیمطابق استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ایک طرف جہاں نیوبلائزر دمہ، سی او پی ڈی اور چھاتی کے دیگر امراض میں مبتلا بچوں اور عمر رسیدہ افراد کیلئے موزون اور مناسب قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب بھاپ سردی سے پیدا ہونے والی کھانسی اور زکام میں راحت حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ مانا جاتا ہے۔ماہرین امراض چھاتی کا کہنا کہ بھاپ کا بغیر وجہ استعمال کرنا،چھاتی کے ٹشو میں چھالے پیدا کرسکتا ہے جبکہ نیولائزر کا بغیر ضرورت استعمال انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرسکتا ہے۔ وادی میں اسوقت شدید اور خشک سردی کا موسم ہے اورلوگ اکثر بھاپ اور نیوبلائزر کا استعمال کرتے ہیں۔
فرق
سٹیم( بھاپ) اور نیوبلائزیشن اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن وادی میں دونوں کو ایک جیسا ہی مانا جاتا ہے جبکہ دنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔بھاپ( سٹیم) ناک، گلے اور سینے کی جکڑن کو کم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ناک، گلہ اورسینے کی جکڑن یا سینے میں جمع بلغم کو نمی فراہم کرکے سٹیم سے نہ صرف بغلم کم ہوتا ہے بلکہ زکام، ناک بہنے اور سانس کی دیگر بیماریوں کی علامتوں کو کم کرنے میں بھی راحت دیتا ہے ۔ نیوبلائزرناک اور چھاتی کی مختلف بیماریوں جیسے دمہ، سی او پی ڈی اور دیگر امراض میں پہلے سے مبتلا مریضوں کی چھاتی کی نسیں کھول کر ان کو راحت پہنچاتا ہے۔نیوبلائزر، پانی کی شکل میں دستیاب ادویات منتقل کرتا ہے جو مریضوں کی چھاتی میں جاکر چھوٹی سے چھوٹی نسوں کوکھول دیتا ہے۔بھاپ( سٹیم) ایک طرف جہاں ضرورت کے حساب سے دیا جاتا ہے تو دوسری جانب نیولائزیشن صرف ڈاکٹری مشورے سے دینا چاہئے۔ سکمز صورہ میں شعبہ امراض چھاتی کے پروفیسر ڈاکٹر مدثر قادری کہتے ہیں کہ بظاہر لوگوں کو لگتا ہے کہ بھاپ( سٹیم) اور نیو بلائزیشن ایک ہی ہے لیکن اس میں بہت فرق ہے۔ ڈاکٹر مدثر نے کہا ’’ ناک اور چھاتی میں بلغم کئی وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے،سخت سردی اور جسم کو ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے ناک اور چھاتی میں جو جکڑن پیدا ہوتی ہے، اس کو بھاپ( سٹیم) دیگر کچھ حد تک کم کرسکتے ہیں لیکن وائرس سے پیدا ہونے والے زکام اور بلغم کو ادویات سے ہی ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹری ہی کرسکتا ہے کہ ناک بند اور سینے میں جکڑن کیوں ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں طرح کی صورتحال موسم سرما میں بزرگوں اور بچوں کو متاثر کرتی ہے کیونکہ بچوں اور عمر رسیدہ افراد میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا’’ سٹیم دیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھینا چاہیے کہ یہ زیادہ دو بار دیا جائے‘‘۔ ڈاکٹر قادری نے کہا کہ نیوبلائزیشن میں مخصوص بیماری کیلئے ادویات موجود ہوتی ہیں اور اسلئے ڈاکٹری مشورے کے بغیر نہیں دیا جانا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحت مند افراد سردیوں میںنیوبلائزیشن کریں تو اس سے ان کی معدافتی قوت کمزور ہوگی اور ان کی چھاتی میں مختلف بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبولائزر، دمہ، سی اوپی ڈی اور الرجی کے مریضوں مخصوص ادویات کے ساتھ دینا چاہئے کیونکہ نبولائزر د دائی کو گیس میں تبدیل کرکے پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے جس سے ان مریضوں کی چھوٹی نسیں جلدی کھل جاتی ہے اور ان کو راحت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دونوں میںانتخاب کرنا ہوگا تو سردی زکام والے مریضوں کیلئے سٹیم بہتر ہے۔