پچھلے ماہ راقم کو گورنمنٹ ویمن ڈگری کالج، کپوارہ، کشمیر کی اکائی برائے نفسیاتی راہنمائی و مشاورت کی طرف سے’’امید‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ اس گفتگو کے چند مندرجات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں۔
مشرقی معاشروں میں بالعموم اور مسلم معاشروں میں بالخصوص اگر کوئی جملہ اکثریت کا تکیہ کلام بنا رہتا ہے تو وہ ہے:’’امید پر دنیا قائم ہے‘‘، یہ جملہ کچھ اس طرح زبان زد عام رہتا ہے کہ لوگ شاذ و نادر ہی اس کے اندر چھپی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویسے بھی جو بات زبان زد عام ہوجائے اس کی عقلی اور نظری تحلیل اور تجزیے سے زیادہ اس کے عملی پہلووں پر ہی نظر جم جاتی ہے۔ وقتی ناکامی، حالات کی ستم ظریفی اور بے بسی کے گرداب سے نکلنے کی تگ و دو میں مصروف ایک مسافر کو اگر کوئی مقولہ یا جملہ ہمت و حوصلہ عطا کرسکتا ہے، تو وہ یہی ہے کہ "امید کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔
ہمارے معاشرے میں لفظ ’’امید‘‘ سے ایک اور رائے بھی جڑی ہوئی ہے یا جوڑ دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک معتدبہ طبقے کا یہ خیال بھی ہے کہ یہ لفظ فقط ایک تخیل ہے اور اس کا عملی دنیا کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ اس رائے کے مطابق دراصل کسی بھی معاشرے میں ایک ناکام اور شکست خوردہ طبقہ ضرور موجود رہتا ہے جو معاشرے میں اپنی مطابقت کھودینے کے بعد کسی طور پر اپنی سماجی شناخت کو بنائے رکھنے کے لئے اس لفظ کا سہارا لیتا ہے اور مستقبل میں کچھ انوکھا اور نرالا کرگزرنے کے خواب سجانے لگتا ہے۔ دراصل ان خوابوں کی تعبیر صرف اسی شخص کے ذہنی شاکلہ میں ہوتی ہے جو عام انسان کے لئے بہرحال ناقابل فہم اور طبقہ ناقد کے لئے ناقابل حصول!
تاہم یہ حقیقت ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ کوئی بھی عملی منصوبہ اصل میں انسان کے فکری سانچے کی پیداوار ہوتی ہے، جو ایک مجرد فکروخیال کی صورت میں ابھرتا ہے۔ اسی خیال کو جب ایک مصمم ارادے کی قوت فراہم ہوتی ہے تو عملی دنیا میں اپنے بال و پر نکالنا شروع کرتا ہے۔ اس خیال کو ہم خواب کا نام بھی دے سکتے ہیں بشرطیکہ یہ خواب، بقول اے- پی۔ جے- عبد الکلام، ہم سوتے میں نہ دیکھیں بلکہ یہ خواب ہمیں سونے نہ دے! اس طرح یہ خیال فکر کی زمین میں ایک بیج کی طرح پڑتا ہے اور پختہ ارادے کی آب و ہوا سے نشوونما پاکر عمل کی دنیا میں برگ و بار لاکر نخلستان امید کو سر سبز و شاداب کرتا ہے! اس طرح ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ امید کوئی مجرد تخیل نہیں ہے بلکہ یہ چند شرائط کے ساتھ مثبت عمل کی ایک بنیاد فراہم کرتی ہے۔
فکر و خیال کس صورت میں عملی اور مادی دنیا کی شکل اختیار کرتا ہے، اس کی نظیر ہمیں فلاسفہ کے ہاں بھی ایک خاص انداز میں ملتی ہے۔ یہاں پر ہمارے ذہن میں فلسفہ کے استاذ اول، ارسطو کا یہ جملہ آتا ہے جو اسنے’’محرک اول‘‘ Prime Mover" کے متعلق کہی ہے۔ ارسطو کے مطابق ’’محرک اول دراصل ایک فکر ہے جو اپنے آپ میں محو فکر ہے‘‘؛ یعنی!Thought Thinking Itself" اسی فکر کو نوافلاطوفی فلاسفہ (Neoplotonists) نے ایک اور جہت دی۔ ان کے مطابق مادی دنیا کی "محرک اول" سے تخریج (Emanation) ہوئی ہے۔ اگرچہ کئی ایک مسلم فلاسفہ، جن میں الغزالی اور ابن تیمیہ قابل ذکر ہیں، نے اس فلسفے کا رد کیا ہے، لیکن یہاں پر ہم یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ فکر صرف ایک مجرد خیال نہیں ہوتی۔ فکر دراصل عملی دنیا میں ٹھوس حقائق کے ایک بحر ناپیدا کنار کو منصہ شہود پر لانے کا سبب بنتی ہے۔
اس طرح یہ بات مترشح ہوجاتی ہے کہ جب امید ایک مثبت خیال کے طور پر دماغ میں جگہ بنالیتی ہے اور جب دل ایک مضبوط ارادے سے اس خیال کی تائید کرتا ہے تو انسان اپنے سامنے عمل کی ایک لامحدود دنیا کھڑی پاتا ہے۔ امکانات کی دنیا میں امید کا سہارا لیکر انسان کس طرح وقتی ناکامیوں کے علی الرغم اپنی جگہ بنا لیتا ہے، انسانیت کی تاریخ میں اس کی ایک سے بڑھکر ایک مثالیں پائی جاتی ہیں۔ البتہ ہمت شکن حالات و واقعات میں کسی صورت بھی اپنی صلاحیتوں اور موجودہ مواقع پر شک نہیں کرنا چاہئے، کیوں کہ شک ہمت کو توڑکر انسان کو مایوسی کا شکار کرتا ہے۔ اور جب ’’کفر ‘‘کے معنی’’ انکار‘‘کےہی ہیں تو’’مایوسی‘‘ واقعی کفر قرار دی گئی ہے کیوں کہ مایوسی سر تا سر اصل میں تمام حقائق اور ممکنات سے انکار کا ہی دوسرا نام ہے۔
امید کس طرح انفرادی طور پر اور اجتماعی سطح پر انسانی معاشرے کی فلاح و صلاح کا باعث بنتی ہے، اس کا اندازہ ہم چند تاریخی طور پر کامیاب شخصیات کی زندگی کے مطالعے سے کرسکتے ہیں۔ تاہم یہاں پر ہم صرف چند شخصیات کی کامیابی طرف اشارہ کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخصیت ٹامس ایلوا ایڈسن کی ہے جن کو ان کے اساتذہ سمجھنے سے قاصر رہے۔ تاہم ایڈسن کی والدہ نے اپنے بیٹے کے اندر چھپی صناعیت سے بھر پور صلاحیتوں کو بہت جلد بھانپ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈسن جدید دنیا کی راہوں کو روشن کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اے۔ پی۔ جے۔ عبدل الکلام بھی کچھ اسی طرح کی شخصیت کے مالک رہے ہیں۔ ہندوستان کے جنوبی ساحلی دیہات کے رہنے والے عبد الکلام بوقت سحر سمندری لہروں کے مناظر سے محظوظ ہوکر ریاضی میں اپنے استاد سے سبق لیتے تھے اور اس طرح "ہندوستان کے رجل میزائل" (Missileman of India) بننے میں کامیاب ہوئے۔ اس فہرست کی ایک اور شخصیت سالم علی ہیں جنہیں ’’ہندوستان کا رجل طائر‘‘
(Birdman of India)
کا خطاب دیا گیا۔ سالم علی بچپن میں ہی یتیم ہوئے تھے اور ایک شوقیہ شکاری بن کر اپنے دن گزارنے لگے تھے۔ ایک دن سالم نے ایک نرالی رنگین چڑیا کو شکار کے دوران زخمی کردیا۔ اس چڑیا کو Bombay Natural History Society پہنچایا گیا۔ اتفاقا" یہ چڑیا سوسائٹی کے رکن، امیر الدین نے سالم علی کو علاج کے دوران دکھائی۔ سالم پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اس نے جیسے شکار سے توبہ کرلی۔ اس کے بعد W. S. Millard، جو سوسائٹی کے سیکریٹری تھے، نے سالم علی کی توجہ سنجیدگی کے ساتھ طیوریات ( Ornithology) کی طرف پھیر دی۔ اس طرح سالم علی پرندوں کا سنجیدہ مطالعہ کرنے لگے۔ برسوں پر محیط یہ مطالعہ دس جلدوں پر مشتمل Handbook of Birds of India and Pakistan کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اس دائرت المعارف نے سالم علی کو ہندوستان کا دوسرا، پدما وبھوشن اور تیسرا، پدما بھوشن شہری اعزاز دلوایا۔ آج ہم ہندوستان کے مختلف گوشوں میں سالم علی کے نام کی مختلف Bird Sanctuaries دیکھتے ہیں، جو سالم علی کی پرندوں کی تلاش و تحقیق میں کی گئی دشت نوردی کی گواہ ہیں۔
ان چند مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ "من جد وجد، یعنی جو تلاش کرتا ہے وہ پاتا ہے" کے اصول کے تحت ہر پرامید شخص جب اپنی کوشش و سعی جاری رکھتا ہے تو وہ ضرور اپنی منزل مقصود کو پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح ہر اس شخص کو جسے عروج کی تمنا ہو، کو امید کا دامن تھامے رکھنا چاہئے۔ یہ بات ہر اس طالب علم کے لئے بدرجہ اتم ضروری ہے جو کسی وجہ سے اپنے طالب علمی کے زمانے میں اپنا مقرر شدہ ہدف حاصل نہ کرپایا ہو، اور اسے اپنے واسطے ایک نئی منزل کا تعین کرنا پڑا ہو۔ البتہ مقرر شدہ منزل کی تلاش میں کسی بھی اخلاقی اصول اور معاشرتی قدر کو پامال کیے بغیر اپنی راہ پر گامزن رہنا چاہئے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی ایک بڑی کاروباری شخصیت اور رفاہی کارکن، عظیم ہاشم (پریم جی) کا ایک مقولہ مستحضر رکھنا چاہئے کہ ’’اعلی نظریہ ایک مینارہ نور کی مانند ہوتا ہے، اگر اعلی نظریہ منزل کا تعین کرتا ہے، تو اخلاقی اقدار اس کی حد بندی کرتی ہیں‘‘۔
تاہم ہر پرامید شخص کو شجر علم سے پیوستہ رہ کر ہی اپنی منزل کی تلاش جاری رکھنا چاہئے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کیوں کہ علم کے ساتھ منسلک رہ کر ہی فکر تازہ رہتی ہے اور ارادہ مصمم! شاہراہ عمل پر بھی علم ہی کی بدولت سعی پیہم رہتی ہے اور نظریں منزل مقصود پر مرکوز رہتی ہیں۔ یہی چیزیں اس بیج بونے والے کاشتکار کے ملحوظ نظر ہوتی ہیں جب وہ دانے کو مستقبل میں ہونے والی پھوار کے سہارے زمیں میں دفنا دیتا ہے۔ خزاں میں پودوں کی شاخ تراشی کرنے والا محنت کش بھی آنے والی بہار کی امید لگاکر ہی میوہ بردار درختوں کو سنوارتا ہے۔ اور تو اور اسی علم اور امید کے سہارے ہی ایک ماں اپنے شیر خوار بچے کو اپنی چھاتی سے لگاتین ہے اور ایسے خواب سجاتی ہے جن کی تعبیر دہائیوں کے بعد متوقع ہوتی ہے!۔
کشمیر کے قومی صوفی، شاعر اور مبلغ، شیخ نور الدین ؒنے اس سوچ کو اپنے خاص انداز میں اس طرح ادا کیا ہے:
ان تیز و تند ہواوں کے بیچ (علم و عمل) کا
چراغ کون جلائے رکھے؟
ایسے شخص کو یہ چراغ علم اور دین کے روغن
سے روشن رکھنا ہوگا!
(اور) توہمات سے بچکر حقائق پر چلنا ہوگا!
(اس صورت میں) الف۔ لام۔ میم۔ کا علم اس کی
کفایت کرے گا!
(مضمون نگار ڈگری کالج کوکرناگ میں اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ9858471965
ای میل-alhusain5161@gmal
��������������