بارہمولہ // رفیع آباد بارہمولہ کے متعدد دیہات پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جس کی وجہ سے مقامی آبادی کوگوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ چکلہ ، بنر اور نادی ہل کے علاوہ متعد دیہات کے لوگوں نے جل محکمہ شکتی پر الزام عائد کر تے ہوئے بتا یا کہ محکمہ ہذا کے افسران کی عدم توجہی سے پانی کی سپلائی بُری طرح سے متاثر ہے اور لوگ پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں بلکہ لوگ اب ناصاف پانی پینے کیلئے مجبور ہیں۔بستی کے ایک باشندے سجاد احمد نے بتایا کہ پانی کی قلت نے ان کی زندگی اجیرن بنا کے رکھ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ پچھلے کئی ہفتوں سے پینے کے پانی سے محروم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی بار متعلقہ حکام کو بستی نے اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا لیکن مایوسی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقہ میں نصف صدی پہلے بچھائی گئی پائپ لائن بوسیدہ اور ناکارہ ہوچکی ہے اور آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کی وجہ سے علاقے تک پانی کی سپلائی پہنچنا محال بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو پانی حاصل کرنے کیلئے دور دور تک جانا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ا گرچہ کئی سکیموں پرکام شروع کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر کام کو ادھورا چھوڑاگیا جس سے ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔ لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پانی کی سپلائی میں بہتری لائی جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔